التکاثر : ٤-٣ میں فرمایا : یقیناً تم عنقریب جان لو گے۔ پھر یقیناً تم عنقیرب جان لو گے۔
التکاثر : ٣ اور التکاثر : ٤ کے محامل
فراء نے کہا : ان آیتوں کا منی ہے : جن چیزوں پر تم تفاخر اور تکاثر کر رہے ہو وہ کوئی قابل فخر چیزیں نہیں ہیں اور عنقریب تم ان پر فخر کرنے کا انجام جان لو گے، آیت : ٤ میں پھر اس کو تاکید کے لئے دوبارہ ذکر فرمایا۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : آپ : ٣ کا معنی یہ ہے کہ عنقیرب تم جان لو گے، اس تفاخر کا جو عذاب قبر میں نازل ہوگا اور آیت : ٤ کا معنی یہ ہے کہ عنقریب تم جان لو گے، اس تفاخر کا جو عذاب آخرت میں نازل ہوگا۔
ایک قول یہ ہے کہ التکاثر : ٣ کا معنی ہے : عنقریب جب تم موت کے وقت عذاب کا مشاہدہ کرو گے تو جان لو گے کہ میری دعوت برحق تھی، اور آیت : ٤ کا معنی ہے : عنقریب جب تم کو موت کے بعد زندہ کیا جائے گا تو تم جان لو گے کہ میرا پیغام برحق تھا۔ ایک اور قول یہ ہے کہ جب فرشتے تمہاری روح قبض کریں گے تو تم میرے پیغام کا صدق جان لو گے اور دوسری آیت کا معنی ہے : جب تم کو قبر میں دفنایا جائے گا اور منکر نکیر تم سے سوال کریں گے تو تم کو میرے قول کی صداقت پر یقین آجائے گا۔ ایک اور قول یہ ہے کہ قیامت کے دن تم کو اپنے دوبارہ زندہ کئے جانے پر یقین آجائے گا اور دوسری آیت کا معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن تم کو اس پر یقین آجائے گا کہ تم کو عذاب دیا جائے گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ ان آیتوں میں کفار سے خطاب فرمایا ہے۔