Site icon اردو محفل

كَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡيَقِيۡنِؕ سورۃ نمبر 102 التكاثر آیت نمبر 5

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡيَقِيۡنِؕ ۞

ترجمہ:

ہرگز نہیں ! کاش ! تم علم یقین کے ساتھ اپنا انجام جان لیتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہرگز نہیں ! کاش تم علم یقین کے ساتھ اپنا انجام جان لیتے۔ بیشک تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے۔ پھر تم ضرور عین الیقین کے ساتھ دوزخ کو دیکھو گے۔ پھر تم سے ضرور اس دن نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔ (التکاثر :5-8)

” علم الیقین، عین الیقین “ اور ” حق الیقین “ کی تعریفیں

اس آیت کا معنی ہے : تم مال کی کثرت پر فخر نہ کرو کیونکہ تم اکو اس فخر کرنے پر آخرت میں عذاب دیا جائے گا اور یہ جو فرمایا ہے : کاش ! تم علم الیقین کے ساتھ اپنا انجام جان لیتے، اس کا جواب محذوف ہے یعنی اگر آج تم آخرت میں اپنے عذاب کو جان لیتے تو مال و دولت پر فخر کرنا چھوڑ دیتے۔

کسی خبر کو سن کر یا دلائل میں غور و فکر کرنے سے یقین حاصل ہو، اس کو علم الیقین کہتے ہیں اور کسی چیز کو دیکھ کر جو یقین حاصل ہو اس کو عین الیقین کہتے ہیں اور تجربہ سے جو یقین حاصل ہو، اس کو حق الیقین کہتے ہیں۔

ہم کو جو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر یقین ہے، وہ علم الیقین ہے، اور صحابہ کرام کو جو آپ کی نبوت پر یقین تھا، وہ عین الیقین تھا اور آپ کو جو اپنی نبوت پر یقین تھا، وہ حق الیقین تھا۔

دوزخ کو دیکھنا کفار کے ساتھ خاص ہے یا مئومنین بھی دوزخ کو دیکھیں گے ؟

تبیان القرآن سورۃ نمبر 102 التكاثر آیت نمبر 5

Exit mobile version