اعلیٰ حضرت کے اعلیٰ حضرت اور مسئلۂ ایمانِ ابی طالب
بعض لوگ عدم تحقیق کے سبب عجلت میں یہ دعویٰ کر بیٹھتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے استاذ علامہ سید احمد بن زینی دحلان مکی جو خود اعلیٰ حضرت کا درجہ رکھتے ہیں ان کا موقف جناب ابی طالب کے بارے ایمان کا ہے۔ اور دلیل میں علامہ مکی کی طرف منسوب کتاب اسنی المطالب کو بطور حوالہ پیش کرتے ہیں۔ جبکہ مدعیانِ ایمانِ ابی طالب اگر علامہ مکی سے منسوب اس کتاب کا مکمل نام ہی پڑھ لیتے تو انکو یہ مغالطہ ہرگز نہ ہوتا۔
کتاب کا مکمل نام “اسنی المطالب فی نجاۃ ابی طالب” ہے۔
اہلِ تحقیق پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ایمان اور نجات کے معانی میں واضح فرق ہے۔ ایمان کا تعلق دنیا میں اقرار و اظہارِ اسلام کے ساتھ ہے جس کی شہرت ہو اور نجات کا تعلق آخرت سے ہے۔
یہ بات پختہ دلائل سے ثابت ہے کہ علامہ مکی کا ایمانِ ابی طالب کے بارے موقف جمہور کے موافق عدمِ ایمان کا ہے۔
لطف کی بات یہ ہے کہ علامہ مکی سے منسوب جس کتاب کو لوگ ایمانِ ابی طالب کی بین دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں اسی کتاب میں ایمانِ ابی طالب کا انکار موجود ہے۔
والحاصل انه یصح الاخبار عنه الکفر بالنظر للظاھر الحال واحکام الدنیا (اسنی المطالب ص 85)
اور حاصلِ کلام یہ ہے کہ ابی طالب کے کفر پر صحیح اخبار وارد ہیں جو شریعت کے ظاہری حال اور احکامِ دنیا کے عین مطابق ہیں۔
نوٹ؛ اس کتاب کا اردو ترجمہ مشہور تفضیلی صائم چشتی فیصل آبادی نے کیا اور موصوف نے کمالِ ہنر مندی سے اس عبارت کا ترجمہ ہی نہیں کیا۔ پوری عبارت ہی حذف کر گئے۔ اور عموماً یہی اردو ترجمہ دیکھ کے علامہ مکی کا موقف مکمل ایمان مانتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔
مزید علامہ مکی کی مستند تصنیف السیرۃ النبویہ جلد اول کے تفصیلی مطالعے سے علامہ مکی کا موقف آئینے کی طرح شفاف نظر آتا ہے جس میں انہوں نے جا بجا جمہور کے عدمِ ایمانِ ابی طالب کے موقف کی بھر پور تصدیق و تائید کی ہے۔
قال الحافظ ابن الحجر؛ قد اکثر فی ھذہ الجزء من الاحادیث الواھیۃ الدالۃ علی اسلام ابی طالب ولا یثبت شیئ من ذلک واستدل لدعواہ بما لا دلالۃ فیه والحاصل ان مذہب اھل السنۃ من المذاھب الاربعۃ عدم اسلامه و انقیاد علی ما نطق القرآن و جاءت به السنۃ وان کان عندہ تصدیق قلبی بنبوته فان ذلک غیر نافع بدون انقیاد ظاہری (السیرۃ النبویہ ص 91)
حافظ ابن حجر نے کہا؛ وہ اکثر روایات جو ابی طالب کے اسلام پر دلالت کرتی ہیں وہ درست نہیں ان سے کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ حاصلِ بحث یہ کہ مذہبِ اہل سنت میں مذاہبِ اربعہ (حنفی،مالکی،شافعی،حنبلی) کا فیصلہ وہی ہے جو قرآن اور سنت سے ثابت ہے کہ ابی طالب ایمان نہیں لائے۔ اگر وہ دل میں حضور کی نبوت کی تصدیق کرتے بھی تھے تو بغیر ظاہری اظہار و اعلان کے یہ تصدیقِ قلبی آخرت میں نفع بخش نہیں۔
ان الاحادیث الصحیۃ الثابتۃ فی البخاری وغیرہ قد اثبتت لابی طالب الوفاۃ علی الکفر (السیرۃ النبویہ ص91)
بخاری اور دیگر کتبِ احادیث میں صحیح احادیث سے ثابت ہوچکا ہے کہ ابی طالب کی وفات کفر پر ہوئی۔
والحاصل انه ظاھر النصوص الشرعیۃ من الآیات القرآنیۃ و الاحادیث النبویۃ کلھا تدل علی انه مات علی کفرہ، وانه کان عندہ تصدیق بالنبی ولکن عندہ عدم انقیاد و استسلام فلم ینفعه تصدیقه (السیرۃ النبویہ ص95)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ شرعی نصوص جو قرآنی آیات اور احادیث نبوی پر مشتمل ہیں سب اس بات پر دلالت کرتے ہیں ابی طالب کی موت کفر پر ہوئی اور اگر وہ دل میں نبی کریم کی تصدیق رکھتے تھے تو اسلام کے اعلان کے بغیر یہ تصدیق انہیں آخرت میں نفع نہیں دے گی۔
لو ظھر لھم اسلامه لعادوہ و قاتلوہ مع النبی ولما تمکن من حمایته والدفع عنه فجعل اللہ ظاھر حاله کحال آبائھم و انجاہ فی باطن الامر لکثرۃ نصرته للنبی و حمایته له مدافعته،
ولکن ھذا القول اعنی قول باسلامه عند بعض اھل الحقیقۃ مخالف لظاھر الشریعۃ فلا ینبغی التکلم به بین العوام بل لا ینبغی کثرۃ الخوض فی شانه وانما یفوض الامر فیه الی اللہ تعالیٰ فانه اسلم للعبد (السیرۃ النبویہ ص95)
بعض یہ گمان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم کے لیے ابوطالب کی نصرت و حمایت اور دفاع ظاہر ہے تو خدا نے ان کا حال صحابہ کے آبا کی طرح رکھا کہ باطن میں انہیں نجات عطا فرمائی کیونکہ صحابہ نے حضور کی خوب نصرت و حمایت و مدافعت کی۔
لیکن یہ قول بعض اہلِ حقیقت کے نزدیک شریعت کے ظاہری احکام کے مخالف ہے۔ ایسی بات عوام میں نہیں کہانی چاہیے بلکہ ایمانِ ابی طالب کے مسئلے میں بہت زیادہ غور و تفکر بچنا چاہیے اور اس امر کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دینا چاہیے اور یہی بندے کے لیے سلامتی کی راہ ہے۔
مذکورہ بالا عبارات سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ علامہ مکی کا موقف ایمان کا نہیں بلکہ عدمِ ایمان کا ہے جس کو عدمِ تحقیق کی بنا پر بعض عجلت پسند بیان کرنے میں خطا کرتے ہیں۔
علامہ مکی نے کفر کو وثوق کے ساتھ بیان کیا ہے اور ایمان کی مکمل نفی کی ہے۔ نجات کے حوالہ سے وہ پُر امید ہیں۔
اس مسئلے میں ہمارا بھی وہی موقف ہے جو علامہ مکی کا ہے۔ آخرت میں رب تعالیٰ جنابِ ابی طالب کے ساتھ کیا سلوکِ عدل فرمائے وہ اس کی رضا و منشاء ہے۔ اگر رب تعالیٰ انہیں نصرت و حمایتِ نبی کے سبب اپنی خاص قدرت کاملہ سے بخش دے تو ہمیں کیا غم و افسوس ہونا ہے لیکن مسئلہ آخرت کا نہیں دنیا کا ہے کہ یہاں از روئے نصوص و دلائل ان کے بارے کیا اعتقاد رکھا جائے تو پھر اسلم راستہ وہی ہے جو جمہور کا ہے۔
اس بحث میں لوگ ذہنوں کو الجھانے کے لیے استاد و شاگرد والا جو پہلو لاتے ہیں وہ بھی بہت بچکانہ ہے۔ شرع میں قبولیت کا مدار دلیل پر ہے شاگرد و استاد کے بڑا چھوٹا ہونے پر نہیں۔
مسائلِ دینیہ کا درک رکھنے والے جانتے ہیں کہ امام اعظم علیہ الرحمہ و امام محمد و قاضی ابو یوسف علیھما الرحمہ کے مابین کتنے مسائل میں اختلاف رہا جبکہ احناف کئ مسائل میں صاحبین کے موقف پر عامل ہیں۔
اعلیٰ حضرت بریلوی و علامہ مکی کے درمیان جو تضاد دکھانا چاہتے ہیں ان کو اب تک یہ علم ہی نہیں کہ عدمِ ایمان کے قول میں دونوں کا موقف ایک ہے فرق صرف اتنا ہے کہ علامہ مکی اخروی نجات کی امید رکھتے ہیں جبکہ لزوم کا کوئی اشارہ آپ کی بھی تحریر میں نہیں ملتا جبکہ اعلیٰ حضرت بریلوی مطلق عذاب و دخولِ نار کا قول فرماتے ہیں۔
بارِ دگر اپنے بزرگوں کی نصیحت دہراتا ہوں کہ مسئلۂ ابو طالب میں خموشی سلامتی کی سب سے بہترین راہ ہے مگر جب بازار میں نئے نئے شگوفے چھوڑے جاتے ہیں تو مجبوراً تردید میں اس حساس موضوع پر کلام کی زحمت اٹھانی پڑتی ہے۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی اشرفی علیہ الرحمہ نے لکھا ہے؛
بعض نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جن جہنمیوں کو اپنے دست قدرت سے دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل فرمائے گا بغیر شفاعت یہ وہ لوگ ہونگے جن کا ایمان شرعی نہ تھا جو عند اللہ مومن تھے، ان میں ابوطالب بھی شامل ہونگے۔
بہر حال ابوطالب کے بارے فیصلہ یہی ہے کہ وہ شرعاً مومن نہیں مگر ان کی بدگوئی نہ جائے وہ جنابِ مصطفےٰ کے سچے خادم ہیں۔ (حاشیہ نور العرفان)
اور خود اعلیٰ حضرت بریلوی نے بھی جناب ابو طالب کی نصرت و حمایت و دفاع و مدح کا کشادہ دلی اور کمالِ انصاف کے ساتھ اعتراف کیا ہے۔ کفر کا قول کرنے کے بعد بھی احتیاط کا جو پہلو ملحوظ رکھا اسے علامہ مکی اگر پڑھتے تو شاید دادِ محبت دیے بغیر نہ رہتے۔
اعلیٰ حضرت بریلوی نے کفرِ ابی طالب کو کفرِ ابوجہل و ابولھب سے جدا بتایا اور ابو طالب کے ثبوتِ کفر کو ابوجہل و ابولھب کے کفر کے ثبوت سے مختلف فرما کر یہ گنجائش بھی واضح کر دی کہ جمہور کے مقابل اگر کوئی ابو طالب کو اپنے تئیں مسلمان جانے اور مانے اس پر کفر لوٹتا نہیں۔ ورنہ کافر کے کفر کا انکار منکر کو کافر کر دیتا ہے۔ ایسے محتاط نظریے کے باوجود کوئی اعلیٰ حضرت بریلوی کے موقف کو علامہ مکی کے موقف سے کمتر بتائے تو اسے ہم کیا کہیں؟
یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جناب ابو طالب کو مسلمان ماننے والے پر لازم ہے کہ اس اعتقاد کو اپنی ذات تک رکھے اور خموشی سے شاذ و مطرود روایات کی روشنی ایمان کا قائل رہے لیکن اس کو اس مسئلے میں تبلیغ و دعوت کی ہرگز اجازت نہیں۔ کیونکہ جمہور کی نصوصِ صحیحہ کے مقابل اس کے اعتقادی شذوذ کی حیثیت آگ کے مقابل موم کی سی ہے۔ لہذا جو اس مسئلے میں حدِ اعتدال سے تجاوز کرے گا ضرور مردود ہوگا اور منہج اہل سنت کا باغی قرار پائے گا۔
سید فاضل میاں میسوری
