الفیل : ٢ میں فرمایا : کیا اس نے ان کے مکر کو باطل نہیں کردیا ؟۔
ابرھہ تو علانیہ فساد کرنے آیا تھا، پھر اس کو ” کید “ کیوں فرمایا ؟
اس آیت میں ” کید “ کا لفظ ہے ” کید “ کا معنی ہے : کسی کو خفیہ طریقہ سے ضرر پہنچانا، اس پر یہ اعتراض ہے کہ ابرھہ اور اس کا لشکر خفیہ طریقہ سے ضرر پہنچانے تو نہیں آئے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو ” کید “ کیوں فرمایا، اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ انہوں نے علانیہ کہا تھا کہ وہ کعبہ کو گرانے آئے ہیں لیکن وہ دل میں کبہ کی تعظیم اور اس کی پذیرائی سے جلتے تھے اور حسد کرتے تھے اور ان کی یہ خواہش تھی کہ جو تعظیم کعبہ کی جا رہی ہے، وہ ان کے بنائے ہوئے کلیسا کی کی جائے۔