الفیل : ٤ میں فرمایا : جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے۔
” سجیل “ کا معنی
اس آیت میں ” سجیل “ کا لفظ ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” سجیل “ کا لفظ فارسی میں سنگ و گل کا مجموعہ ہے، یعنی وہ کنکریاں مٹی کی بھی تھیں اور پتھر کی بھی تھیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٩٣٩٨)
قتادہ نے کہا : یہ سفید رنگ کے پرندے تھے، جو سمندر کی طرف سے آئے تھے، ہر پرندہ کے ساتھ تین پتھر ہوتے تھے، وہ پتھر اس کے پنجوں میں تھے اور ایک پتھر اس کی چونج میں تھا، جس کو بھی وہ کنکر لگتا تھا، اس کے جسم کے آر پار ہوجاتا تھا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٩٤٠١)
حضرت ابن معسود (رض) نے فرمایا : جس شخص کے کسی جانب وہ کنکر لگتا تو اس کے مقابل جانب سے نکل جاتا، اگر سر پر لگتا تو اس کی مقعد سے نکل جاتا ہے۔ (معالم التنزیل ج ٥ ص ٩)
” سجیل “ کے دیگر معانی حسب ذیل ہیں :
کاغذ کا بنڈل ” صحیفہ، محضر، وثیقہ “ ” سجیل “ کا معنی مکتوب بھی ہے، امام راغب اصفہانی نے لکھا ہے :” سجل “ ایک پھتر ہے، جس پر لکھا جاتا تھا، بعد میں ہر وہ چیز جس پر لکھا جاتا تھا، اس کو ” سجل “ کہا جانے لگا۔ (المفدات ج ١ ص 296-297 مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ : ١٤١٨ ھ)