اس آیت میں ” عمد “ کا لفظ ہے، یہ ” عمود ‘ کی جمع ہے، اس کا معنی ستون ہے اور ” مدۃ “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : طویل لمبے یعنی آگ کے شعلے لمبے لمبے ستونوں کی طرح بلند ہوں گے، نہ وہ بجھیں گے نہ ان کی ایذائرسانی میں کوئی کمی ہوگی۔
اس کا ایک معنی یہ ہے کہ ان لمبے لمبے ستونوں سے ” حطمۃ “ کے دروازوں کو بند کردیا جائے گا اور یہ آگ کے لمبے لمبے ستون اس قدر زیادہ ہوں گے کہ گویا وہی بند دروازہ ہیں۔ اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ ” حطمۃ “ کو ان پر اس حال میں بند کردیا جائے گا کہ وہ آگ کے ان لمبے لمبے ستونوں سے باندھے ہوئے اور جکڑے ہوئے ہوں گے۔