اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے۔ جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے۔ سو انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا۔ (الفیل : ٥-٣)
” ابابیل “ کا معنی
اس آیت میں ” ابابیل “ کا لفظ ہے ” ابابیل “ کا معنی ہے : متفرق پرندے جو ساتھ مل کر اڑتے ہیں اور اڑنے میں ایک دوسرے کی پیروی کرتے ہیں۔ ابوعبدی نے کہا : اس کا معنی ہے : جماعات متفرقہ، اگر مختلف گھوڑے بھی جماتع کے ساتھ آئیں تو ان کو بھی ” ابابیل “ کہا جاتا ہے ” ابابیل “ کے واحد میں اختلاف ہے، بعض نے کہا : اس کا واحد نہیں آتا اور بعض نے کہا : اس کا واح ”’ ابول “ یا ” ابیل “ ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا : جو پرندے جھنڈ بنا کر آئے تھے، ان کی سونڈ بھی تھی اور ان کے نیچے بھی تھے، یہ پرندے سبز، زرد یا سیاہ رنگ کے تھے اور یہ سمندر کی جانب سے آئیت ہے، ان کے منہ اور پنجوں میں کنکر تھے۔ (جامع البیان جز ٣٠ ص ٣٨٢ معالم التنزیل ج ٥ ص ٣٠٨)