Site icon اردو محفل

اسلامی علوم کی تحقیق کا ارتقائی پہلو یا یقین سے خالی کثرتِ ابحاث

اسلامی علوم کی تحقیق کا ارتقائی پہلو یا یقین سے خالی کثرتِ ابحاث

✍️پٹیل عبد الرحمٰن مصباحی، گجرات (انڈیا)

ڈارون کا ارتقائی نظریہ اپنی اصل میں تو ایک حیاتیاتی تھیوری ہے، جسے اس کی مختلف توجیہات کے ساتھ ترمیم و تنسیخ کے مراحل سے گزار کر سائنسی مفکرین نے کافی دلچسپ بنایا اور ایک نپی تلی تشکیل کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھا. البتہ بعد میں یہ نظریہ دیگر علمی شعبوں میں بلکہ عام زندگی کے تقریباً تمام امور میں اولاََ تو لاگو ہوا، پھر دھیرے دھیرے رواج پکڑ گیا. بعد کے مراحل میں بالخصوص بیسویں صدی کی تاریخی تحقیقات میں یہ نظریہ بنیادی طور پر شامل ہو گیا. اب تاریخ یاد داشت لکھنے کا نام نہ رہا بلکہ ہر مؤرخ نے یہ کوشش کی کہ انسانی تاریخ کو ارتقائی تناظر میں ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف چڑھتے گراف میں پرو کر دکھا سکے یا دکھا کر رہے. گزشتہ ایک ڈیڑھ صدی کی تقریباً تمام تاریخی تحقیقات؛ چاہے وہ خطوں کے ضمن میں ہو، شخصیات کے ضمن میں یا پھر مذاہب کے ضمن میں؛ بہر حال یکساں طور پر ارتقائیت زدہ ہیں.

ڈارون کا یہ نظریہ جیسے تاریخ کے ارتقائی مطالعے کی بنیاد بنا اور نتیجتاً ہمارے سامنے ارتقائی تاریخ نویسوں کے مسودوں کا ایک انبار لگ گیا بالکل ایسے ہی علوم و فنون کی تاریخ اور اس کے ابحاث کے تنوع کے سلسلے میں بھی انیسویں اور بیسویں صدی میں ارتقا کا نظریہ اپنایا گیا. ہر علم اور ہر فن کی معلومات اور اس سے متعلق ماہرین کے بارے میں یہ ثابت کیا جانے لگا کہ پرانے لوگ کم ماہر تھے، پھر بعد والے ان سے زیادہ، پھر مزید پھر مزید یہاں تک کہ آج مغربی نشاۃ ثانیہ کے بعد اسی فن کو سیکھنے سمجھنے والے سب سے زیادہ ماہر. ارتقائی طرز کے اِس شیوع کے نتیجے میں لوگ دبے لفظوں یا کھلے بندوں پرانوں سے اپنی یعنی نئے دور کے محققین کہے جانے والوں کی برتری کے قائل بن بیٹھے، صرف اس وجہ سے کہ وہ بعد کے زمانے کے ہیں، نئے دور کے ہیں.

آج کے جدید ماحول میں خاص دینی نہج پر کام کرنے کا دعوا رکھنے والوں میں ایک سوچ وجود میں آئی ہے جس میں مذکورہ ارتقائیت صاف طور پر جھلکتی ہے. خیال یوں باندھا جا رہا ہے کہ ہر آنے والا دور پچھلے دور سے بہتر ہے کیوں کہ آج پہلے سے زیادہ ٹیکنالوجی ہے یا پہلے سے زیادہ سائنسی طریق کی پیروی ہے اور حقائق کو منکشف کرنے کی طلب دو آتشہ، لہٰذا ہونا یہ چاہیے کہ دینیات میں بھی مرور زمانہ کے ساتھ نئی معلومات کی روشنی میں اضافہ ہو اور “نیا” دینیات کا جاننے والا “پرانے” جاننے والے سے زیادہ سمجھ وار ٹھہرے.
یہی تناظر تھوڑا سا آگے بڑھ کر یوں ڈھلتا ہے کہ جب متقدمین علماء کے سامنے دنیا کے اتنے وافر وسائل نہیں تھے تو وہ لوگ کتاب و سنت کو اتنے بڑے اسکیل پر کیسے سمجھ سکتے تھے جس پر آج کا کوئی شخص سمجھنے کا موقع رکھتا ہے؟ پھر اس میں طریقہ کار کا تنوّع بھی ایک قسم کی برتری کا احساس لاتا ہے، یوں کہ پہلے کے علماء صرف کتاب لکھ کر یا زبانی خدمتِ دین کی ادائیگی میں سرگرم رہتے تھے مگر اب ٹیکنالوجی کی “برکت” سے ہم نئے علماء یا جدید اسلامک اسکالرز بھانت بھانت کے ابلاغی وسائل اور تبلیغی طریقوں سے بار آور ہو سکتے ہیں. ہم رِیل، مختصر وڈیو، طویل وڈیو، پوڈکاسٹ، ولوگ، انٹرویو اور ریویو جیسے ڈیجٹل، سریع، محسوس مشاہد (دوسرے لفظوں میں معلومات کو فلمائے جانے کے قابل بنانے والے) طریقوں سے دن رات یا رات رات لگے ہوئے ہیں. ایسے میں پرانوں کے عظمت کے گیت گانا برا تو نہیں ہے مگر ہمارے کریڈٹ کو نظر انداز کر دینا اور ان پرانوں سے ہمیں ایک آدھ بالشت آگے نہ بتلانا ایمانداری کے خلاف نہ بھی ہو تو ہمارے تسکینی ذوق کو تشنہ ضرور رکھتا ہے.

یہ ہے علوم و فنون کا وہ ارتقائی پہلو جو بیسویں صدی میں وضع تو مادی دنیا کے مادی وسائل اور ان سے متعلق مادی علوم کے لیے کیا گیا تھا مگر دھیرے دھیرے یہ ان علوم و فنون کے لیے بھی چسپاں ہونے لگا جو خالص غیر مادی یعنی روحانی یا شرعی امور سے متعلق ہیں. بلکہ وہ چسپاں کَیا ہوا، ہمارے اپنے نادانوں نے اس کی در آمد شروع کر دی اور اس کے سہارے اُن تمام ماہرین دینیات پر چڑھ دوڑے جن کی تحقیقات نے امت کو صدی در صدی ہر چہار جانب روشنی فراہم کر رکھی تھی. ایسا کرنے والوں نے کبھی اجتہاد کی اصطلاح تلے اپنی برتری کے زعم کو چھپایا تو کہیں احیاء کے لباس میں اپنا بڑائی کا شوق پورا کیا. متجددین اس طرح کا ارتقائی ذہن اصولی طور پر شعور کے ساتھ تیار کیے رہتے ہیں جب کہ روایتی علماء کا ناپختہ سادہ لوح طبقہ، جو اپنے زعم میں خوب پڑھا لکھا ہے، وہ غیر شعوری طور پر ارتقائیت سے وابستہ نہیں تو پابستہ ضرور ہے.

اب صورت حال یہ ہے کہ یہ جدید محققین؛ ارتقائی تناظر میں مقید ہو کر؛ اسلام کی جو توجیہ پیش کرنے کی کوشش کرنے میں لگے ہیں اس کا دائرہ مادی دنیا اور ظاہر پرستی سے آگے نہیں بڑھتا. جیسے ارتقائی نقطہ نظر میں حقائق صرف مادی دنیا میں منحصر ہیں اور کائنات اسی مادہ کی مسلسل آگے بڑھتی ہوئی مجموعی تشکیل کے سوا کچھ نہیں، بالکل ایسے ہی ان نئے اسکالرز کی اسلامی تحقیقات کے مطابق اسلام صرف ترقی کرتی ہوئی دنیا میں آگے بڑھنے بڑھانے والا مذہب ہے اور مادے کے زور پر اپنے ماننے والوں کو بہتر معاشی و معاشرتی حالات دینے والا ایک مذہبی سسٹم ہے جس میں ضرورت کی حد تک تصور الٰہ کو بھی شامل رکھا گیا ہے. اس کے سوا یہ نئے لوگ دین کی کسی روحانی اساس یا اس کے داخلی جذباتی پہلو کو نہ صرف یہ کہ نظر انداز کرتے ہیں بلکہ اپنی ارتقا آلود تحقیقات کو بچانے کے لیے دانستہ طور پر اس کا انکار بھی کرتے ہیں یا کم از کم اس کی افادیت کو لایعنی صفر بتاتے ہیں. 

اگر مغرب اپنے مادی علم میں ارتقائیت کا پیروکار ہوا تو یہ ہمارے لیے کوئی حیرت کی بات نہیں. جدید مغرب کا تقریباً کُل علم مشاہدہ و تجربہ پر موقوف ہے، ظاہر ہے کہ فزیکل دنیا کو پہلے کے مقابلے میں کافی زیادہ کھوج لیا گیا ہے اور ایسے میں فزیکل علوم کی ارتقائیت ان کے یہاں مسلّم ہو جاتی ہے. لہٰذا مذکورہ ارتقائی اٹھا پٹک کا دنیاوی مادی علوم میں بالخصوص مغرب کے تعلیماتی دائرے میں برپا ہونا کوئی غیر معمولی تھا بھی نہیں، کیونکہ جدید علمی منہج کے لحاظ سے مادی معلومات کی لڑی کو ارتقائی نظریہ کے دھاگے میں پرونا نہایت آسان اور کلی طور پر قابل قبول ہے.
ہمارے لیے اصل فکر مندی کی بات یہ ہے کہ ایسی ارتقائیت کو جب دوسری جگہ منتقل کرنے یا لاگو کونے کی کوشش؛ شعوری یا غیر شعوری طور پر شروع ہوئی. اصل دقت تب پیش آئی جب یہ ارتقائی نقطہ نظر دبے پاؤں دینی علوم میں داخل ہونے لگا حتیٰ کہ نبوی دور کی قربت والے دینیات میں مہارت رکھنے والے حضرات کی اہمیت کم کی جانے لگی اور زمانہ نبوت سے دور دراز کے ظاہری پڑھے لکھے فوقیت کی نظر سے دیکھے جانے لگے. رفتہ رفتہ ارتقائی پس منظر کے تحت دینی علوم کے پرانے ماہرین کو ماضی کی طرف جتنا دور کا ہو، اتنا کم تر، اور جتنا قریب کا بلکہ ماضی قریب کے خاص یورپی افکار سے میل کھاتا ہو، اتنا برتر بتلانے والی ایک مخصوص درجہ بندی وضع کی گئی. 

دینی علوم میں ارتقائی نقطہ نظر لانے کے کے دو پرابلم ہیں. ایک دین کے جذباتی پہلو کا فقدان اور دوسرا عملی نتائج سے تہی دست ہونا.
ارتقائی پس منظر اپنا لینے کے بعد بڑی دقت یہ پیش آتی ہے کہ مسلسل ایک سوال جاری ہو جاتا ہے، دنیا نے کیا کیا کر دیا اور کہاں سے کہاں پہنچ کر مزید آگے بڑھنے کو تیار ہے، مگر ہم ہیں کہ وہیں رکے ہوئے ہیں. وہی وضو کے چار فرائض اور عید کی چار تکبیریں. نئی تحقیقات کے ذریعے مسلم معاشرے کو آگے بڑھانا چاہیے یا خود اسلام کو کچھ ترقی دینی چاہیے.
اس سوچ کے ساتھ ارتقائی پس منظر میں برتری کا احساس لیے ہوئے آج کی دنیا میں بہت کچھ لکھا اور بولا جا رہا ہے، تحقیق تحقیق کا شور مچا ہوا ہے مگر حقیقت کی طرف گہری نظر سے دیکھیں تو حالت یہ ہے کہ صفحات کے صفحات بلکہ کتابوں کی کتابیں پڑھتے چلے جائیے مگر بحث کا نتیجہ یا خلاصہ اور اس کے مطالعہ کے بعد حاصل ہونے والی بصیرت، ان میں سے کچھ بھی میسر نہیں آتا. نہ محرر و محقق کو خود کسی سطر پر یقین حاصل ہوتا ہے، بس وہ شِقیں نکالنے اور تنوع پیدا کرنے کے مرحلے میں ہوتا ہے. ممکنہ صورتوں کا مایا جال اور اندازوں یا پیش گُفتاریوں کا ایسا پشتارا کہ تحقیق کے نام پر سوائے تشکیک کے کچھ ہاتھ نہ آئے. کہیں یقینی جواب ہاتھ لگ جائے تو خود ان ہی کے دوسرے جواب سے تضاد کا سامنا ہو جاتا ہے. یقینی جواب آ بھی کیسے سکتا ہے، جو ارتقائیت خالص مادی علوم میں حتمیت کی قائل نہیں، بھلا اسے اپنا کر شرعی علوم میں یقینی جواب کیسے دیا جا سکتا ہے؟

عملی نتائج سے خالی ہونے کو دیکھیں تو کہاں قدیم ائمہ کی طرف سے ان درجنوں اصول کی وضع جن پر لاکھوں مسائل کی یقینی تفریع زمانہ در زمانہ وجود میں آتی رہی اور کہاں ایک بلکہ کئی ایک اذہان کا ایک فروعی امر میں نوع نوع کا تردد. ایسی تشکیک زدہ تحقیقات سے کیا حاصل جو ایمان بالغیب کی یقینی حلاوت میں اضافہ نہ کر سکے اور جذبۂ اطاعت کو عملی رنگ میں ڈھال کر بارگاہ الٰہی میں قبولیت کی امید کو دوبالا نہ کرے.  اگر یہ کہا جائے کہ ان تحقیقات سے وسعت پیدا ہوتی ہے اور نئی باتیں زیر بحث لانے کے مواقع بنتے ہیں تو ہم بہت سادگی سے یہ عرض کرتے ہیں کہ بحث کی گنجائش پیدا کرنا مقصود ہے یا عملی گائیڈ لائن سامنے لانا؟ ہمارے یہاں قیاس کا پورا اصول عملی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ہے نہ کہ بحث کی گنجائش نکالنے کے لیے نہ ہی کثرت ابحاث کی حوصلہ افزائی کے لیے.

اب ہم یقین کے ساتھ آج کی صورت حال کو یوں واضح کر سکتے ہیں کہ اگر علوم شرعیہ میں پرانے علماء کی برتری تسلیم کرنے کے ساتھ ان کے وضع کردہ اصولوں پر نئے دور کے مسائل کی تخریج کا کام بڑے پیمانے پر نہ بھی ہو رہا ہو مگر حل مسائل کی چھوٹی بڑی کوششوں کے ساتھ داخلی جذباتیت کا پہلو باقی رہے اور زمانہ رسالت سے وابستگی کی لَو تیز ہوتی رہے تو یہ خیر ہی خیر ہے. بات تحقیق در تحقیق یا کتاب در کتاب یا صفحہ در صفحہ ایسے مواد کی نہیں جو جدید اصولوں سے ہم آہنگ ہو اور نئے ذہن کو نئی دنیا میں اٹریکٹ کرتا ہو، نہ ہی بات اسے نئے ماڈلز میں ڈھالنے کی ہے کہ اینیمیشن یا شاندار ایڈیٹنگ کے ساتھ اپنی بات آگے بڑھائی جائے، بات تو یہ ہے کہ اگر ایسا سب کچھ کرنے میں ہم صرف مادی طور پر شخص کو متاثر کر رہے ہیں اور وہ باطنی وابستگی یا وہ شرع کی عظمت جانے انجانے میں ڈیمیج ہو رہی ہے؛ جو حاصل ہے ہمارے دینی فہم کا؛ تو ایسی ارتقائیت سے الٹے قدم روایتی ڈھنگ کی طرف پلٹ آنا بہت ضروری بلکہ لوازمِ اولیہ سے ہے.

ہم شاید حل مسائل کی شکل میں نئے طریقوں پر مختلف تجربات کر کے مسائل کا الگ ڈھیر لگا رہے ہیں. ایک جزوی مثال سے سمجھیں. جدید معاشیات پر تحقیقات اور کتاب البیوع کے قواعد کے سہارے جدید مارکیٹ بیزڈ اکانومی سے پیدا شدہ سوالات کے جوابات تلاش کرنا ممکن ہے ایک خوش آئند قدم ہو مگر ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ایسی صورت میں ہم فقہ کو شرعی سے زیادہ مادی تناظر میں ڈھالنے پر اصرار کر رہے ہیں. یوں ہی وہ تمام فقہی باریکیاں جو سنت اور جدید آلات سے سنت کی ادائیگی کے ضمن میں سامنے آ رہی ہیں مثلاً یہ کہ مسواک میں در اصل دو سنتیں ہیں ایک دانت کی صفائی اور دوسری خاص کسی لکڑی سے صفائی، لہٰذا برش استعمال کرنے سے ایک سنت ادا ہوگی دوسری نہیں، ایسی تمام باتیں جواز اور عدم جواز کو تو خشک انداز میں زیر بحث لا سکتی ہیں مگر سنت کا تقدس دلوں سے رخصت کرنے میں اچھا خاصا کردار بھی ادا کر سکتی ہیں. یہ بہت جزوی اور عام فہم مثال ہے، غور کرنے والے اگر تجزیہ کریں تو پائیں گے کہ اسلامی علوم کی تحقیق میں ارتقائی نقطہ نظر (چاہے دانستہ ہو یا نادانستہ) اپنانے کے بعد نتیجہ ہمیشہ یقین سے خالی کثرتِ ابحاث ہی کی
شکل میں نمودار ہوتا ہے.

01.08.1446
22.01.2026

Exit mobile version