سو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں، بیشک وہ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے ؏
حمد اور تسبیح کا معنی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے استغفار کے محامل
النصر : ٣ میں فرمایا : سو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں، بیشک وہ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔
تسبیح کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ کی ان چیزوں سے تنزیہ بیان کرنا جو اس کی شان کے لائق نہیں ہیں اور حمد کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ کی صفات کمالیہ بیان کرنا اور اللہ تعالیٰ کی ان کلمات سے ثناء کرنا، جن کی اس نے آپ کو تعلیم دی ہے۔
اس آیت کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ ” سبحان اللہ وبحمدہ “ پڑھتے رہیں کیونکہ یہ دو کلمات حمد اور تسبلیح کے جامع ہیں۔
اس آیت میں آپ کو مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا ہے، اس سے یہ وہم نہ کیا جائے کہ آپ سے کوئی تقصیر یا تفریط ہوئی تھی، جس کی بناء پر آپ کو مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ ہر لحظہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی اتنی زیادہ نعمتیں ہیں بلکہ غیر متنہی نعمتیں ہیں جن کا زبان وبیان سے شکر نہیں ادا کیا جاسکتا تو اس لئے آپ کو استغفار کرنے کا حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں کا کما حقہ جو آپ شکر ادا نہیں کرسکتے تو اس پر اللہ تعالیٰ اس استغفار کریں۔
اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ نبی معصوم جب اللہ تعالیٰ مغفرت طلبک رتے ہیں تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ان کے درجات اور مراتب بلند کئے جائیں۔
اس کا تیسرا جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس اس تغفار سے یہ مراد نہیں ہے کہ آپ اپنے لئے استغفار کریں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ اپنی امت کے لئے استغفار کریں، جیسا کہ اس آیت میں ہے :
(محمد : ١٩) آپ اپنے بہ ظاہر خلاف اولیٰ سب کاموں اور مئومنین اور مئومنات کے گناہوں کے لئے مغفرت طلب کیجئے۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ کیا ہو کہ جب آپ دائما استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ” تواب “ فرمایا ہے یعنی وہ بہت زیادہ توبہ قبول فرماتا ہے، بندہ ایک بار گناہ کر کے توبہ کرتا ہے، وہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے، بندہ پھر گناہ کر کے توبہ کرتا ہے تو وہ پھر توبہ قبول فرما لیتا ہے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے، حتیٰ کہ حدیث میں ہے :
حضرت ابوبکر صدیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے (گناہ کے بعد) استغفار کرلیا، اس نے اصرار نہیں کیا، خواہ وہ دن میں ستر بار (بھی) گناہ کرے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٥٤٠ سنن ترمذی رقم الدیث : ٣٦٣٠)
سورۃ النصر کے نزول کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بہ کثرت حمد اور تسبیح اور استغفار کرنا
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) مجھے مشائخ بدر میں داخل کرتے تھے، ان میں سے بعض مشائخ کو یہ ناگوار ہوتا تھا انہوں نے کہ کا : آپ ان کو ہمارے درمیان کیوں رکھتے ہیں حالانکہ ان کی عمر کے برابر تو ہمارے بیٹے ہیں، حضرت عمر نے فرمایا : یہ اس حیثیت سے ہیں جس کا تمہیں علم نہیں ہے، پھ رایک دن حضرت عمر نے ان کو بلایا اور مشائخ بدر میں داخل کیا اور میرا یہی اندازہ تھا کہ آج حضرت عمر ان پر میری حیثیت واضح کریں گے، پھر حضرت عمر نے ان سے پوچھا : آپ لوگ ’ داذا جآء نصر اللہ والفتح۔ “ کے متعلق کیا بیان کرتے ہیں ؟ ان میں سے بعض نے کہا : ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ جب جنگ میں ہمیں فتح حاصل ہو تو ہم اللہ تعالیٰ کی حمد کریں اور جب ہمیں شکست ہو تو ہم اللہ تعالیٰ سے استغافر کریں اور دوسرے بعض مشائخ خاموش رہے اور انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، پھر حضرت عمر نے کہا، اے ابن عباس ! آپ کے نزدیک کیا اس سورت کی یہی تفسیر ہے ؟ میں نے کہا : نہیں، حضرت عمر نے پوچھا : پھر آپ کیا کہتے ہیں ؟ میں نے کہا : اس سورت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کا بیان ہے، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتادی تھی ” اذا جآء نصر اللہ والفتح۔ “ آپ کی وفات کی علامت تھی، حضرت عمر نے فرمایا : اس سورت کے متعلق مجھے اس سے زیادہ علم نہیں ہے، جو آپ نے بتلایا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩٧٠ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٦٢، مسند احمد ج ١ ص ٣٣٧)
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بہت زیادہ پڑھتے تھے :” سبحان اللہ وبحمدہ، اسغتفر اللہ واتوب الیہ “ میں نے کہا : یا رسول اللہ ! میں دیکھتی ہوں کہ آپ یہ بہت زیادہ پڑھتے ہیں :” سبحان اللہ وبحمدہ، اسغفر اللہ واتوب الیہ ؟ “ آپ نے فرمایا : مجھے میرے رب نے یہ خبر دی ہے کہ میں عنقریب اپنی امت میں ایک علامت دیکھوں گا، پس جب میں وہ علامت دیکھ لوں تو میں بہ کثرت پڑھوں :” سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ “ پس بیشک میں نے وہ علامت دیکھ لی ہے، وہ علامت ہے :” اذا جآء نصر اللہ والفتح۔ “ (النصر : ١) یعنی فتح مکہ۔ (صحیم مسلم رقم الحدیث ٢٢٠، مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٢٩٣٢٣ )
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ سورة ” اذا جآء نصر اللہ والفتح۔ “ کے بعد جب بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی ” سبحانک ربنا وبحمدک اللھم اغفرلی “ تو سبحان ہے اے ہمارے رب اور تیری حمد کے ساتھ اے اللہ ! تو میری مغفرت فرما۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩٦٧ )
حضرت ام سلمہع (رض) بیان کرتی ہیں کہ سورت نصر نازل ہونے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی زندگی کے آخر میں تسبیح اور استغفار بہت زیادہ کرتے تھے، آپ جب بھی کھڑے ہوتے یا بیٹھتے یا آتے یا جاتے تو یہ پڑھتے تھے، ” سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ واتوب الیہ “ اور فرماتے : مجھے یہ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، پھر آپ نے سورت النصر پوری پڑھی۔ بعض روایات میں ہے : آپ اس طرح پڑھتے تھے : سبحانک اللھم وبحمدک استغفرک واتوب الیک۔ “
النصر : ٣ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو استغفار کرنے کا حکم ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے بہت زیادہ استغفار کیا ہے، اب ہم وہ احادیث پیش کر رہے ہیں، جن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کثرت استغافر کا ذکر ہے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہ کثرت استغفار کے متعلق احادیث
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! بیشک میں ایک دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سحبانہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٣٠٧، (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٢٥٤، مسند حمد ج ٢ ص ٣٤١ )
حضرت اغرمزنی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک میرے قلب پر (رحمت کا) حجاب آجاتا ہے اور میں ایک دن میں سو مرتبہ اللہ سبحانہ سے استغفار کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٠٢ باب استحباب الاستغفار رقم الحدیث : ٤١ مسند احمد ج ٥ ٤١١)
نیز حضرت اغرمزنی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! اللہ سبحانہ کی طرف توبہ کرو کیونکہ میں ایک دن میں سو مرتبہ اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٠٢، باب الاستغفار رقم الحدیث : ٤٢ )
امام رازی کے بعض نکات پر مصنف کا تبصرہ
امام حمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ فرماتے ہیں :
اس سورت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوپر اللہ تعالیٰ نے تین نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے، آپ کی نصرت فرمائی، آپ کو فتح مکہ عطا فرمائی اور آپ کے دین میں لوگوں کو فوج در فوج داخل فرمایا، پھر پہلی نعمت کا شکر ادا کرنے کے لئے فرمایا : اپنے رب کی تسبیح کیجیے اور دسوری نعمت کا شکر ادا کرنے کے متعلق فرمایا : اپنے رب کی حمد کیجیے اور تیسری نعمت کا شکر ادا کرنے کے لئے فرمایا : اپنے رب سے مغفرت طلب کیجیے۔ (تفسیر کبیرج ج ١١ ص ٣٣٤)
پھر استغفار کے حکم کی توجیہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
(٤) آپ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کرتے ہوئے اپنے دل میں یہ گمان نہ کریں کہ آپ اللہ کی وہ اطاعت کر رہے ہیں، جو اس کے لائق ہے بلکہ اس حالت میں بھی یہ گمان کریں کہ میں اللہ سبحانہ کی ایسی حمد اور تسبیح نہ کرسکا، جیسی تسبیح اور حمد کرنا اس کا حق تھا، پھر اس تقصیر پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں۔
(٥) گویا کہ اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے : اے محمد ! آپ معصوم ہیں یا مصعوم نہیں ہیں، پس اگر آپ معصوم ہیں تو آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد کریں اور اگر آپ معصوم نہیں ہیں تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں اور اس آیت میں یہ تنبیہ ہے کہ بندہ کسی وقت بھی اللہ کی عبادت کرنے کے حکم سے فارغ نہیں ہوتا۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص ٣٤٢ )
اس عبارت کا ظاہر مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بھی علم نہیں ہے کہ آپ معصوم ہیں یا معصوم نہیں ہیں اور اس معنی کا باطل ہونا بالکل بدیہی ہے اور اگر اس عبارت کا کوئی اور معنی ہے تو وہ ہماری سمجھ میں نہیں آسکا، خود امام رازی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مصعوم ہونے کے قائل اور معتقد ہیں اور انہوں نے اپنی تفسیر میں بہت جگہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عصمت پر دلائل قائم کئے ہیں۔
اس عبارت کے دو صفحے بعد امام رازی نے لکھا ہے : جن علماء نے یہ کہا ہے کہ آپ سے کوئی معصیت صادر نہیں ہوئی، ان کے نزدیک آپ کو استغافر کا حکم دینے کے حسب ذیل محامل ہیں :
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے استغفار کے متعلق امام رازی کی توجیہات
(١) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا استغفار آپ کی تسبیح کرنے کے قائم مقام ہے، کیونکہ آپ نے کہا، اللہ تعالیٰ غفار ہے۔
(۲) آپ نے استغفار اس لئے کیا کہ آپ کی امت آپ کی اقتداء کرے، کیونکہ کوئی مکلف اس خطرے سے خالی نہیں ہے کہ اس سے عبادت میں کوئی تقصیر ہوگئی ہو اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ آپ معصوم تھے اور عبادت میں بہت کوشش کرتے تھے، اس کے باوجود جب آپ استغافر سے مستغنی نہیں ہیں تو کوئی دوسرا استغفار کرنے سے کیسے مستغنی ہوسکتا ہے۔
(٣) آپ ترک افضل کی وجہ سے استغفار کرتے تھے۔
(٤) بندہ جو عبادت بھی کرتا ہے، جب اس عبادت کا مقابلہ اپنے رب کی نعمتوں سے کرتا ہے تو اپنی عبادت کو اس کی نعمتوں کے شکر کے مقابل ہمیں بہت کم پاتا ہے تو اس تقصیر شکر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے۔
(٥) جب سالک ایک عبادت سے دور سے عبادت کی طرف منتقل ہوتا ہے تو اپنی پہلی عبادت کو قاصر پاتا ہے، لہٰذا اس قصور پر استغفار کرتا ہے اور اللہ کی طرف سیر کے مراتب غیر متناہی ہیں، اس لئے استغفار کے مراتب بھی غیر متناہی ہیں۔
(٦) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے یہ مراد ہو کہ آپ اپنی امت کے لئے استغفار کیجیے اور جب آپ کی امت دن بہ دن زیادہ ہو رہی ہے تو آپ کے استغفار کی بھی زیادہ ضرورت ہے، سو آپ زیادہ سے زیادہ استغفار کیجیے۔ (تفسیر کبیرج ١١ ص 344-345 داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ)
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے استغفار کے متعلق دیگر مفسرین کی توجیہات
علامہ سید محمود آلوسی حنفی متویف ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں ،
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے استغافر کرنے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :
(١) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دائما ترقی کرتے رہتے تھے، جب آپ ترقی کر کے اگلے مرتبہ پر پہنچتے تو پہلے مرتبہ پر استغفار کرتے۔
(٢) آپ اپنے بلند مرتبہ کے اعتبار سے جس کام کو اپنے متربہ کے لخاف سمجھتے، اس پر استغفار کرتے۔
(٣) استغفارز کا تعلق ان امور سے ہے، جو آپ سے سہواً صادر ہوئے، خواہ اعلان نبوت سے پہلے
(٤) کوئی شخص بھی کماحقہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا نہیں کرسکتا، اس کو اللہ تعالیٰ کی جتنی معرفت ہوتی ہے وہ اتنے ہی حقوق ادا کرسکتا ہے اور عارف کو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق اس سے کہیں زیادہ ہیں، جتنے وہ ادا کر رہا ہے تو اس کو اپنے عمل سے حیا آتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے میں تقصیر کر رہا ہے، سو اس کو جتنی زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت ہوتی ہے، اس کو اللہ تعالیٰ کا اتنا زیادہ خوف ہوتا ہے اور اس کو اپنے عمل سے اتنی زیادہ حیا آتی ہے اور وہ اتنا زیادہ استغفار کرتا ہے۔
(٥) یہ بھی ممکن ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس لئے استغفار کرتے ہوں کہ آپ کو اللہ سبحانہ کی عظمت اور جلال کی سب سے زیادہ معرفت ہے اور آپ کو یہ علم ہو کہ ہرچند کہ آپ کی عبادت تمام عابدین کی عبادت سے زیادہ ہے لیکن اللہ عزوجل کی کبریائی اور اس کی عظمت اور جلال کے مقابل ہمیں پھر بھی کم ہے اور اس کمی پر آپ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہوں۔ (روح المعانی جز ٣٠ ص ٤٦٣، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)
علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے آپ کے استغفار کرنے کی درج ذیل وجوہ بیان فرمائی ہیں :
(١) حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی دعا میں کہتے تھے : اے اللہ ! میری خطا اور ان کو میرے جہل کو معاف فرما اور تمام معاملات میں میرے اسراف کو معاف فرما، اور جن کاموں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، ان کو معاف فرما، اے اللہ ! جو کام میں نے خطاء کئے یا عمداً کئے اور جو جہلاً کئے اور جو مذاقاً کئے ان سب کو معاف فرما دے اور یہ سب کام وہ ہیں جو میرے نزدیک ہیں، اے اللہ ! میرے پہلے کاموں کو اور میرے بعد کے کاموں کو اور جو کام میں نے لوگوں کے سامنے کئے اور جو کام میں نے لوگوں سے چھپ کر کئے، ان سب کو معاف فرما دے، تو ہی مقدم کرنے والا ہے اور تو ہی مئوخر کرنے والا ہے اور بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٣٩٨ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مصوم ہیں، آپ ہماری تعلیم کے لئے یہ دعا کرتے تھے) ۔
(٢) اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو عظیم نعمتیں عطا فرمائی ہیں، ان کے مقابلہ میں آپ اپنی عبادت کو بہت کم خیال فرماتے اور اس پر استغفار کرتے تھے۔
(٣) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ استغافر کے حکم دینے کا یہ معنی ہو کہ آپ اللہ تعالیٰ سے وابستہ رہیں، اس سے سوال کرتے رہیں، اس سے رغبت کرتے رہیں، اس کے حقوق کی ادائیگی میں کمی پر اس کے سامنے گڑ گڑاتے رہیں۔
(٤) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کو بہ طور عبادت استغافر کرنے کا حکم دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا بھی عبادت ہے اور آپ کو مغفرت طلب کرنے کے لئے یہ حکم نہ دیا ہو۔
(٥) آپ کی امت کو متنبہ کرنے کے لئے آپ کو استغافر کرنے کا حکم دیا ہوتا کہ آپ کی امت بےخوف ہو کر استغافر کو ترک نہ کرے۔
(٦) آپ کو امت کے لئے استغفار کرنے کا حکم دیا ہے یعنی آپ امت کی شفاعت کریں۔
(٧) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وہ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے یعنی وہ تسبیح کرنے والوں، استغفار کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں کی بہت توبہ قبول فرماتا ہے اور ان پر رحم فرماتا ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معصوم ہیں، پھر بھی آپ کو تہب کرنے کا حکم دیا ہے تو دوسروں کو توبہ اور استغافر کرنے کی کس قدر زیادہ ضرورت ہوگی۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٢٠ ص ٢٠٧ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آخرت کی طرف متوجہ ہونا
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مطلقاً تسبیح، حمد اور استغفار کرنے کا حکم دیا ہے اور اس میں زیادہ مشغولیت آپ کو امت کے کاموں میں زیادہ مشغولیت سے مانع ہوگی، اس میں یہ تنبیہ ہے کہ آپ کی تبلیغ کا کام مکمل اور تمام ہوچکا ہے اور یہ آپ کی وفات کی طرف اشارہ کرتا ہے، یعنی اب آپ کی وفات کا وقت قریب آپہنچا ہے۔
نیز جب اللہ تعالیٰ کی نصرت اور فتح حاصل ہوگئی اور لوگ دین اسلام میں فوج در فوج داخل ہوگئے تو معلوم ہوگیا کہ آپ کا امر تمام اور کمال کو پہنچ گیا اور اب آپ کی رحلت کا قوت آگیا ہے۔
آپ کو استغفار کا حکم دے کر اس پر متنبہ کیا کہ جب انسان کی وفات قریب ہو تو اس کو زیادہ سے زیادہ استغفار کرنا چاہیے اور احادیث میں ہے : جب سورت نصر نازل ہوئی تو آپ نے خود خبر دی کہ یہ میری وفات کی علامت ہے اور اس سال میری روح قبض کرلی جائے گی۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دنیا کی خیر تو حاصل کرلی، اب آخرت کی خیر کے حصول کا وقت آگیا ہے۔ (تفسری کبیرج ١١ ص ٤٣٦ دارلافکر، بیروت ١٤١٥ ھ)
ابوالمجاج مجاہیدن حبرالقرشی المتوفی ١٠٤ ھ اس سورت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
جب لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوں گے تو اے حمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس وقت آپ کی وفات ہوگی۔ (تفسیر مجاہد ص ٣٦٢، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٦ ھ)
امام مقاتل بن سلیمان بلخی متوفی ١٥٠ ھ نے کہا ہے : سورة النصر کے نزول کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی (٨٠) دن زندہ رہے۔ (ؤفسیر مقاتل بن سلمیان ج ٣ ص ٥٣٠ دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٤ ھ)
علامہ ابو الحسن علی بن الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں :
اس سورت کے نازل ہونے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقاتل کے قول کے مطابق ایک سال زندہ رہے اور حضرت ابن عباس (رض) کے قول کے مطابق دو سال زندہ رہے، اس کے اگلے سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کیا، پھر یہ آیت نازل ہوئی :
الیوم اکملت لکم دینکم (المائدہ : ٣) آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا۔
اس کے بعد آپ اسی (٨٠) دن زندہ رہے، پھر یہ آیت نازل ہوئی :
لقد جآء کم رسول من انفسکم (التوبہ : ١٢٨) بیشک تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک عظیم رسول آگئے ہیں۔
اس کے بعد آپ پینتیس (٣٥) دن زندہ رہے، پھر یہ آیت نازل ہوئی :
واتقوایوماً ترجعون فیہ الی اللہ (البقرہ : ٢٨١) اس دن سے ڈرو جس دن تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جائو گے۔
مقاتل نے کہا، اس کے بعد آپ سات دن زندہ رہے۔ (النکت والعیون ج ٦ ص 362)
علامہ ابو عبداللہ قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :
حضرت عبدا للہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ سورة النصر منی میں حجتہ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی، پھر یہ آیت نازل ہوئی :” الیوم اکملت لکم دینکم “ (المائدہ : ٣) اس کے بعد آپ اسی (٨٠) دن زندہ رہے، پھر آپ پر آیت کلالہ (النسائ : ١٧٦) نازل ہوئی، اس کے بعد آپ پچاس دن زندہ رہے، پھر آپ پر یہ آیت نازل ہوئی : ” لقد جآء کم رسول من انفسکم (التوبہ : ١٢٨) کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پینتیس (٣٥) دن زندہ رہے، اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی :
” واتقوا یوما ترجعوکن فیہ الی اللہ “ (البقرہ : ٢٨١) کے بعد آپ اکیس (٢١) دن زندہ رہے، مقاتل نے کہا : اس کے بعد آپ سات دن زندہ رہے۔ (الجامع لا حکام القرآن جز ٢٠ م 207-208 دارالفکر، بیروت ١٤١٥ ھ)