الکافرون : ٥-٢ میں فرمایا : میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی تم نے عبادت کی ہے۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں نظ
سورۃ الکافرون کی آیات میں تکرار کا جواب
ان آیات پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ آیت : ٣-٢ اور آیت : ٥-٤ کا ایک ہی معنی اور مفہوم ہے اور یہ تکرار ہے اور تکرار غیر مفید ہوتا ہے اور بلیغ کے کلام میں کوئی چیز غیر مفید نہیں ہوتی، اس کا جواب یہ ہے کہ آیت ٥-٤ آیت ٣-٢ کی تاکید ہیں اور دوسرا جواب یہ ہے کہ آیت ٣- ٢ حال کے زمانہ پر محمول ہیں اور آیت : ٥-٤ مستقبل کے زمانہ پر محمول ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ میں زمانہ حلا میں تمہارے معبودوں کی عبادت کرتا ہوں اور نہ زمانہ مستقبل میں تمہارے معبدوں کی عبادت کروں گا، اسی طرح کافر کے متعلق فرمایا، نہ تم زمانہ حال میں اس کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں اور نہ تم زمانہ مستقبل میں اس کی عبادت کرو گے جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔
اور یہ آیات ان ہی کافروں کے ساتھ مخصوص ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔