اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہوجائے۔ اس کے مال نے اور اس کی کمائی نے اس کو کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ وہ عنقریب سخت شعلوں والی آگ میں جائے گا۔ اور اس کی بیوی بھی، لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے۔ اس کی رگدن میں کھجور کی چھال کی بٹی ہوئی رسی ہوگی۔ (اللہب : ٥-١)
سورت اللہب کا شان نزول
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :
وانذر عشیرتک الاقربین۔ (الشعرائ : ٢١٤) اپنے قریبی رشتہ داروں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈرائیں۔
تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفا پہاڑ پر چڑھے اور آپ نے بلند آواز سے پکارا، یا بنی فہر، یا بنی عدی، یہ قریش کے خاندان تھے حتیٰ کہ وہ سب جمع ہوگئے اور جو خود نہیں آسکے، انہوں نے اپنا نمائندہ بھیج دیا تاکہ دیکھیں کہ انہیں کس لئے بلایا گیا ہے۔ ابولہب بھی آگیا اور دیگر قریش بھی آگئے، آپ نے فرمایا : یہ بتائو کہ اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ اس ودی میں تم پر حملہ کرنے کے لئے ایک لشکر آیا ہوا ہے تو آیا تم میری تصدیق کرو گے ؟ سب نے کہا : ہاں ! ہم نے آپ کی خبر کا سچ کے سوا تجربہ نہیں کیا : فرمایا تو میں تم کو ڈرا رہا ہوں کہ تمہارے اگٓے شدید عذاب آپہنچا ہے، تب ابولہب نے کہا : تم پر سارا دن ہلاکت ہو، کیا تم نے ہم کو اس لئے جمع کیا تھا اس موقع پر یہ سورت نازل ہوئی : تبت یدآ ابی لھب وتب۔ ما اغنی عنہ مالہ و ما کسب۔ “
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٧٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٨ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٦٣، سنن کبری للنسائی رقم الدیث : ١٠٨١٩)
ایک اور سند سے حدیت اس طرح ہے :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :” وانذر عشیرتک الاقربین “ (الشعرائ ٢١٤) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نکلے حتیٰ کہ صفا پہاڑ پر چڑھ گئے اور بلند آواز سے ندا کی :” یاصباحاہ “ (ہوشیار ہوجائو صبح ہوگئی ہے، کسی خطرہ سے خبر دار کرنے کے لئے ” یاصباحاہ “ کہا جاتا ہے) لوگوں نے کہا، یہ کون ہے ؟ اور سب آپ کے پاس جمع ہوگئے، پھر آپ نے فرمایا : یہ بتائو اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ گھڑ سواروں کا ایک لشکر اس پہاڑ کے پیچھے سے آ رہا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے ؟ انہوں نے کہا : ہم نے آپ سے کبھی جھوٹی خبر نہیں سنی، تب آپ نے فرمایا : میں تمکو ڈرا رہا ہوں کہ تمہارے سامنے عذاب شدید ہے، ابولہب نے کہا، تمہارے لئے ہلاکت ہو، کیا تم نے ہم کو اس لئے جمع کیا تھا پھر وہ کھڑا ہوگیا، اس موقع پر یہ سورت نازل ہوئی :” تبت یدا ابی لھب وتب “ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩٧١ صحیح مسلم رقم الحدیث :208-355 ابن مندہ رقم الحدیث : ١٥٠ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص 181-182 صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٥٥٠ شرح النستہ رقم الحدیث : ٣٧٤٢ مسند احمد ج ١ ص ٣٠٧ مسند احمد ج ٥ ص ١٧ مئوسستہ الرسالتہ، بیروت، ١٤٢٠ ھ)
” تبت “ کا معنی
اللہب : ١ میں ” تبت “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر ” تب “ اور ” تباب “ ہے علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : اس کا معنی ہے : دائمی نقصان ” تبت یدا ابی لھب “ کا معنی ہے : ابو لہب دائمی نقصان میں رہے، قرآن مجید میں ہے :
وما زادوھم غیر تتبیب۔ (ھود : ١٠١) اور انہوں نے اپنا نقصان ہی زیادہ کیا۔ وما کید فرعون الا فی تباب۔ (المئومن : ٣٧) اور فرعون کی ہر سازش نقصان میں رہی۔ (المفردات ج ١ ص ٩٣ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)
” تب “ معنی ہلاکت اور ٹوٹنا بھی ہے۔ (لغات القرآن ج ٢ ص ٦٦ )
ابوللہب کا نام اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی عداوت
اللہب : ١ میں ہے : ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہوجائے۔ حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :
ابولہب اس کی کنیت ہے اور اس کا نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب ہے، اس کی ماں خزاعیہ ہے، یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حقیقی چچا تھا، ابولہب کنیت کی وجہ یہ ہے کہ یا تو اس کا بیٹا لہب تھا، یا اس کے رخسار بہت سرخ تھے، الفا کہی نے کہا ہے کہ اس کی کنیت ابولہب اس وجہ سے تھی کہ لہب کا معنی ہے : شعلہ اور اس کا چہرہ اس کے حسن کی وجہ سے شعلے کی طرح بھڑکتا تھا، نیز اس کا مآل یہ تھا کہ یہ دوزخ کے شعلوں میں جھونکا گیا، اس لئے قرآن مجید نے اس کی کنیت کا ذکر کیا ہے، اس کے اسم کا ذکر نہیں کیا، دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ اپنی کنیت کے بجائے اپنے اسم کے ساتھ زیادہ مشہور تھا، نیز قرآن مجید نے اس کا اسم اس لئے ذکر نہیں کیا کہ اس کا اسم عبدالزعیٰ تھا، اور العزیٰ بت تھا، جس کی پرستش کی جاتی تھی اور عبدالعزیٰ کا معنی ہوا، عزیٰ کا بندہ، اور قرآن میں اللہ کے سوا کس اور کی بندگی کا ذکر مناسب نہ تھا۔ یہ تمام لوگ سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عداوت رکھتا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ اعلاننبوت سے پہلے یہ اور ابوطالب لڑ پڑے اور ابولہب، ابوطالب کے سینہ پر چڑھ کر بیٹھ گیا، اچانک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگئے تو آپ نے اس کی بغلوں میں ہاتھ ڈال کر اس کو زین پردے مارا، اس نے کہا، ہم دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگئے تو آپ نے اس کی بغلوں میں ہاتھ ڈال کر اس کو زمین پردے مارا، اس نے کہا، ہم دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگئے تو آپ نے اس کی بغلوں میں ہاتھ ڈال کر اس کو زمین پردے مارا، اس نے کہا، ہم دونوں تمہارے چچا ہیں، پھر تم نے ایسا کیوں کیا ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میرے دل میں تمہاری محبت کبھی بھی نہیں رہی، ابولہب یہ سن کر غضب ناک ہوا اور ہمیشہ آپ سے عداوت رکھتا رہا، غزوہ بدر میں ابولہب نہیں گیا تھا اور اس نے اپنی جگہ بدیل کو بھیج دیا تھا اور جب اس کو قریش کی عبرتناک شکست کا پتا چلا تو یہ غم سے مرگیا۔ (فتح الباری ج ٦ ص ١٤٦ دارالمعرفہ، بیروت، ١٤٢٦ ھ)
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعلان نبوت کے بعد ابولہب آپ سے بدترین عداوت رکھتا تھا، اس کا اندازہ اس حدیث سے کیا جاسکتا ہے۔
ربیعہ بن عابدہ یلمی پہلے زمانہ جاہلیت میں تھے، پھر اسلام لے آئے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی آنکھوں کے سامنے ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا، آپ فرما رہے تھے : اے لوگو ! ” لا الہ الا اللہ “ کہو، تم کامیاب ہو جائو گے۔ آپ اس کے راستوں میں جا رہے تھے اور لوگ آپ کے گرد جمع ہو رہے تھے، میں نے دیکھا کوئی آپ سے کچھ نہیں کہ ہرہ اتھا اور آپ خاموش نہیں ہور رہے تھے آپ یہی کہہ رہیغ تھے اے لوگو ! ” لا الہ الا اللہ “ کہو تم آخرت میں کامیاب ہوجائے گے اور بیشک آپ کے پیچھے ایک بھینگا آدمی تھا، وہ بہت خبوصورت تھا اور اس کی دو چٹایں تھیں، وہ کہہ رہا تھا، یہ شخص اپنا دین بدل چا ہے اور جھوٹا ہے، میں نے کہا، یہ کون شخص ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ محمد بن عبداللہ ہیں اور یہ نبوت کا ذکر کر رہے ہیں، میں نے پوچھا اور یہ کون شخص ہے جو ان کو جھوٹا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے کہ کا : یہ ان کا چچا ابولہب ہے، راوی نے کہا : تم اس وقت کم عمر تھے ؟ انہوں نے کہا نہیں ! میں عقل مند تھا۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٤٩٢ طبع قدیم، مسند احمد ج ٢٥ ص ٤٠٥-٤٠٤ مئوستہ الرسالتہ الاحاد و المثانی رقم الحدیث : ٩٦٤ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٤٥٨٢، المستدرک ج ١ ص ١٥ مصنف ابن ابی شیبہ جی ١٤ ص ٣٠٠ سنن نسائی ج ٨ ص ٥٥ صبح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٥٦٢ دلائل النبوۃ لابی نعیم رقم الحدیث : ٣١٩)
ابولہب کی عبرت ناک موت
الہب : ١ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہوجائے۔
ابو لہب نے چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمعلق بد دعائیہ کلمہ کہا تھا ” تبالک “ آپ کا ہاتھ ٹوٹ جائے یا آپ ہلاک ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلہ میں صورۃ بد دعائیہ کلمہ فرمایا : ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ بد دعا دینے سے پاک ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے خبر دی، وہ ہلاک ہوگیا۔
حافظ عماد الدین اسماعیل بن کثیر دمشقی متوفی ٧٧٤ ھ اس کی ہلاکت کے احوال میں لکھتے ہیں :
ابو رافع بیان کرتے ہیں : جنگ بد کے بعد ابو لہب سات دن زندہ رہا، خضرت ام الفضل نے خیمہ کی چوب اس کے سر پر مار کر اس کا سر پھاڑ دیا، اس کے بعد وہ عدسہ کی بیماری میں مبتلا ہوا، اس بیماری میں طاعون کی طرح گلٹی سی نکلتی ہے اور یہ ایک قسم کا پھوڑا ہوتا ہے، اسی بیماری میں وہ مرگیا، اس کے جسم سے سخت بدبو آرہی تھی، تین دن تک اس کی لاش پڑی رہی، لوگ اس بیماری سے طاعون کی طرح بھاگتے تھے حتٰی کہ قریش کے ایک شخص نے اس کے بیٹوں سے کہا، تم کو حیاء نہیں آتی، تمہارے گھر میں کہیں ہمیں بھی یہ بمیاری نہ لگ جائے، اس نے کہا، تم اس کو دفن کرو، میں بھی تمہاری مدد کروں گا، ابو رافع نے کہا، پس اللہ کی قسم ! انہوں نے اس کو غسلن ہیں دیا اور مکہ کی ایک بلند جگہ سے اس کو ایک دیوار کے ساتھ پھینک دیا اور اس کے اوپر پتھر ڈال دیئے (نعوذ باللہ منہ) (البدایہ والنہایہ ج ٣ ص 76-77 دارلفکر بیروت، ١٤١٩ ھ تفسیر کبیرج ١١ ص ٣٥٣-٣٥٢ )