اس کے مال نے اور اس کی کمائی نے اس کو کوئی فائدہ نہ پہنچایا
اللہب : ٢ میں فرمایا : اس کے مال نے اور اس کی کمائی نے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔
ابولہب کے بیٹے عتیبہ کا انجام
یعنی اس کا مال اور اس کی کمائی اس کو دوزخ کے عذاب سے نہ بچا سکے، اس آیت میں ہم نے کسب کا معنی کمائی کیا ہے اور کسب کا اطلاق اولاد پر بھی ہوتا ہے، حدیث میں ہے :
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، بیشک سب سے پاکیزہ طعام جو تم کھاتے ہو، وہ تمہاری کمائی سے ہے اور تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی سے ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٣٥٨ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٥٢٨ سنن نسائی رقم الحدیث : ٤٤٦١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٢٩٠، مسند احمد ج ٦ ص ٣١)
ابولہب کے دو بیٹے تھے، عتبہ اور عتیبہ اور ان دونوں کا نکاح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دو صاحب زادیوں سے تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عناد کی وجہ سے ابولہب نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کی صاحب زادیوں کو طلاق دے دیں۔ اس سلسلے میں یہ حدیث ہے :
قتادہ بن دعامہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحب زادی حضرت ام کلثوم (رض) کا نکاح عتبیہ بن ابولہب سے ہوا، ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان نبوت فرما دیا اور دوسری صاحب زادی حضرت رقیہ (رض) اس کے بھائی عتبہ بن ابی لہب کے نکاح میں تھیں، جب اللہ تعالیٰ نے سورة ” تبت یدا ابی لھب “ نازل فرمائی تو ابولہب نے اپنے دونوں بیٹوں عتیبہ اور عتبہ سے کہا، میرا سر تم دونوں کے سر کے لئے حرام ہوگا، اگر تم نے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹیوں کو طلاق نہ دی اور ابولہب کی بیوی ارویٰ بنت حرب بن امیہ نے کہا، اے میرے بیٹو ! تم ان دونوں کو طلاق دے دو ، سو ان دونوں نے ان دونوں نے آپ کی صاحب زادیوں کو طلاق دے دی، اور جب عتیبہ نے حضرت ام کلثوم کو طلاق دے دی تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں اور عتیبہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا، میں آپ کے دین سے کفر کرتا ہوں اور آپ کی بیٹی کو چھوڑتا ہوں، نہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے نہ میں اس سے محبت کرتا ہوں، پھر وہ آپ پر حملہ آور ہوا اور آپ کی قمیض پھاڑ دی، وہ اس وقت تجارت کی غرض سے شام کی طرف جا رہا تھا، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو اس کے اوپر اپنے کتے کو مسلط کر دے، وہ قریش کے تاجروں کے ساتھ روانہ ہوا حتیٰ کہ وہ سب رات کو شام میں ایک جگہ ٹھہرے، اس جگہ کا نام الزرقاء تھا، اس رات ان کے پاس شیر آیا اور ان کے درمیان چکر لگاتا رہا، عتیبہ نے کہا : ہائے میری ماں کا عذاب ! اللہ کی قسم ! یہ مجھے پھاڑ کھائے گا، جیسا کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی تھی، پھر لوگوں کے درمیان سے شیر اس کے پاس آیا، اس کے سر کو پکڑ کر اس کو جیسا کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی تھی، پھر لوگوں کے درمیان سے شیر اس کے پاس آیا، اسکے سر کو پکڑ کر اس کو مار ڈالا۔ (المعجم الکبیرج ٢٢ ص ٥٤٦-٣٤٥ دلائل النبوۃ لابی نعیم رقم الحدیث : ٣٨٣- ٣٨١- ٣٨٠ تفسیر کبیرج ١١ ص ٥٠ و روح المعانی جز ٣٠ ص ٤٧١)
علامہ آلوسی نے کلھا ہے کہ ابولہب کے تین بیٹے تھے، عتیبہ، عتبہ اور معتبہ، اور معتبہ فتح مکہ کے دن اسلام لے آئے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے اسلام کو مخفی رکھا اور ان کے حق میں دعا کی اور یہ دونوں جنگ حنین اور جنگ طائف میں حاضر ہوئے۔ (روح المعانی جز ٣٠ ص ٤٧٠ دارالفکر بیروت، ١٤١٧ ھ)