تاثرات از قلم : حضرت مولانا مفتی محمد گل رحما ن قادری
sulemansubhani
تاثرات
شرح صحیح مسلم
از قلم : حضرت مولانا مفتی محمد گل رحما ن قادری برمنگھم ، برطانیه
شرح صحیح مسلم علامہ غلام رسول سعیدی کے شرح صدر کی کرامت کا مظہر ہے، اہل سنت کے علمی کارناموں میں عصر حاضرکا درخشندہ ستارہ ہے، بعد میں لکھنے والوں کے لیے تشریح وتحقیق کی مشعل راہ ہے، اور حضرت علامہ کی سعادت و نجات کے لیے پر امید وسیلہ جلیلہ ہے ۔
حضرت علامہ غلام رسول سعیدی نے اہم مسائل فقہیہ کو عمدہ دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے جس کا اندازہ آپ کی محدثانہ اور فقيہانہ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے، شرح صحیح مسلم در اصل صرف احادیث کے منشا اور اور اس کے مطالب و مقاصد کے بیان تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں احادیث سے عصری مسائل کو مستنبط کیا گیا ہے، اور قدیم مسائل میں اولہ کے زور سے ترجیح کا مقام حاصل کیا گیا ہے۔ ترجیح مسائل میں آپ نے علماء متقدمین اور معاصرین کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے دلائل کی روشنی میں اپنے علم و فکر کا آزادانہ اظہار فرمایا ہے، اور حضرت علامہ کے علم فضل، وسعت مطالعہ اور حدیث فکر کے پیش نظر یہ ان کا علمی حق ہے۔
اسلام کے مسلمہ اصولوں کے تحت غیر منصوص مسائل کا کتاب و سنت سے حکم معلوم کرنا اہل تحقیق علماء کا منصب ہے، بلا شبہ کئی فروعی مسائل میں حضرت علامہ نے ترجیح اور تصویب تک رسائی حاصل کی ہے، یہ ان کی خدا داد صلاحیت اور مسلسل محنت اور کاوش کا ثمرہ ہے۔
حضرت علامہ نے شرح صحیح مسلم میں امت مسلمہ کی سہولت کے پیش نظر یسر کو زیادہ اختیار کیا ہے تاہم بعض مسائل میں انھوں نے عسر کا راستہ اختیار کیا، مثلاً حالات حاضرہ میں ذرا میں ذرائع ابلاغ کی ٹیکنالوجی ، ٹی۔ وی ، وڈیو وغیرہ کو اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے استعمال میں لانا جائز قرار دیا جاسکتا ہے، اور امت مسلمہ کا اس پر عمل ہے، دور حاضر کی معاشی ضروریات کے پیش نظر خواتین اسلام کے لیے تعلیم کا حصول اور شرعی حدود کے تحت ملازمت کو اختیار کرنا وقت کا تقاضا اور قانون ضرورت کے تحت آتا ہے ، ورنہ مسلم آبادی کے نصف حصہ کے معاشی اور معاشرتی حقوق کا میسر نہ ہونا فتنہ کا باعث ہوگا، دور حاضر کی اس قسم کی مشکلات کے لیے مزید غور و فکر اور اجتہاد کی ضرورت ہے ۔
جدید مسائل کو حل کرنے میں حضرت علامہ نے انتہائی سعی جمیل سے کام لیا ہے، حضرت علامہ سعیدی نے شرح صحیح مسلم کو اردو زبان میں لکھ کر، مدرسین، علماء اور اہل تحقیق مصنفین کو جدید انداز میں فکر و اجتہاد کے ساتھ اسلامی علوم کی تشریح و توضیح اور استنباط مسائل کا راستہ دکھایا ہے، عام مسلمانوں ، اساتذہ حدیث اور طلبہ حدیث کو شرح صحیح مسلم کا بالاستیعاب مطالعہ کر کے فائدہ اٹھانا چاہیے کیونکہ اس شرح کی بہت بڑی ضرورت اور اہمیت ہے ، اخیر میں تہ دل سے ، دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حضرت علامہ سعیدی کو سعادت دارین اور نجات اخروی سے نوازے اور ان کے علوم نافعہ سے امت مسلمہ کو مزید فیضان بخشے ۔ آمین ثم آمین .
خاوم علما اہل سنت
محمد گل ارحمان قادری غفر له
14-1-94
12, Palmerston Road, Spark brook Birmingham B
LH England.
مصنف نے شرح صحیح مسلم جلد سابع میں خواتین کے لیئے حصول تعلیم کو جائز لکھا ہے خواہ دین تعلیم ہو باجدید سائنسی تعلیم اور دلائل شرعیہ کی روشنی میں اس پر مفصل بحث کی ہے، اسی طرح معاشی اور عمرانی ضرورت کے پیش نظر باعزت طریقہ سے پردہ کی حدود و قیود کے ساتھ خواتین کی ملازمت کو بھی جائز لکھا ہے، رہا ریڈیو اور ٹی ۔ وی کی نشریات سننے اور دیکھنے کا مسئلہ تو اس کو مصنف نے علی الاطلاق ممنوع نہیں لکھا مصنف کی عبارت یہ ہے :
تجربہ اور مشاہدہ اس بات پر گواہ ہے کہ جس گھر میں ریڈیو، ٹی وی اور وڈیو ہوگا، وہاں صرف ان جائز پروگراموں کو دیکھنے اور سننے تک معاملہ محدود نہیں رہے گا رہے گا بلکہ گھر کے تمام یا بعض افراد ان پروگراموں کو بھی یقینا دیکھیں گے اور سنیں گے جن کا دیکھنا اور سننا شرعاً جائز نہیں ہے اور یہ بات عادتاً محال ہے کہ جس گھر میں ریڈیو یا ٹی ۔ وی یا وی۔ سی، آر ہو اور اس گھر کا کوئی فرد موسیقی پرمشتمل کوئی پروگرام دیکھے نہ سنے اسی طرح دیگر مخرب اخلاق پروگراموں سے اجتناب بھی عادتا محال ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔شرح صحیح مسلم ج۲ ص ۷۰۵
نیز لکھا ہے:
ہمارے نزدیک ریڈیو اور ٹی وی کا گھروں میں بجانا شرعاً جائز نہیں ہے لیکن جب تک اس کے کسی متبادل آلہ کا رواج نہیں ہوتا۔ اور جب تک یہ آلات ملک میں موجود ہیں اور ان سے یہ خبریں نشر ہوتی ہیں اور اعلانات وغیرہ ہوتے اس وقت تک ان کے ذریعہ جن احکام شرعیہ کے شرعیہ کے اعلانات ہوتے رہیں گے ان پر عمل کرنا صحیح ہوگا ، اور علی ہذالقیاس رویت ہلال کے اعلانات پر بھی عمل کرنا صحیح ہوگا، بہ شرطیکہ وہ اعلانات دلائل شرعیہ کے مطابق ہوں ، جب تک کوئی متبادل آلہ نہیں بنایا جاتا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اجتماعی طور پر کوشش کرکے ریڈیو اور ٹی ۔ وی سے راگ رنگ موسیقی اور دیگر غیر شرعی اور مخرب اخلاق پروگرام یک لخت ختم کرائیں تاکہ ذرائع ابلاغ سے صرف دینی اور فلمی پروگرام نشر کیے جائیں ۔ شرح صحیح مسلم ج ۳ ص ۷۵
ہمارے ملک پاکستان میں ریڈیو اور ٹی ۔ وی کی جو نشریات ہوتی ہیں ان میں صرف برائے نام زیادہ سے زیادہ ایک فیصد دبینی اور اسلامی پروگرام ہوتے ہیں، باقی نینانوے فی صدر پرو گرام ، موسیقی، راگ ورنگ اور محزب اطلاق عناصر پر مشتمل ہوتے ہیں ، پر نے لہٰذا جو شخص ریڈیو اور ٹی وی کی نشریات سنے گا اور دیکھے گا اس پر اس ایک فی صد کا کوئی اثر نہیں ہوگا، اس کے برعکس وہ نینانوے فی صد میں ڈوب جائے گا، ریڈیو ٹی۔ وی کی نشریات کے شرعی حکم کو اس آیت سے مستنبط کے بیت سے مستنبط کیا جا سکتا ہے :
يسئلونك عن الخمر والميسر قل فيهما اثم كبير ومنافع للناس واثمهما اكبر من نفعهما -بقره ، ۲۱۹
لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں آپ فرمادیجیے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے (بھی) ہیں اور ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت بڑا ہے ۔
شرعی احکام میں میرا مزاج یسر ہی ہے بشرطیکہ وہاں شرعی گنجائش ہو، اور جس چیز میں شر بہت زیادہ غالب ہو اور خیر بہت مغلوب ہو وہاں شریعت اسلام کا یہی مزاج ہے کہ وہ شرکثیر کی بنا پر خیر قلیل کو ترک کردیتی ہے ۔
آج کل دنیا میں بہت سے پرائیویٹ ٹیلی ویژن عالمی سطح پر اپنے پروگرام نشر کر رہے ہیں اور ان کی نشریات سٹلائٹ کے ذریعہ تقریباً دنیا بھرمیں دیکھی جارہی ہیں، مثلا سی این این ٹیلی ویژن ، بی بی سی ٹیلیویژن اور سٹار ٹیلی ویژن وغيره، اگر بعض مالدار مسلمان عالمی سطح پر ایسا پرائیویٹ ٹی وی چینل قائم کریں جس کی نشریات سٹلائٹ کے ذریعہ عالمی سطح پر دیکھی جا سکیں اور ان نشریات سے صرف اور صرف ن اسلامی تعلیمات نشر کی جائیں جن میں قرآن مجید کی تلاوت ہو تفسیرہو، احادیث پڑھی جائیں ، ان کا درس ہوا اور خالص اسلامی اور فقہی معلومات مہیا کی جائیں اور خواتین کی نمائش اور موسیقی سے کلی اجتناب کیا جائے اور موثر پیرائے میں اسلام کو پیش کیا جائے تو اس کا دیکھنا اور سننا جائز ہوگا ۔