Site icon اردو محفل

الَّذِىۡ يُوَسۡوِسُ فِىۡ صُدُوۡرِ النَّاسِۙ – سورۃ نمبر 114 الناس آیت نمبر 5

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِىۡ يُوَسۡوِسُ فِىۡ صُدُوۡرِ النَّاسِۙ ۞

ترجمہ:

جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے

الناس :5 میں فرمایا : جو لوگوں کے سینہ میں وسوسہ ڈالتا ہے۔

اس آیت میں ” یوسوس “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر ” ووسواس “ ہے اس کا معنی ہے : کسی برے خیال یا گناہ کے کام کو دل میں ڈالنا۔ شیطان انسان کے دل میں اللہ کی معصیت کو القاء کرتا ہے اور اس معصیت کو خوش نما لباس پہنا کر اس کو اس کام کی طرف راغب کرتا ہے۔

امام ابو منصور محمد بن محمد منتریدی حنفی متوفی 333 ھ لکھتے ہیں :

وسوسہ ایک امر معروف ہے، شیطان انسان کے دل میں ایسی باتیں ڈالتا ہے جن سے وہ اپنے دین میں حیران ہوجاتا ہے اور اس کے دل میں بری خواہشات ڈالتا ہے اور اس کو برے کام کرنے کی طرف راغب کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جب شیطان انسان کو برائی کی طرف راغب کرے تو انسان کو شیطان سے اللہ کی پناہ طلب چاہیے۔

اور اگر شیطان آپ کو کوئی وسوسہ ڈالے تو آپ اللہ کی پناہ طلب کریں، بیشک وہ بہت سننے ولا، بےحد جاننے والا ہے۔

بے شک جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں جس ان کو شیطان کی طرف سے کوئی گناہ کا خیال آتا ہے تو وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں پھر یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ (الاعراف :200-201)

امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : (تفسیر کبیرج 11 ص 377، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

امام رازی کی اس عبارت میں یہ واضح تصریح ہے کہ سورة الناس تک تفسیر ان ہی کی لکھی ہوئی ہے، میں ان بڑے بڑے علماء پر حیران ہوتا ہوں، جنہوں نے یہ کہا ہے کہ امام رازی اپنی تفسیر کو مکمل نہ کرسکے تھے۔

القرآن – سورۃ نمبر 114 الناس آیت نمبر 5

Exit mobile version