Site icon اردو محفل

مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۙ الۡخَـنَّاسِ – سورۃ نمبر 114 الناس آیت نمبر 4

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ  ۙ الۡخَـنَّاسِ ۞

ترجمہ:

پیچھے ہٹ کر چھپ جانے والے کے وسوسو ڈالنے کے شر سے

الناس :4 میں فرمایا : پیچھے ہٹ کر چھپ جانے والے کے وسوسہ ڈالنے کے شر سے۔

اس آیت ” خناس “ کا لفظ ہے، ” خناس “ کا معنی ہے : پیچھے ہٹ جانے والا، چھپ جانے والا، یہ لفظ ” خنس “ سے بنا ہے، اس کا معنی ہے : پیچھے ہٹنا اور چھپ جانا، قرآن مجید میں ہے :

میں چھپنے والے (ستاروں) کی قسم کھاتا ہوں۔ (التکویر :15)

یہ ستارے دن کے وقت چھپ جاتے اور نظر نہیں آتے یا اپنے منظر سے پیچھے ہٹ جائے ہیں۔

” خناس “ مبالغہ کا صیغہ ہے، اور یہ شیطان کا لقب ہے، جب انسان غافل ہو تو یہ انسان کے دل میں وسوسہڈالتا ہے اور جب انسان اللہ کو یاد کر رہا ہو تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جیسے ہی اللہ کی یاد سے رک جائے تو پھر وسوسہ ڈالنے آجاتا ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) میان کرتے ہیں کہ شیطان ابن آدم کے قلب پر بیٹھا رہتا ہے، جب اس کو سہو ہو یا غفلت ہو تو وہ وسوسہ ڈالتا ہے اور جب وہ اللہ کا ذکر کرے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ ( جامع البیان :29678) ابن زید نے کہا :” خناس “ وہ ہے جو ایک بار وسوسہ ڈالتا ہے اور دوسری بار پیچھے ہٹ جاتا ہے اور موقع کا انتظر رہتا ہے اور یہ شیطان الانس ہے، یہ انسانوں پر شیطان الجن سے زیادہ شدید ہوتا ہے، شیطان الجن وسوسہ ڈالتا ہے اور تم اس کو دیکھتے نہیں ہو اور شیطان الانس کو تم دیکھتے رہتے ہو۔ ( جامع البیان رقم الحدیث :39283)

قرآن مجید میں شیطان الانس اور شیطان الجن دونوں کا ذکر ہے :

اور ہم نے اس طرح ہر نبی کے دشمن شیاطین الانس اور شیاطین الجن بنا دیئے ہیں، جن میں سے معض معضوں کو خوش نما وسوسے ڈالتے ہیں تاکہ ان کو دھوکا دیں۔ (الانعام :112)

القرآن – سورۃ نمبر 114 الناس آیت نمبر 4

Exit mobile version