Site icon اردو محفل

حزب الشیطان کا نیٹ ورک

حزب الشیطان کا نیٹ ورک
(تحریر: عائشہ غازی)

وَ لَقَدۡ صَدَّقَ عَلَیۡہِمۡ اِبۡلِیۡسُ ظَنَّہٗ فَاتَّبَعُوۡہُ اِلَّا فَرِیۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۰﴾
اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا گمان سچا کر دکھایا یہ لوگ سب کے سب اس کے تابعدار بن گئے سوائے مومنوں کی ایک جماعت کے ۔

جیفری ایپسٹین فائلز نے واضح کر دیا کہ مغرب میں خاندانی نظام تباہ کر کے آخر کیا حاصل کیا گیا حالانکہ خاندانی نظام کی تباہی ریاست کی ذمے داریوں کو سو فیصد بڑھا دیتی ہے ۔ ایسا بہت کچھ جو پہلے خاندان خود کر لیتا تھا، اب اس کی ذمے داری ریاست پر ہے تو انہیں اس کا فائدہ کیا ہوا؟

اس جنگ کا پہلا پہلو یہ ہے مرد مرد نہ رہے  اور عورت عورت نہ رہے ۔۔ معاشرتی ذمے داریوں کی حد تک تو یہ ہدف حاصل ہو چکا ہے ، اب جسمانی ساخت کی باری ہے۔  پہلے مردوں کو عورت اور عورتوں کو مرد بننے کی طبی سہولت دی گئی ۔۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ مغربی دنیا میں کئی مائیں پیدائش پر اپنے بچوں کی جنس نہیں بتاتیں کہ کہ یہ بڑا ہو کر خود فیصلہ کرے گا ، ہم اس پر جنس تھوپنا نہیں چاہتے ۔  بات یہاں سے ہوتی یہاں تک پہنچی کہ اب مغربی ممالک میں لوگوں کو اجازت ہے کہ وہ روازنہ اپنے “رجحان” کی بنیاد پر اپنی جنس کا اعلان کر سکتے ہیں اور جو وہ اپنی جنس کے بارے کہہ دیں اسے قانونی تحفظ حاصل ہے ، اسی کی وکالت شیریں مزاری نے پاکستان کی پارلیمان میں بھی کی تھی ۔۔  بات جنس سے آگے بڑھ کر انسان کی مکمل ہیت پر آئی اور لوگوں نے سرجری کے زریعے خود کو جانور تک بنوایا ۔ ٹوکو نام کا جاپانی شخص بارہ ہزار پاونڈ خرچ کر کے ایک کتے کی شکل اور جسامت اختیار کرنے پر خبروں میں رہا ۔ گویا اس “رجحان” کی بنیاد پر کسی کو اس کی جنس یا ہئت کا اختیار دینا ہے تو پھر اس کی کوئی حد نہیں  ۔۔

دوسری طرف دادا دادی نانا نانی کو خاندان سے باہر کر کے سب سے پہلے بچوں کی ایک حفاظتی دیوار گرائی گئی ،پھر طلاق کا رجحان بڑھا کر بچے خاندانی نظام سے باہر نکال کر سنگل مدَر یا سنگل فادر کے ذمے کئے گئے ۔۔ اٹھارہ سال سے اوپر کے بچوں کو الگ خاندان قرار دے دیا گیا ، کم بچوں اور میرا جسم میری مرضی جیسی تحریکیں چلائی گئیں کو آخرکار بچوں کی حفاظتی دیواریں گرانے کا کام کرتی ہیں تاکہ بچوں اور کم عمر لڑکیوں تک رسائی آسان ہو۰۰ اس محاذ میں اکیلا کھڑا رکھوالا ہر طرف سے حملہ آور ہوتے شیاطین سے کب تک لڑپائے گا۔۔ اکیلی ماں یا اکیلا باپ بچوں کی ضروریات سے لے کر تربیت تک، کس کس محاظ پر اکیلا لڑ سکتا ہے ۔اسلام نے بچوں کی ضروریات کی ذمے داری مرد جبکہ حفاظت اور تربیت کی ذمے داری عورت کو دی ہے ۔۔  اکیلے ماں یا باپ رہ جانے کی صورت میں ان میں سےایک ذمے داری ریاست کے حوالے کرنا ناگزیر ہے جس میں ریاست زیادہ ترسکولوں کی صورت میں تربیت کی ذمے داری لینے کی خواہشمند ہے ، ضرورت آپ دن اور رات کولہو کا بیل بن کر خود پوری کریں۔

تیسری سمت یہ ہے کہ اگرسنگل مدَر یا فادر بچے کو نہیں دیکھ سکتے تو بچے ریاست کو دے دیں ۔۔۔ وہ بچے ان کے لئے سب سے کارآمد ہیں جنہیں کوئی تلاش کرنے والا نہ ہو ۔  گویا ہر جدوجہد اس طرف دھکیل رہی ہے کہ یا تو مرد اور عورت اگلی نسل پیدا کرنے کے قابل یا قائل نہ ہوں تاکہ دنیا کی آبادی کم کر کے وسائل کو ایلیٹ کے لئے محفوظ کیا جائے  ، اور اگر بچے ہوں تو ان کے پہرے دار نہ ہوں کیونکہ بچے اور کم عمر لڑکیاں شیطان کے نیٹ ورک کا ٹارگٹ ہیں ۔ جنگیں اور مہاجرین ان ٹارگٹس کو مزید آسان بنا دیتے ہیں ۔۔

اور اس سب سے خوفناک سمت یہ ہے کہ اب لیباریٹری میں بچے پیدا کرنے کا سائنسی دور صرف چند سال دور ہے ۔۔۔ ایکٹو لایف کمپنی نے دسمبر دو ہزار بائیس میں اعلان کیا ہے کہ وہ لیبارٹری میں ایک سال میں تیس ہزار بچے بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ ایلیٹ پیکیج میں لوگوں کو مینیو لسٹ دی جائے گی جس میں وہ آنکھوں کے رنگ سے لے کر بچے کی دیگر خصوصیات تک خود چن سکیں گے مطلب آپ کے آرڈر کے مطابق بچہ تیار کیا جائے گا ۔۔۔۔ اس پر باقی بحث تو ایک طرف لیکن سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ اگر پہلے ہی دنیا کے وسائل کم اور آبادی زیادہ ہے جس کے لئے ہر وقت پاپلیشن کنٹرول کا شور مچایا جاتا ہے تو یہ انڈسٹریل بچے کیوں بنائے جانے ہیں ؟؟

انہیں بچے کیوں چاہیے ہیں ؟ اس کا جواب دل دہلا دینے والا ہے اور یہ شیطانی مذہب اور ایلومیناتی تنظیم کی خفیہ رسومات میں بچوں قربانی ، جوان رہنے کے لئے بچوں کا خون پینے  اور ان کے جنسی استحصال سے لے کر انسانی اعضاء کی فروخت کے بین الاقوامی دھندے تک تہہ در تہہ پھیلا ہوا ہے ۔ اس نیٹ ورک سے ٹرانس جینڈرز ، فلم اور میوزک انڈسٹری ، ماڈلنگ ایجنسیز ، بے سہارا بچوں کے فلاحی اداروں سے لے کر ویکسینز تک، سب منسلک ہیں ۔۔ جی ہاں، ویکسینز ، جن پر سوال اٹھانے پر قوم کے “ادھ پڑھ ” دانشور یوں آپ کے دشمن بن جاتے ہیں گویا ان کے دین کی شان میں گستاخی ہو گئی ہو ۔ اور ایل جی بی ٹی ۔۔ جس کے تانے بانے صرف جنسی بے راہ روی آسان کر کے عورت کو خاندان کے تحفظ سے باہر لانا اور اسے مارکیٹ پراڈکٹ یا آبجیکٹ فار ہائر بنا کر اس سے پیسے کمانا نہیں ہے ۔ یہ تو اسکا صرف ایک پہلو ، ایک آسان ترین ہدف ہے ۔۔ اس کا سب سے خوفناک ہدف بچے ہیں ۔۔۔ انہیں صرف عورتیں نہیں چاہیئیں ، انہیں بچے بھی چاہئے ہیں جو حفاظتی دیواروں سے باہر ہوں  ۔۔۔ یوکے کے ایل جی بی ٹی مارچ میں باقاعدہ نعرے لگائے گئے کہ ہم تمہارے بچوں کو لینے آرہے ہیں ۔۔  یورپ میں جہاں ہر انسان کی ہر گلی محلے میں سرویلنس ہو رہی ہے ، وہاں سالانہ ڈھائی لاکھ بچوں کا گُم ہو جانا کیسے ممکن ہے ؟

اور یہ مت سمجھیں کہ پاکستان اس شیطانیت سے محفوظ ہے۔ ایل جی بی ٹی کمیونٹی اس نیٹ ورک کا اہم حصہ ہے۔ اے آر وائے اور پیمرا کے کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ دوبارہ پڑھیں اور سوچیں کہ حالات کدھر جا رہے ہیں۔  سپریم کورٹ اللہ کے بند کئے ہوئے جن راستوں کو کھولنے کا حکم دے رہی ہے ، وہ راستے کس منزل کو جاتے ہیں ؟ ڈراموں اور جوائے لینڈ جیسی فلموں کے زریعے ایل جی بی ٹی کو پروموٹ کرنے کی جرات کیسے ہو جاتی ہے ، تعلیمی اداروں میں کیا ہو رہا ہے؟ کئی یونیورسٹی اساتذہ کھلے عام اسلام کی تحقیر اور ایل جی بی ٹی کی پروموشن کیوں کر رہے ہیں اور اگر یہ پکڑے جائیں تو پاکستان کے اندر اور دنیا بھر میں “انسانی حقوق” کے نام پر کونسا نیٹ ورک انہیں بچانے پہنچتا ہے  ۔۔ جو بائیڈن نے “پاکستان میں انگریزی کے ان اساتذہ کے لئے پانچ لاکھ ڈالر گرانٹ” کا اعلان کیوں کیا تھا جو “ٹرانس جینڈر نوجوانوں” پر فوکس کریں گے اور یہ گرانٹ وصول کرنے والے “تیرہ” سال سے بچیس سال کے جوانوں پر یہ پروگرام لاگو کریں گے ۔۔  یاد رہےکہ ٹرانس جینڈر وہ ہیں جو اپنی قدرتی جنس تبدیل کروا کر دوسری جنس اختیار کرتے ہیں ۔۔  اور پھر اس سب کو قانونی راستہ دینے کے لئے سپریم کورٹ میدان میں ہے تاکہ کوئی شکایت لے کر جائے بھی تو صراط مستقیم کی خواہش رکھنے والوں کے لئے سب راستے بند ہوں ۔

یہ یاد رکھیں کہ جیفری ایپسٹین کا ایلیٹ رنگ اس مکروہ نیٹ ورک کا ایک حصہ ہے اور ضروری نہیں کہ اس کی فائلز میں سے سب کچھ پبلک کیا گیا ہو۔ اس کی فایلز کا لیک ہونا بھی سوچا سمجھا عمل ہے جس میں کئی لوگوں کی پردہ داری کی گئی اور کئی لوگوں کو کسی حد تک ایکسپوز کیا گیا ہے تاکہ مستقبل قریب میں لوگوں کے لئے یہ پرانی اور عام بات محسوس ہو سکے ۔ کل کو بات پرانی ہو جائے گی ۔۔ دو ہزار چوبیس میں  نیو یارک میں یہودی عبادت گاہ کے نیچے زیر زمین سرنگ ملی تھی جس سے بچوں کے استحصال کے خوفناک ثبوت سامنے آئے تھے ۔ کیا ہوا اس کا؟ صرف اس سرنگ کو خالی کرنے کے احکامات جاری ہوئے اور بس؟ اور یاد رہے کہ مولوچ اور بال کو بچوں کی قربانی دینے والے صرف اس ایلیٹ شیطانی نیٹ ورک میں نہیں ہے ۔ یہ انڈیا میں بھی ہوتا ہے ۔ کالی دیوی کے مجسمے کو بچوں کی قربانی چڑھانے کی خبریں بہت کم منظر عام پر آپاتی ہیں ۔ دو ہزار چھ میں اترپردیش میں تین سالہ آکاش کو کالی دیوی کے لئے قربان کرنے کی خبر تو انٹرنیشنل پرنٹ میڈیا تک گئی ۔
اس شیطانی نیٹ ورک کے بارے میں لکھنے کے لئے اتنا کچھ ہے کہ سمجھ نہیں آتی کہاں سے شروع اور کہاں ختم کروں ۔ بہرحال مسلمان اور آرتھوڈوکس عیسائی جب تک خاندانی نظام کو بچا سکے ، وہ صرف اپنے لئے نہیں ، ساری انسانیت کے لئے فرض کفایہ ادا کریں گے ۔

ابھی وقت ہے ۔۔ اپنے خاندان کو بچا لیں ۔۔ اپنے بچوں کو بچا لیں۔۔۔ اپنے بچوں کی پہرے داری کریں، ان کی تربیت سکولوں پر نہ چھوڑیں، انہیں مغربی تہذیب کا دلدادہ نہ بنائیں ۔ بہرحال ہماری تہذیب مغربی تہذیب سے کہیں برتر ہے جہاں بچے سے بوڑھے تک، سب کی حفاظت کا انتظام ہے ۔ شیطان ہر طرف سے حملہ آور ہے۔  اللہ کی رسی کو پکڑ کر رکھیں، اسی میں فلاح ہے ، اسی میں تحفظ ہے اور اسی میں نجات ہے۔ 

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مِنۡ خَلۡفِہِمۡ وَ عَنۡ اَیۡمَانِہِمۡ وَ عَنۡ شَمَآئِلِہِمۡ ؕ وَ لَا تَجِدُ اَکۡثَرَہُمۡ شٰکِرِیۡنَ ﴿۱۷﴾
پھر میں یقیناً ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے ان کے پاس آؤں گا، اور (نتیجتاً) تو ان میں سے اکثر لوگوں کو شکر گزار نہ پائے گا۔

(عائشہ غازی)

#EpsteinFiles

Exit mobile version