Site icon اردو محفل

خِلافت کی ظاہِری و باطِنی اور سِیاسی و رُوحانی  تقسیم کے متعلق  چند گزارشات

اَفضلُ البشر بعد الانبیاء  سیدنا صدیق اکبر کی اَفضَلِیّت کو  مشکوک و متنازع بنانے کے لیے خِلافت کی ظاہِری و باطِنی اور سِیاسی و رُوحانی  تقسیم کے متعلق  چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں ،  اہل علم سے انصاف کے ساتھ  توجہ کی  درخواست ہے ۔۔۔۔

اولا ۔  خِلافت کی  ظاہِری و باطِنی  تقسیم پہ  قرآن مجید ، حدیث و سنت  اور  اِجماعِ اُمت سے  بطور دلیل و تائید   کیا  پیش کیا جا سکتا ہے  ؟
 
ثانیا ۔  خِلافت کی ظاہِری و باطِنی  تقسیم ،   یہ تقسیم  کب منظر عام پہ  آئی ؟

ثالثا ۔  جس وقت  سیدنا صدیق اکبر کی خِلافتِ مبارَکہ کے لیے بیعت کی جا رہی تھی،  کیا  اسی دوران یا پھر  بعد میں کسی بھی  وقت سیدنا حیدر کرار کی ” روحانی خلافت ”   کے لیے بھی بیعت کی گئی  ؟
جبکہ  مولائے مرتضی جناب حیدر کرار نے  خود   جناب صدیق اکبر سے فرمایا  :

” قدمك رسولُ اللہ فمن یؤخرك “

اے ابوبکر ،  نبی کریم نے آپکو مُقدَّم فرمایا ہے ، پھر  کون  آپکو مُؤخَّر کر سکتا ہے ؟

رابعا ۔  کیا  خلافت کی ظاہِری و باطِنی،  اور  سیاسی و روحانی تقسیم ، خیر القرون (صحابہ _ تابعین _ تبع تابعین) سے ثابت ہے،  اور خیرُ القرون کے نفوسِ مُقدّسہ میں سے  کس بزرگ ہستی نے فرمایا ہے کہ،  سیدنا صدیق اکبر  فقط  ظاہری خلیفہ ہیں،  اور  ولایت و روحانیت میں  فائق نہیں ہیں  ؟  حالانکہ  جناب حیدر کرار نے تو  اپنی زبانِ  حق ترجمان سے یوں  ارشاد فرمایا :

” رضینا لدنیانا من رضی اللہ و رسوله  لدیننا ”

مولائے مرتضی فرماتے ہیں :  ہم  اپنے دنیاوی امور کے لیے بھی اسی ہستی ابوبکر پہ راضی ہو گئے کہ  جسے   اللہ تعالی اور رسول کریم نے  ہمارے دین کا مقتدا و پیشوا بنایا ۔

کیا  دینی پیشوا ہونا ، روحانی خلافت نہیں ہے  ؟

کیا اس فرمانِ مرتضی کے بعد بھی  کوئی اِبھام باقی رہ جاتا ہے  ؟ 

اور خاتم الفقہاء  سید ابن عابدین نے ” إجابة الغوث ” میں  صراحت کے ساتھ لکھا کہ  سیدنا صدیق اکبر  بالاتفاق  پہلے ” قطب ”  ہیں ۔۔۔۔

اسی لیے  اہل سنت و جماعت  سواد اعظم کا  اس امر پر اتفاق ہے کہ ،  مولائے مرتضی  امام الاولیاء  حضرت سیدنا حیدر کرّار  کمالاتِ ولایت کے قُطبِ مَدار  ہیں، اور آپکے رُوحانی کمالات و فیوضات کا مُنکِر خارِ جی  مردود  ہے ۔

جبکہ سیدنا صدیق اکبر  کمالاتِ نبوت کے قُطبِ مَدار ،  اور افضل الخلق بعد الانبیاء ہیں، اور آپکی  روحانی برتری کا منکر  را فِضی خبیث ہے .

لہذا   خیر و سعادت  اور ہدایت و نجات  فقط اسی میں ہے کہ،  سوادِ اعظم کے واضح و محکم  اور صریح  عقائد و نظریات کی موافقت و پابندی کو لازم پکڑا جائے ،  اسکے علاوہ اپنے نفس کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے  شاذ اور غیر مختار اقوال بیان کر کے عامة الناس مسلمین کو  تشویش و تردد اور شک کی راہ پہ لگانا ،   قبر و آخرت میں خسارے اور پھچتاوے کے علاوہ کچھ نہیں ۔

اللہ کریم،  ہمیں اپنے ہدایت یافتہ بندوں میں شامل فرمائے، اور اپنے انعام یافتہ بندوں کی غلامی و معیت میں ایمانِ کامل پر خاتمہ سے مکرم فرمائے ۔

آمین .  بجاہ النبی الامین صلّی اللہ علیہ والہ وصحبہ وسلم اجمعین ۔ 

✍️  عبـدہ المـذنب
  سید ذوالقرنین حیدر

Exit mobile version