امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں پیش کی جانے والی روایت کے جوابات
جوابِ اوّل:
مسلم شریف کی اس روایت کو بعض اوقات کچھ بڑھا چڑھا کر بتایا جاتا ہے ، لہذا اس کی عبارت اور واقعہ کچھ اس انداز میں مذکور ہے۔
عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ اَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَاءَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ قَالَ فَجَاءَ فَحَطَانِيْ حَطْأَةً وَّقَالَ اِذْهَبْ اُدْعُ لِیْ مُعَا وِ يَةَ قَالَ فَجِئْتُ قُلْتُ هُوَ يَاْكُلُ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِيَ اِذْهَبْ فَادْعُ لِیْ مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَاْكُلُ فَقَالَ لَا اَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ۔(مسلم شریف جلد دوم صفحہ نمبر 325)
ترجمہ : ابن عباس کہتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ تو میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔ آپ نے مجھے باہر کیا۔ اور فرمایا جاؤ معاویہ کو میرے پاس بلا لاؤ۔ میں گیا تو وہ اس وقت روٹی کھا رہے تھے۔ میں واپس آ گیا۔ آپ نے دوبارہ بلانے کو بھیجا۔ میں نے واپس آ کر پھر کہا۔ وہ روٹی کھا رہے ہیں، اس پر آپ نے فرمایا۔ اللہ اس کے پیٹ کو سیر نہ کرے۔
مسلم شریف سے ہی حوالہ محدث ہزاروی نے دیا تھا۔ اور اس میں لکھا کہ معاویہ روٹی کھاتا رہا۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پرواہ نہ کی۔ آپ قارئین بتائیں۔ کیا مسلم شریف میں وہ مضمون ہے، جو محدث ہزاروی نے پیش کر کے امیر معاویہ کو موردِ الزام ٹھہرایا؟ معلوم ہوا کہ محدث ہزاروی کے دل میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بغض و حسد اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ کہ وہ اس کی خاطر احادیث کو توڑنے سے بھی باز نہیں آیا۔ اسی حدیث کو بمعه تشریح ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے قلم سے سنیئے۔
رَوَى مُسْلِمٌ عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا اَنَّهُ كَانَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَاءَ لَهُ النَّبِيُّ فَهَرَبَ وَتَوَارٰى مِنْهُ فَجَاءَ لَهُ رَضَرَبَ ضَرْبَةً بَيْنَ كَتِفَيْهِ ثُمَّ قَالَ اِذْهَبْ فَادْعُ لِیْ مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَاْكُلُ ثُمَّ قَالَ اِذْهَبْ فَادْعُ لِیْ مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَاْكُلُ قَالَ لَا اَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ : وَلَا تُفْسُ عَلَى مُعَاوِيَةَ فِىْ هَذَا الْحَدِيْثِ اٰفَةٌ لِاَنَّ الْاَوَّلَ فَلَا تَدْ بِيْسَ فِيْهِ عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ رَضِيَ رَسُوْلُ اللَّهِ يَدْعُوْكَ فَتَبَاطَأَ فَاِنَّمَا يَحْتَمِلُ اَنَّ اِبْنَ عَبَّاسٍ لَمَّا رَآهُ يَاْكُلُ اِسْتَحْيَا اَنْ يَّدْعُرْهُ فَجَاءَ وَاَخْبَرَ النَّبِيَّ بِاَنَّهُ يَاْكُلُ وَكَذٰا فِی الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ۔
(تطهير الجنان ص 28 / الفصل الثالث)
ترجمہ: امام مسلم نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ذکر کی کہ یہ ایک مرتبہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ تو حضور تشریف لائے۔ آپ کو دیکھ کر ابن عباس بھاگ کھڑے ہوئے۔ اور چھپ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ اور ان کے کندھوں کے درمیان تھپکی دے کر فرمایا، جاؤ معاویہ کو بلا لاؤ۔ چنانچہ ابن عباس گئے۔ اور واپس آ کر اطلاع دی۔ وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ آپ نے دوبارہ بلانے کے لیے بھیجا۔ ابن عباس نے اس مرتبہ بھی عرض کیا۔ وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا، اللہ اس کے پیٹ کو سیر نہ کرے۔۔۔۔۔۔۔ اس حدیث سے معاویہ رضی اللہ عنہ پر کوئی اعتراض و نقص نہیں آتا، کیونکہ اس میں کہیں یہ موجود نہیں کہ ابن عباس نے جا کر معاویہ سے کہا ہو، آپ کو حضور بلا رہے ہیں۔ اس پیغام کے سننے کے بعد انہوں نے کھانا نہ چھوڑا ہو۔ ہاں یہ احتمال بے شک ہے کہ جب ابن عباس انہیں بلانے گئے، اور دیکھا کہ وہ کھانا کھانے میں مصروف ہیں، تو ازروئے شرم انہیں پیغام پہنچائے بغیر واپس آ کر حقیقتِ حال بیان کر دی ہو۔ اسی طرح دوسری مرتبہ بھی ہوا ہو۔
جوابِ ثانی
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو محدث ہزاروی امیر معاویہ کے حق میں بددعا سمجھ بیٹھا ، حدیثِ مذکورہ میں آپ نے ابن حجر مکی کی تشریح دیکھی۔ انہوں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اس حدیث سے الزام و اعتراض کرنا بے سود قرار دیا۔ دراصل حسد و بغض نے محدث ہزاروی کی آنکھیں ان حقائق سے اندھی کر دی ہیں، اس لیے اسے اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔
حدیثِ مذکورہ سے جب یہ ثابت کیا گیا۔ کہ امیر معاویہ نے حضور کا ارشاد نہ مانا۔ تو پھر اس پر سورۂ انفال کی آیت پیش کر کے اس کی مخالفت کا الزام دھر مارا، اور یہاں تک لکھ دیا۔ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک نہ کہنے کی وجہ سے آپ نے بھوکا مرنے کی بددعا دی۔ اور پھر امیر معاویہ کا انجام ایسا ہی ہوا۔ امام مسلم نے اسی حدیث کو مناقبِ امیر معاویہ میں ذکر کر کے محدث ہزاروی کے عزائم پر خاک ڈالی۔ محدثینِ کرام اسے ان کی منقبت کہیں، اور محدث ہزاروی کو نقص نظر آتا ہے۔
یہ حدیث جس باب میں درج ہوئی ہے۔ امام مسلم نے اس باب کا ان الفاظ سے ذکر کیا ہے۔ ”بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِیُّ اَوْ سَبَّهُ اَوْ دَعَا عَلَيْهِ وَلَيْسَ هُوَ اَهْلًا لِذٰلِكَ كَانَ لَهُ زَكٰوةً وَّاَجْرًا وَّرَحْمَةً۔“ترجمہ: اس باب میں وہ احادیث مذکور ہوں گی۔ جو بظاہر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کسی کے لیے رحمت کی دوری یا بددعا نظر آئی ہے۔ حالانکہ مذکورہ شخص اس کا اہل نہیں۔ تو آپ کا ایسا فرمانا اس شخص کے گناہوں کی معافی، ثواب اور رحمت کا موجب بن جاتا ہے۔
وَقَدْ فَهِمَ مُسْلِمٌ مِنْ هَذَا الْحَدِيْثِ اَنَّ مُعَاوِيَةَ لَمْ يَكُنْ مُسْتَحِقًّا لِّلدُّعَاءِ عَلَيْهِ فَـلِـهَـذَا اَدْخَـلَـهُ فِيْ هَذَا الْبَابِ وَجَعَلَهُ غَيْرُهُ مِنْ مَنَاقِبِ مُعَاوِيَةَ لِاَنَّهُ فِي الْحَقِيْقَةِ يَصِيْرُ دُعَاءً لَّهُ۔(شرح كامل للنووى على المسلم ص 325)
ترجمہ: امام مسلم نے اس حدیث سے یہ سمجھا کہ امیر معاویہ اس بددعا کے مستحق نہ تھے۔ اس لیے امام مسلم نے اسے اس باب میں ذکر کیا۔ لیکن دوسرے محدثین نے اسے امیر معاویہ کے مناقب میں شمار کیا، کیونکہ حقیقت میں یہ ان کے لیے دعا بن گئی۔
اَخْرَجَ مُسْلِمٌ هَذَا الْحَدِيْثَ بِعَيْنِهِ لِمُعَاوِيَةَ وَ اَتْبَعَهُ بِقَوْلِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنِّىْ اِشْتَرَطْتُ عَلٰى رَبِّيْ فَقُلْتُ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ اَرْضٰى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ وَاَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَاَيُّمَا اَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ اُمَّتِىْ بِدَعْوَةٍ اَنْ يَّجْعَلَهَا لَهُ طُهْرًا وَّزَكٰوةً وَّقُرْبَةً يُّقَرِّبُهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ (اسد الغابة فى معرفة الصحابى صلہ جلد چہارم ص 386 مطبوعہ بیروت جدید)
ترجمہ: امام مسلم نے اس حدیث کو امیر معاویہ کے بارے میں ذکر کیا۔ اور اس کے ساتھ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول بھی ذکر کیا۔ «میں نے اپنے رب پر یہ شرط رکھی ہے۔ کہ میں بھی ایک بشر ہوں۔ اور مجھے بھی عام بشروں کی طرح خوشی یا کسی پر غصہ آ جاتا ہے۔ سو جس کسی امتی پر میں بددعا کروں۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو اس امتی کے حق میں قیامت کے دن پاکیزگی گناہ اور اپنے قرب کا سبب بنا دے گا۔
عَنِ اِبْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ اَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَجَاءَ رَسُوْلُ اللَّهِ قَدْ جَاءَ فَقُلْتُ مَا جَاءَ اِلَّا اِلَيَّ فَلَخْتَبَأْتُ عَلٰی بَابٍ فَجَاءَ نِيْ فَخَطَا نِیْ خَطْأَةً اَوْ خَطَاتَيْنِ ثُمَّ قَالَ اِذْهَبْ فَادْعُ لِیْ مُعَاوِيَةَ وَكَانَ يَكْتُبُ الْوَحْيَ قَالَ فَذَهَبْتُ فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَقِيْلَ اِنَّهُ يَاْكُلُ فَاَتَيْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ فَقُلْتُ اِنَّهُ يَاْكُلُ فَاَتَيْتُ الثَّانِيَةَ فَاُخْبِرْتُهُ فَقَالَ فِی الثَّالِثَةِ لَا اَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ قَالَ فَمَا شَبِعَ بَعْدَ هَادَ قَدْ اِنْتَفَعَ مُعَاوِيَةُ بِهٰذِهِ الدَّعْوَةِ فِیْ دُنْيَاهُ وَاٰخِرَتِهِ اَمَّا فِیْ دُنْيَاهُ فَاِنَّهُ لَمَّا صَارَ اِلَى الشَّامِ اَمِيْرًا كَانَ يَاْكُلُ فِی الْيَوْمِ سَبْعَ مَرَّاتٍ يُجَاءُ بِقَصْعَةٍ.فيْهَا لَحْمٌ كَثِيْرٌ وَ بَصَلٌ فَيَاْكُلُ مِنْهَا وَ يَاْكُلُ فِي الْيَوْمِ سَبْعَ اَكَلَاتٍ بِلَحْمٍ۔۔ وَمِنَ الْحَلْوٰی وَالْفَاكِهَةِ شَيْئًا كَثِيْرًا وَيَقُوْلُ وَاللَّهِ مَا اَشْبَعُ وَاِنَّمَا اَعْيَا وَهَذِهِ نِعْمَةٌ يَرْغَبُ فِيْهَا كُلُّ الْمُلُوْكِ وَاَمَّا فِی الْاٰخِرَةِ فَقَدْ اِتَّبَعَ مُسْلِمٌ هَذَا الْحَدِيْثَ بِالْحَدِيْثِ الَّذِىْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُمَا مِنْ عِقَابٍ فِيْهِ عَنْ جَمَاعَةٍ مِّنَ الصَّحَابَةِ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ قَالَ اللَّهُمَّ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ فَاَيُّمَا عَبْدٍ سَبَبْتُهُ اَوْ جَلَدْتُهُ اَوْ دَعَوْتُ عَلَيْهِ وَلَيْسَ لِذٰلِكَ اَهْلًا فَاجْعَلْ ذٰلِكَ كَفَّارَةً وَّقُرْبَةً تَقَرَّبُهُ بِهَا عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَكَرَ مُسْلِمٌ مِنَ الْحَدِيْثِ الْاَوَّلِ وَهَذَا الْحَدِيْثِ فَبِالْفَضِيْلَةِ لِمُعَاوِيَةَ۔
(البداية والنهاية جلد 1 ص 119 تا 120 مطبوعہ بیروت جدید)
ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ میں لڑکوں کے ساتھ کھیل میں مشغول تھا۔ کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں سمجھا کہ آپ میری طرف آئے ہیں۔ لہذا میں ایک دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔ آپ میرے پاس تشریف لائے۔ اور مجھے ایک یا دو تھپکیاں دیں۔ پھر فرمایا، جاؤ جا کر معاویہ کو میرے پاس بلا لاؤ۔ معاویہ وحی لکھا کرتے تھے۔ کہتے ہیں، کہ میں گیا اور آواز دی۔ تو کہا گیا کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ میں نے جب تیسری مرتبہ بھی یہی الفاظ آ کر دہرائے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔ کہتے ہیں، کہ پھر اس کے بعد معاویہ کا پیٹ نہ بھرا۔
اس دعا کا نفع انہوں نے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اٹھا لیا دنیا میں اس طرح کہ جب وہ شام کی طرف بحیثیت امیر روانہ ہوئے، تو وہ روزانہ سات مرتبہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ بہت بڑے پیالے میں بکثرت گوشت ہوتا اور لہسن و پیاز ہوتا۔ وہ کھاتے تھے۔ اور دن میں سات مختلف خوراکیں کھاتے کبھی گوشت کبھی حلوہ کبھی پھل اور دوسری بہت سی اشیاء اور کہتے، خدا کی قسم! پیٹ نہیں بھرا، لیکن تھک گیا ہوں۔
یہ ایسی نعمت ہے کہ بادشاہوں کی مرغوب و مطلوب ہوتی ہے۔ اور آخرت میں اس کا فائدہ یوں کہ امام مسلم نے اس حدیث کے بعد ایک اور حدیث ذکر کی جسے امام بخاری وغیرہ نے کئی طریقوں سے ذکر کیا ہے۔ اور صحابہ کرام کی ایک جماعت اس کی راوی ہے۔ وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی۔ «اے اللہ! میں ایک بشر ہوں۔ لہذا تقاضائے بشریت کے مطابق اگر کسی بندے کو برا بھلا کہہ دوں یا اس کو کوڑے سے ماروں یا اس کے لیے بددعا کروں لیکن وہ اس کا مستحق نہ ہو۔ تو اس کو اس بندے کے لیے قیامت کے دن گناہوں کا کفارہ اور اپنی قربت کا ذریعہ بنا دینا۔» امام مسلم نے حدیثِ اول کے ساتھ دوسری حدیث اس لیے ذکر کی۔ تاکہ اس کو فضیلتِ معاویہ سمجھا جائے۔
لمحہ فکریہ:
قارئینِ کرام! یہی حدیث جس کی تشریح مختلف محدثینِ کرام سے نقل کی ہے، حقیقت میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کی دلیل ہے۔ لیکن محدث ہزاروی واحد محدث ہے، جسے اس میں امیر معاویہ کی توہین یا بے عزتی نظر آئی۔ اپنے سوا اگر کوئی اور محدث اس کا ہم نوا ہوتا۔ تو ضرور اس کا نام بھی لیا جاتا۔ محدثینِ کرام نے چند وجوہ سے اسے منقبتِ معاویہ کی دلیل بنایا اور اس کے خلاف کی تردید کی۔ پہلی بات یہ کہ امیر معاویہ قابلِ نفرت تب ہوتے؛ کہ ابن عباس جا کر انہیں یوں عرض کرتے، کہ آپ کو باہر اللہ کے رسول کھڑے بلا رہے ہیں۔ پھر اس کے جواب میں وہ ٹال مٹول کرتے اور کھانے میں مشغول رہتے۔قبن عباس نے روٹی کھاتے دیکھ کر واپسی کا راستہ لیا، اور اگر واقعہ حضور کو بیان کر دیا۔
دوسرا یہ کہ ابن عباس نے جب آپ کا ارشاد سن کر امیر معاویہ کے دروازہ پر جا کر آواز دی۔ تو کسی نے جواب دیا وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ بس یہی جواب سن کر واپس لوٹ آئے، جواب دینے والے کو یہ نہ کہا۔ کہ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم بلا رہے ہیں۔
تیسرا یہ کہ امام مسلم نے اس حدیث کے ساتھ ایک اور حدیث ذکر فرمائی۔ جو ایسی احادیث کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی بتاتی ہے۔ یعنی امیر معاویہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ان کے لیے باعثِ نفع ہوا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی آپ کی اس بددعا سے وہ بہرہ ور ہوئے۔ یہ اس طرح کہ ایک مرتبہ آپ نے ابوذر غفاری سے فرمایا جو آدمی کلمہ پڑھ لیتا ہے۔ وہ جنتی ہوگا۔ ابوذر نے عرض کی اگرچہ وہ زانی اور چور ہو؟ تین مرتبہ اسی کے جواب میں آپ نے فرمایا، اگرچہ وہ زانی اور چور ہو۔ اور پھر فرمایا، ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ یہ ان کے لیے بددعا نہ تھی۔ بلکہ محبوب کی طرف سے ایک پیار بھرا کلام تھا۔ اس لیے ابوذر جب بھی یہ روایت بیان کرتے ساتھ ہی رَغِمَ اَنْفُ اَبِیْ ذَرٍّ بڑے پیار سے بیان کرتے۔ اللہ تعالیٰ ہدایتِ عطا فرمائے، اور حقیقت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
فَاعْتَبِرُوْا يٰا اُولِی الْاَبْصَارِ
(مناظر اسلام حضرت علامہ محمد علی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ: دشمنان امیر معاویہ کا علمی محاسبہ: صفحہ 160-168)
ہارون القادری
۲۶ مئی ۲۰۲۶
