Site icon اردو محفل

اخفش کون ہے

عربی نحو و لغت کی کتابوں میں “اخفش” کا نام بکثرت آتا ہے۔ اکثر طلبہ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اخفش کون ہیں؟ آیا یہ ایک ہی شخصیت ہیں یا متعدد اہلِ علم اس لقب سے معروف ہوئے ہیں؟
اہلِ علم کی تحقیق کے مطابق “اخفش” کے لقب سے موسوم افراد کی تعداد سترہ (17) تک بیان کی جاتی ہے، تاہم ان میں تین شخصیات سب سے زیادہ معروف اور مرکزی حیثیت رکھتی ہیں، جنہیں اخافشِ ثلاثہ کہا جاتا ہے۔

امام سیوطی علیہ الرحمہ نے اخفش کہلانے والے جن گیارہ افراد کا ذکر کیا ہے، ان کے نام حسبِ ذیل ہیں:
الْأَخْفَش: أحد عشر؛ أشهرهم ثَلَاثَة، الْأَكْبَر: عبد الحميد بن عبد الْمجِيد، والأوسط سعيد ابْن مسْعدَة، والأصغر عَليّ بن سُلَيْمَان، وَالرَّابِع أَحْمد بن عمرَان، وَالْخَامِس أَحْمد بن مُحَمَّد الْموصِلِي، وَالسَّادِس خلف بن عمر، وَالسَّابِع عبد الله بن مُحَمَّد، وَالثَّامِن عبد العزيزبن أَحْمد، وَالتَّاسِع عَليّ بن مُحَمَّد المغربي الشَّاعِر، والعاشر عَليّ بن إِسْمَاعِيل الفاطمي، وَالْحَادِي عشر هَارُون بن مُوسَى بن شريك.
(بغية الوعاة، ٢/٣٨٩)
ترجمہ: اخفش کہلانے والے افراد گیارہ ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور تین ہیں: اخفش اکبر عبد الحمید بن عبد المجید، اخفش اوسط سعید بن مسعدہ، اور اخفش اصغر علی بن سلیمان۔ چوتھے احمد بن عمران، پانچویں احمد بن محمد موصلی، چھٹے خلف بن عمر، ساتویں عبد اللہ بن محمد، آٹھویں عبد العزیز بن احمد، نویں علی بن محمد مغربی شاعر، دسویں علی بن اسماعیل فاطمی، اور گیارہویں ہارون بن موسیٰ بن شریک ہیں۔
اگرچہ امام سیوطی نے گیارہ اخافش کا ذکر کیا ہے، تاہم بعض اہلِ علم نے ان کی تعداد سترہ تک بیان کی ہے۔ بہرحال، ان میں سب سے زیادہ شہرت اخافشِ ثلاثہ کو حاصل ہے۔

اخافشِ ثلاثہ
(١) اخفش کبیر (استادِ سیبویہ)
جن کی کنیت ابو الخطاب اور نام عبد الحمید بن عبد المجید ہے۔
امام ذہبی فرماتے ہیں:
وكان الأخفش الكبير في دولة الرشيد، أخذ عنه: سيبويه، وأبو عبيدة، و هو أبو الخطاب، عبد الحميد بن عبد المجيد الهجري اللغوي.
ترجمہ: اخفش کبیر خلافتِ ہارون الرشید کے دور میں تھے۔ ان سے سیبویہ اور ابو عبیدہ نے علم حاصل کیا۔ ان کی کنیت ابو الخطاب ہے اور نام عبد الحمید بن عبد المجید الہجری اللغوی ہے۔
(٢) اخفش اوسط (شاگردِ سیبویہ)
جن کی کنیت ابو الحسن اور نام سعید بن مسعدہ ہے۔
امام ذہبی فرماتے ہیں:
و كان في أيام المأمون الأخفش الأوسط، شيخ العربية، وهو أبو الحسن سعيد بن مسعدة صاحب سيبويه.
ترجمہ: اخفش اوسط مأمون کے دور کے ہیں۔ انہیں “شیخ العربیہ” کہا جاتا ہے۔ یہ ابو الحسن سعید بن مسعدہ ہیں اور سیبویہ کے شاگرد ہیں۔
(٣) اخفش صغیر
جن کی کنیت بھی ابو الحسن اور نام علی بن سلیمان ہے۔
امام ذہبی فرماتے ہیں:
الأخفش العلامة النحوي، أبو الحسن، علي بن سليمان بن الفضل البغدادي. والأخفش: هو الضعيف البصر مع صغر العين… وهذا هو الأخفش الصغير.
ترجمہ: یہ اخفش صغیر ہیں، مشہور نحوی عالم ابو الحسن علی بن سلیمان بن الفضل البغدادی۔ لفظ “اخفش” ایسے شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کی بینائی کمزور ہو اور آنکھیں چھوٹی ہوں، اور یہی اخفش صغیر ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء میں یہ ترتیب بعینہٖ مذکور نہیں ہے۔)

قبلہ مفتی نثار احمد مصباحی صاحب زیدمجدہ کا افادہ
اخفش صغیر، یعنی علی بن سلیمان، سیبویہ کے معاصر نہیں تھے۔ ان کی وفات 315ھ میں ہوئی، جبکہ سیبویہ کی وفات 180ھ میں یا اس کے کچھ بعد ہوئی۔
(راقم نے پہلے انہیں معاصر لکھا تھا، جس پر حضرت مفتی نثار احمد مصباحی صاحب زید مجدہ نے تصحیح فرمائی۔)
اخفش اکبر یا اخفش کبیر، یعنی ابو الخطاب عبد الحمید بن عبد المجید، سیبویہ کے استاد بھی تھے اور ہم عصر بھی۔ ان کی وفات 177ھ میں ہوئی۔ سیبویہ نے اپنی کتاب الکتاب میں تقریباً پچاس مقامات پر ان کا ذکر کیا ہے۔
اخفش اوسط، یعنی سعید بن مسعدہ (متوفی 215ھ)، سیبویہ کے شاگرد تھے اور تمام اخافش میں سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ جب مطلقاً “اخفش” کہا جاتا ہے تو عموماً اسی اخفش اوسط کی مراد ہوتی ہے۔
کل سترہ (17) اخفش ہیں۔ ان کے ناموں اور اخافشِ ثلاثہ کے احوال و اوصاف کی مزید تفصیل خاکسار کی کتاب “ہم نام مشاہیر” میں موجود ہے۔
میں نے اپنی اطلاع کی حد تک سترہ اخافش کے نام جمع کیے ہیں، ممکن ہے اس سے زیادہ بھی ہوں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
(تعلیق قبلہ مفتی صاحب ختم شد)
ابو الحسن محمد شعیب خان
12 جنوری 2023ء (ترمیم شدہ)

Exit mobile version