Site icon اردو محفل

اسلامو فوبیا اور اس کا تدارک

اسلامو فوبیا اور اس کا تدارک

✍️ پٹیل عبد الرحمٰن مصباحی، گجرات (انڈیا)

اسلام کا مطلب اسلام ہے اور فوبیا کا مطلب ہے خوف. اسلامو فوبیا کا لفظ سنتے ہی ذہن مائل ہوتا ہے ایک ایسے نظریہ کی طرف یا ایسے رویہ کی طرف جس میں نفرت ہے تعصب ہے تشدد ہے بھید بھاؤ ہے، منفی جذبات کا ایک مجموعہ.
یہ لفظ ایک ایسے ذہن کی عکاسی کرتا ہے جس کے لیے اسلام / مسلمان ایک بر انگیختہ کرنے والا تصور ہے، ایک ایسا تصور جو اُسے فوراً چونکا دیتا ہے، پھر چوکنّا کر دیتا ہے اور ڈراتا ہے کہ کہیں کوئی جانی یا مالی نقصان نہ ہو جائے، یہ خوف صرف مادی نقصان کی حد تک نہیں ہوتا بلکہ سیاسی، معاشرتی اور اخلاقی سطح پر یہ خوف دوبالا ہو جاتا ہے.
اسلامو فوبیا سے متاثر ذہن کو بڑا ڈر یہ ستاتا ہے کہ یہ اسلام/مسلمان کہیں اپنی طرح ہمیں بھی ایک “عرب تہذیب” کے سانچے میں نہ ڈھال لے، چنانچہ پہلے مرحلے میں جانی یا مالی طور پر خدشہ بن کر ابھرنے والا یہ منفی جذبہ بڑھتے بڑھتے اخیر میں تہذیبی سطح پر آ کر نفرت کا روپ دھار لیتا ہے.
اسلامو فوبیا میں مبتلا ایک شخص پہلے مسلمان کو صرف اپنے جان مال کا دشمن سمجھتا ہے مگر ایک مرحلے کے بعد وہ اپنی ثقافت کے لیے اسلام کو خطرہ مان کر ہر اس چیز سے نفرت پر اتر آتا ہے جس کا ہلکا سا تعلق بھی اسلام سے ہو بلکہ جو حد سے گزر جائے وہ تو ان چیزوں سے محبت کرنے لگتا ہے جن کے ذریعے اسلام / مسلمان کو خفیف سے خفیف نقصان پہنچایا جا سکے. یورپ تا ایشیا یہ جو رنگ برنگی مسلم مخالف نعرے الگ الگ زبانوں میں لگائے جاتے ہیں وہ اسی آخری درجے کی عکاسی کرتے ہیں.

جہاں تک نفرت کے لیول کی بات ہے تو اسلامو فوبیا کا یہ رویہ یا جذبہ تمام علاقوں اور اقوام میں یکساں طور پر نہیں پایا جاتا، بلکہ الگ الگ جگہ، الگ الگ قوموں کے درمیان، جدا جدا طریقوں سے، مختلف پیرایوں میں، اپنا اثر دکھاتا ہے. عیسائی یا یہودی کی مسلم نفرت الگ طرح کی ہوتی ہے جو ایک خاص تناظر میں پروان چڑھی ہوتی ہے. مغربی یا یورپی کا اسلام سے خوف خاص قسم کا ہوتا ہے جو الگ طرح کے جغرافیائی مفہوم کے تحت ترتیب پاتا ہے. ہنود کا اسلام سے بَیر الگ فکری نوعیت رکھتا ہے جو مخصوص نظریاتی مواد سے مرکب ہوتا ہے. یعنی علاقے اور قوم کے ساتھ ساتھ اسلامو فوبیا کی وجوہات اور اس کا پیش منظر بدلتا رہتا ہے. ذیل میں اسلامو فوبیا کے تنوع اور درجات کو قدرے وضاحت کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں.

ایک عیسائی یا یہودی کا اسلامو فوبیا میں مبتلا ہونے کا ممکنہ پس منظر کیا ہو سکتا ہے. درست اندازے کے مطابق عیسائی یا یہودی اسلام کی وجہ سے اپنی آسمانی سند کھو دینے کا غم اور تنسیخ کا ماتم لیے ہوئے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ماضی قریب میں استشراق کے شعبے کی وجہ سے اس میں گورے پن کی نخوت بھی شامل ہو گئی ہے. پہلے صلیبی جنگوں کا جنون اور اب استعماری ذہنیت کا پاگل پن، دونوں مل کر ایک عام عیسائی / یہودی ذہن کو اسلام کے بارے میں سوائے منفیت کے کچھ نہیں پروستے. ضرورت پڑے تو یہ دونوں اہلِ کتاب ہونے کے باوجود مسلمانوں کی دشمنی میں [جو کم از کم اہل کتاب تو ہیں] مشرکین کے ساتھ ہاتھ ملانے سے بھی نہیں جھجکتے. یہ اہل کتاب ہیں جو آج کی دنیا میں اہل کتاب کہلاتے ہوئے شرک کے ساتھ کھڑے ہو رہے ہیں تاکہ آخری کتاب کی دعوت دینے والے اسلام سے اپنا حساب برابر کر سکیں. نسخ کے آسمانی فیصلے کو یہ اپنی تذلیل سمجھ کر خدا دشمنی میں اندھے ہوئے جاتے ہیں. ان کے درمیان خاص صیہونی یہودی چار ہاتھ بلکہ چار سو میل آگے ہے.

ایک مغربی یا یورپی عام شخص جسے عیسائیت بیزار یا یہودیت بیزار لبرل کہہ سکتے ہیں وہ خود تو اتنا گیا گزرا نہیں ہوتا کہ بس یوں ہی اسلام دشمنی کا مَن بنا لے مگر اسے مسلسل دو صدیوں سے اسلام / مسلمان کا خوف دلایا جا رہا ہے، پہلے یعنی گزشتہ دو صدیوں میں استشراق و استعمار کے ذریعے، اور اب یعنی گزشتہ دو دہائیوں میں سیکولر دانشور و میڈیا کے ذریعے. کَل مستشرقین نے بتایا کہ مسلمان پسماندہ جاہل جنگلی مشتعل مخلوق ہے اور استعمار نے ایسی مخلوق کو قابل نفرت گردان کر ان پر حکمرانی کا حق جتایا، گویا یوں ظاہر کیا گیا کہ اسلام مذکورہ تمام حقارت آمیز رویوں کی حوصلہ افزائی کرنے والا مذہب ہے اور مسلمان اُن تمام منفی جذبات کا معجون مرکب. اسی طرح آج سیکولر قانون ساز اور سرمایہ داری کا علم بردار صحافی یہ بتا رہا ہے کہ مسلمان متشدد اور ترقی کا مخالف ہے اور اسلام تشدد کو بڑھاوا دینے والا ایک عربی مذہب. استشراق، استعمار، سیکولر سیاست اور سرمایہ دارانہ صحافت کے اِن حربوں کی وجہ سے ایک عام مغربی بندہ اسلام کو ترقی یافتہ مغرب کے خلاف روایت پرست زوال پذیر مشرق کی یلغار سمجھ کر سالہا سال سے ڈرے جا رہا ہے مرے جا رہا ہے.

رہے ہنود خصوصاً ہندوتوا سے متاثر ہنود تو وہ اسلام کی دعوتِ توحید سے خوفزدہ ہیں کیوں کہ یہ شرک سے متضاد بلکہ اس کی جڑ اکھیڑنے والی ہے، پھر وہ اپنی زمین پرستی کو لے کر مسلمان سے سہمے ہوئے ہیں اس لیے کہ اسلام میں آبائی زمین کے تقدس کا کوئی کانسپٹ نہیں ہے. ساتھ ہی ساتھ انہیں پرانی غلامی کی یاد بھی ستاتی ہے کہ ہمیں مسلمانوں سے ان کی سلطنتی سرگرمیوں کا حساب چکتا کرنا ہے، مگر اس سب سے زیادہ فکر انہیں یہ ہے کہ اگر ہم نے اسلام / مسلمان کو ذرا بھی تحمّل کے ساتھ رسپانس کیا یا تھوڑا بھی اسپیس دیا تو ہماری قدیم تہذیب خطرے میں پڑ جائے گی. ان کے زعم کے مطابق ڈیڑھ ہزار سال پرانی غیر ملکی تہذیب کا پانچ ہزار سالہ مقامی سَنسکرتی پر غالب آ جانا عابدینِ ارض کے لیے ڈوب مرنے کا مقام نہیں تو اور کیا ہے. یہاں اگر لبرل ہندو کو الگ نکالیں تو اس کے لیے بھی خوف دلانے کے کم و بیش وہی اسباب ہیں جو ایک عیسائی یا یہودی لبرل کے لیے ہم ما قبل میں ذکر کر چکے ہیں.

یہ ہے وہ کئی طرح کے تناظر جن کو اسلامو فوبیا کے تدارک سے پہلے سمجھنا بہت ضروری ہے. ویسے اسلام دشمنی کی راہ میں ملحدین اور شیطان کے پجاری دجال پرست بھی برابر کے شریک ہیں مگر ہم انہیں سب کا دشمن سمجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں. تناظر کی مختصر بحث کے بعد ہم ایک اہم نکتے کی طرف چلتے ہیں.

مختلف جذبات اور وجوہات سے بھرے ہوئے درج بالا نفرتی گراف کے باوجود سب سے اہم سوال یہ ہے کہ
ناسخ و منسوخ کا تنازعہ، توحید و شرک کا معرکہ اور جدید آزاد روش اور روایت پسندی کا ٹکراؤ،
یہ تو اپنے آپ میں پرانی باتیں ہیں. یہ تو پہلے بھی تھیں مگر اسلامو فوبیا نہ تھا، دور جدید میں یہ اسلام مخالف رویہ اچانک کہاں سے پیدا ہو گیا؟ اس کی بنیاد میں کیا چیز کار فرما ہے؟ مطلب یہ کہ مذاہب کا آپسی ٹکراؤ تو پہلے بھی تھا مگر زمینی سطح پر اسلامو فوبیا نام کی کوئی شے ہم تاریخ کے اوراق میں نہیں پاتے ہیں. اب یہ جدید دنیا میں خصوصاً گذشتہ چند دہائیوں میں یہ کیسے وجود میں آ گئی؟
نیز یہ امر بھی غور طلب ہے کہ اسلام کے ساتھ اختلاف میں سب کا  پس منظر مختلف ہونے کے باوجود اسرائیل کے صیہونی سے لے کر ہند کے ہنود تک اور یورپ کے عیسائی سے لے کر امریکہ کے نسل پرست تک وہ کیا مشترک چیز ہے جو تمام کے تمام لوگوں کو اسلام کے خلاف ایک صف میں لا کھڑا کرتی ہے، بلکہ جابجا ایک دوسرے کی بے جا حمایت پر آمادہ بھی کرتی ہے؟

یہ اہم سوال ہے جس کا جواب بدلے ہوئے حالات کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے. ہم جواب دے رہے ہیں مگر سیدھا سیدھا نہیں، کافی گھما پھرا کر، ہاں! کیا فرق پڑتا ہے اگر درست سمت میں رہنمائی ہو رہی ہو تو گھوم پھر کر ہی سہی، بس منزل صحیح ملنی چاہیے.

اصل بات یہ ہے کہ گذشتہ دو صدیوں میں ادبی جدیدیت اور آلاتی جدیدیت کے سامنے تمام “منسوخ مذاہب” گھٹنے ٹیک چکے ہیں بلکہ سر بسجود ہیں. نہ وہ ادب پاروں میں اپنے معبودوں یا مقدس حضرات کے لیے استعمال ہونے والے؛ بھونڈے استعاروں اور تضحیک آمیز تشبیہات سے؛ بچ سکے، نہ ہی سائنسی خدمات کے نام پر اپنے خدا کو تخلیق کے منصب سے اٹھا کر انسان کو؛ خاص کر سائنس کا علم رکھنے والے انسان کو؛ وہ منصب تفویض کرنے سے باز رہ سکے. اب ان کی مذہبی کہی جانے والی تحریریں عامیانہ طرز نگارش اور جدید ادبی پیرایے کی بد تمیزی سے پُر ہیں، ایسے ہی جیسے اب ان کے دانشور بلکہ مذہبی رہنما مانے جانے والے حضرات؛ سائنس سے اپنے مذہب کو تطبیق دینے کے علاوہ؛ کسی اور مذہبی خدمت سے قاصر ہیں. ادبی جدیدیت و آلاتی جدیدیت نے منسوخ مذاہب کو انسانی معاشروں سے نہ صرف یہ کہ باہر دھکیل دیا ہے بلکہ آئندہ اس کی واپسی کے امکانات کا بھی خاتمہ کر دیا ہے.
خلاصہ یہ کہ دور جدید نے اپنے فکری انقلابات اور اپنی مادی ترقی سے تمام مذاہب کے اذہان کو متاثر کیا. منسوخ مذاہب اور شرکیہ تہذیب نے تو پہلے ہی گھٹنے ٹیک دیے اور مذہب کے صرف اُتنے حصے پر قانع ہوئے جو یا تو براہ راست جدید طرز زندگی سے میل کھاتا ہو یا توڑ مروڑ کر “جدید مفاہیم” پر ڈھالا جا سکتا ہو، باقی سب مذہبی امور یا تو رسمی پرفارمنس ہے یا پیٹھ پیچھے ڈال کر آگے بڑھنے کے لائق. یہی سچ ہے یہی حقیقت ہے، اس کے علاوہ دیگر مذاہب والے جو کچھ تاویلیں کریں اور اپنے مذاہب کو قدیم یا آسمانی بتلانے کی جو کوششیں کریں وہ سب افسانہ ہے. 

اب اگر سیدھا سیدھا جواب دیا جائے تو یہ ہوگا کہ “اسلامو فوبیا در اصل ری ایکشن ہے منسوخ مذاہب کا اسلام کے خلاف.” یعنی جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ جدید دور میں لبرل سیکولر اقدار کے سامنے ان کی مذہبیت تقریباً پوری سر نگوں ہو چکی ہے مگر اسلام معاشرے میں نیچے کی سطح تک اپنے نظریاتی و عملی اثرات آج بھی قائم رکھے ہوئے ہے تو وہ اپنی بلکہ اپنے اختیار کیے ہوئے مذہب کی نظریاتی شکست کو قبول کرنے سے کتراتے ہیں.
کچھ وہ ہیں جو شعوری طور پر یہ شکست دیکھنے کے بعد میدان میں بچے ایک اکیلے مقابل یعنی اسلام کو بھی گرا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ حساب برابر ہو جائے اور دین کی شکل میں کسی ایک کامل دین کی کامیابی باقی تمام کے لیے باعث ذلت نہ ہو.
دوسرے کچھ وہ ہیں جو غیر شعوری طور پر نفرت کی دوڑ میں شامل ہیں، وہ اپنی بجھی ہوئی شمع (منسوخ مذہب) کو مشعل راہ (کارآمد) سمجھ کر اسلام کے نور کا انکار کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں مگر نہیں سمجھتے کہ سورج کی روشنی ہو جانے (کامل دین آ جانے) کے بعد (پرانے منسوخ محرف) ستارے نہیں تلاشے جاتے اور اجالا پھیل جانے کے بعد چراغ جلانے کو عقلمندی نہیں کہتے. شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر بہرحال جیسے بھی ہو اپنی شکست کا غبار جب پھوٹ کر نکلتا ہے تو جدید اصطلاحی لیپا پوتی میں اسے اسلامو فوبیا سے تعبیر کرتے ہیں. یہ فوبیا لبرل سیکولر نظام کے خلاف ہار کا وہ صدمہ ہے جو ہر کافر لیے بیٹھا ہے، جان کر یا انجانے میں علانیہ یا غیر علانیہ.

رہا سوال تدارک کا تو دو لفظی جواب یہ ہے کہ جو روایت پسندی اُنہیں کھٹک رہی ہے وہی حقیقت میں ہماری بقا کا ذریعہ ہے، اُس پر استقامت خوب استقامت برتنا ہی اسلامو فوبیا کا حل ہے. جب شرع محمدی تمام تر جدید فکری حملوں کے باوجود اپنی کامل شکل میں مکمل طور پر رہنمائی کر رہی ہے اور اس کا اثر زمینی سطح پر آب و تاب کے ساتھ دکھا رہی ہے تو زیادہ ادھر ادھر تین پانچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اسلامو فوبیا سے نپٹنے کے لیے کافی ہے. اگر آپ جدت کے ذریعے اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے تو ناکام ہو جائیں گے اس لیے کہ ایسا کرتے وقت آپ اپنے اسلام کو منسوخ مذاہب کی لائن میں کھڑا کرنے والے ہوں گے اور خود دین سے دور ہو کر جدید تہذیب میں گم ہو جائیں گے. لہٰذا ثابت قدم رہیے سرخرو رہیے.

روایت پر استقامت کے دو طریقے ہوں گے ایک تو یہی عملاً اپنے معاشرے کو اسی طرح باقی رکھنا، دوسرا اسلام کے ناسخ الادیان اور آخری دین ہونے کا پیغام صاف طور پر منسوخ مذاہب کے عام لوگوں تک پہنچانا. موجودہ سیکولر دنیا میں اہل اسلام کی اولین اور اہم ترین ذمہ داری؛ جو اسلام سے متعلق کسی بھی طرح کی بحث سے پہلے لازم ہوتی ہے؛ وہ یہ ہے کہ اسلام کو “دینِ ناسخ” کے طور پر یا دوسرے لفظوں میں دائمی شرع پر مشتمل آخری آسمانی دین کے طور پر صاف انداز میں متعارف کرایا جائے. تمام غیر مسلموں پر یہ ظاہر کیا جائے کہ جدید لبرل سیکولر  تہذیب کے مقابلے میں آپ کے مذہب نے کیا کیا؟ کیا آج آپ کے پاس یا آپ کے مذہبی پیشوا مانے جانے والوں کے پاس بچانے کو کچھ ہے؟ وہ جدید تہذیب پر مذہب کو ڈھالنے کے علاوہ کچھ کر رہے ہیں؟ کیا تم بھی ایسی تحریف والی تاویلات چپکانے ہی کو دین دھرم سمجھ رہے ہو یا کچھ واقعی حقیقی ہے جسے آج تمہارا مذہب کہا جا سکے؟ اگر یہ سب غور کرنے کے بعد تمام رائج مذاہب کے درمیان صرف اسلام ہی ممتاز ہے تو کیا اسلام کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے؟ سوچنا چاہیے، سمجھنا چاہیے یہاں تک کہ نفرت دور ہو جائے اور محبت بلکہ اطاعت کا جذبہ پیدا ہو جائے.
20.12.1447
07.06.2026

Exit mobile version