Site icon اردو محفل

اہل سنت کا عشرہ محرم میں رنج و غم کرنا

*اہل سنت کا عشرہ محرم میں رنج و غم کرنا*

 

امام اہل سنت سے سوال ہوا کہ اہل سنت و جماعت کو عشرہ محرم الحرام میں رنج وغم کرنا جائز ہے یا نہیں؟

 

جواب ارشاد فرمایا: اہل سنت و جماعت کا مدار ایمان حضور سید المرسلین صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم کی محبت ہے جب تک اپنے ماں، باپ، اولاد، تمام جہان سے زیادہ حضور کی محبت نہ رکھے مسلمان نہیں،خود حضور اقدس صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیه من والدہ و ولدہ والناس اجمعین۔

مفہوم: تم میں کوئی مسلمان نہیں ہوتا جب تک میں اسے اس کے ماں، باپ اور اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ پیارا نہ ہوں۔

(صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷)

اور محب کو محبوب کی ہر شے عزیز ہوتی ہے یہاں تک کہ اس کی گلی کا کتا بھی۔ حضرت مولانا قدس سرہ مثنوی شریف میں حضرت مجنوں رحمہ ﷲ تعالی کی حکایت تحریر فرمائی کہ کسی نے ان کو دیکھا کمال محبت کے طور پر ایک کتے کے بوسے لے رہے ہیں، اعتراض کیا کہ کتا نجس ہے چنیں ہے چناں ہے۔ فرمایا نہیں جانتا،

کاین طلسم بستہ مولی ست ایں

پاسبان کوچہ لیلی ست ایں۔

مفہوم: جیسے یہ ﷲ کی بنائی ہوئی تصویر ہے، یہ (کتا) لیلی کی گلی کا چوکیدار ہے۔

(مثنوی معنوی قصہ نواختن مجنون آن سگ الخ نورانی کتب خانہ پشاور دفترسوم ص۱۷)

یہ کتا لیلی کی گلی کا ہے محبان صادق کا جب دنیا کے محبوبوں کے ساتھ یہ حال ہے جن میں ایک حسن فانی کا کمال سہی ہزاروں عیب و نقص بھی ہوتے ہیں، تو کیا کہنا ہے ہمارے محبوب صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم کا جنہیں تمام اوصاف حمیدہ میں اعلی کمال، اور جن کا ہر کمال ابدی اور لازوال اور جو ہر عیب و نقص سے منزہ و بے مثال، ان کا ہر علاقہ والا سنی کے سر کا تاج ہے، صحابہ ہوں خواہ ازواج خواہ اہلبیت رضوان ﷲ تعالی علیہم اجمعین۔ پھر یہ کہنا ہے ان کا جو حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے جگر پارے اور عرش کی آنکھ کے تارے ہیں، رسول ﷲ صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: حسین منی وانا من حسین، احب ﷲ من احب حسینا، حسین سبط من الاسباط۔

مفہوم: حسین میرا اور میں حسین کا، ﷲ دوست رکھے اسے جو حسین کو دوست رکھے، حسین ایک نسل نبوت کی اصل ہے۔

(جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب ابی محمد الحسن الخ امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۱۹)

یہ حدیث کس قدر محبت کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے، ایک بار نام لے کر تین بار ضمیر کافی تھی مگر نہیں ہر بار لذت محبت کے لئے نام ہی کا اعادہ فرمایا،

کما قالوا فی قول القائل ؎

تاللہ یاظبیات القاع قلن لنا

الیلای منکن ام لیلی من البشر

یعنی خدا کی قسم اے ہموار زمین کے ہرنوں! ہمیں یہ بتادو کیا لیلی تم میں سے ہے یا انسانوں میں سے ہے۔

کون سا سنی ہوگا جسے واقعہ ہائلہ کربلا کا غم نہیں یا اس کی یاد سے اس کادل محزون اور آنکھ پرنم نہیں،ہاں مصائب میں ہم کو صبر کا حکم فرمایا ہے، جزع فزع کو شریعت منع فرماتی ہے، اور جسے واقعی دل میں غم نہ ہو اسے جھوٹا اظہار غم ریاء ہے اور قصدا غم آوری و غم پروری خلاف رضا ہے جسے اس کا غم نہ ہو اسے بیغم نہ رہنا چاہئے بلکہ اس غم نہ ہونے کا غم چاہئے کہ اس کی محبت ناقص ہے اور جس کی محبت ناقص اس کا ایمان ناقص۔ وﷲ تعالی اعلم

(فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 473۔474 اپلیکیشن)

نوٹ: امام اہل سنت فرماتے ہیں: ذکر شہادت شریف بھی [بیان کرنا سنانا عین ثواب و سعادت ہے] جبکہ مقصود ان کی اس سے فضیلت اور ان کے صبر و استقامت کا بیان ہو۔ (رضوية)

مگر غم پروری کا شرع شریف میں حکم نہیں، نہ غم و ماتم کی مجلس بنانے کی اجازت، نہ ایسی باتیں کہی جائیں جس میں ان کی بے قدری یا توہین نکلتی ہو۔ (ایضا)

 

ابو الحسن محمد شعیب خان

21 اگست 2020 (ترمیم)

Exit mobile version