Site icon اردو محفل

قرآن اور ہم

مُقْرِئ عَشْر شیخ‌ ابراہیم یوسف حسین مصری ، سبع اَحرُف اور ” اَنْفَسکم ”  کے شاذہ ہونے پر کلام فرمارہے تھے ۔

 

ہمارا ٹیکسی ڈرائیور بڑے غور سے یہ گفتگو سن رہاتھا ، استاد صاحب سے ایک‌ آدھ سوال بھی اس نے کیا ۔

جب ہم گاڑی سے اترنے لگے تو اس نے کہا:

میں مدینہ منورہ کا باسی ہوں اور میں نے  فلاں شیخ سے شاطبیہ پڑھ رکھی ہے ۔

مجھے اس کی بات سن کر بہت خوشی ہوئی‌ ، کہ یہ لوگ کیسے باذوق ہیں ۔

( شاطبیہ ، بحر طویل‌میں لکھا گیا 1173 اشعار پرمشتمل وہ بے مثال قصیدہ ہے جس کی ضرورت ہمیشہ  ہر اس طالب علم کو رہے گی جو دس قراتیں سیکھنا چاہتا ہے ۔ )

حجاز مقدس میں لوگ قرات عشرہ میں خاصی دل چسپی رکھتے  ہیں ؛ بچے ، بوڑھے ، جوان  مختلف طریقوں سے قران پاک کے ساتھ‌ وابستگی ظاہر  کرتے ہیں ؛ بعض تو شاطبیہ اس طرح  گنگناتے پھرتے ہیں جیسے ہمارے ہاں  نعتیں پڑھی جاتی ہیں ۔

اللہ کریم اس ذوق کو دوام بخشے !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیخ الحدیث سید مراتب علی شاہ صاحب رحمہ اللہ روزانہ صبح تقریبا دو گھنٹے تلاوتِ قران کرتے یا سنتے تھے ، آپ کا معمول تھا کہ سفر میں بھی قران پاک سنتے رہتے ۔

جلالین شریف شروع کی تو اس ذوق کے ساتھ کہ:

صبح دوپہر شام اسی میں مگن رہےاور تقریبا سولہ سترہ دن میں مکمل کردی ۔

خود چشتی تھے ، لیکن فرمایا کرتے:

قوالیوں کے پیچھےنہ پڑو ، قران پڑھاکرو ، قران کو ترجیح دو ____ تعلیم و تعلم کو ترجیح دو ۔

اللہ کریم‌ ہمارا دل قران پاک میں لگا دے !

خاک راہ حجاز‌

لقمان شاہد

12.6.2026 م

Exit mobile version