*واقعۂ کربلا ہم سے سوال کر رہا ہے..*
✍️ سلیم یعفور قادری رضوی
ہر سال محرم آتا ہے۔۔۔
واقعۂ کربلا دہرایا جاتا ہے۔۔۔
منبر سجائے جاتے ہیں۔۔۔
محافل منعقد ہوتی ہیں۔۔۔
خطیب بولتے ہیں۔۔۔
سامعین سنتے ہیں۔۔۔
اہلِ محبت روتے ہیں۔۔۔
مگر پھر محرم گزر جاتا ہے، اور معاشرہ وہیں کھڑا رہتا ہے جہاں پہلے تھا۔
تب واقعۂ کربلا ہم سے سوال کرتا ہے۔۔۔
1۔ اگر کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے، تو ہماری زندگی، ہمارے کردار اور ہمارے فیصلوں میں اس پیغام کے اثرات کہاں نظر آتے ہیں؟
2۔ ہم یزید پر لعنت بھیجتے ہیں، مگر جب حق بولنے کی قیمت ادا کرنے کا وقت آتا ہے تو کیا ہم حضرت امامِ عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا راستہ اختیار کرتے ہیں، یا مصلحت، خاموشی اور مفاد کا؟
3۔ کیا واقعۂ کربلا سننے کے بعد صرف ہماری آنکھیں نم ہوتی ہیں، یا ہمارا ضمیر بھی بیدار ہوتا ہے؟ کیا آنسوؤں کے ساتھ ہمارے کردار میں بھی کوئی تبدیلی آتی ہے؟
4۔ ہم کہتے ہیں کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا؛ تو کیا ہم ظلم، منافقت، ناانصافی، جھوٹ اور مفاد پرستی کے سامنے سر جھکانے سے کبھی انکار بھی کرتے ہیں؟
5۔ ہم کربلا پر آنسو بہاتے ہیں، مگر کیا کبھی اپنے کردار پر بھی روئے ہیں کہ وہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا نام لینے کے بھی لائق ہے یا نہیں؟
6۔ ہم نے بارہا واقعۂ کربلا سن لیا، لیکن یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر آج حق تنہا ہو اور باطل طاقتور، تو کیا ہم حق کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا طاقت کے ساتھ؟
7۔ ہم شمر اور یزید کو تاریخ کے کردار سمجھ کر ان پر لعنت بھیجتے ہیں، مگر کیا ہم نے اپنے معاشرے میں ان کرداروں کی جھلک رکھنے والے افراد کو پہچانا ہے؟ اور اس سے بھی بڑھ کر… کیا ہم نے کبھی اپنے نفس کا محاسبہ کیا ہے کہ کہیں حق کو چھوڑ کر مفاد کا ساتھ دینے والا انسان ہمارے اندر تو زندہ نہیں؟
8۔ کیا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا اسوہ صرف محرم کے دس دنوں تک ہماری گفتگو کا موضوع رہتا ہے؟ کیا ان سے ہماری نسبت صرف مجالسِ محرم تک محدود ہے؟ کیا ان سے ہمارا عشق صرف نعروں، خطابات اور آنسوؤں تک محدود ہے، یا ان کا اسوہ ہماری زندگی، ہمارے کردار، ہمارے فیصلوں اور ہمارے طرزِ عمل میں بھی جھلکتا ہے؟
9۔ اگر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی سب سے بڑی تعلیم ظلم کے سامنے نہ جھکنا ہے، تو ہم اپنے زمانے کے ہر ظلم کے خلاف ایک جیسی آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟
10۔ کیا ہم واقعۂ کربلا کو صرف ایک مذہبی روایت، سالانہ رسم اور جذباتی اجتماع کے طور پر بیان کر رہے ہیں، یا واقعی ہمیں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت ہے؟ اگر محبت سچی ہے، تو پھر ان کا اسوہ، ان کی جرأت، ان کی دیانت، ان کی حق گوئی اور ان کا باطل کے سامنے ڈٹ جانا ہماری زندگی میں کیوں دکھائی نہیں دیتا؟
داستانِ کربلا کے تناظر میں شاید سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا نام لینے والے حسینی کردار سے محروم رہ جائیں، تو واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی داستان بن کر رہ جاتا ہے؛ حالانکہ کربلا کا مقصد تاریخ سنانا نہیں بلکہ انقلاب پیدا کرنا ہے۔
