Site icon اردو محفل

افضلیت صدیقِ اکبر پر وارد تمام شبہات کا ایک اصولی جواب

افضلیت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ پر وارد تمام شبہات کا ایک اصولی جواب ۔۔۔

 

اگر یہ اصول ذہن میں رکھ لیں تو سارے شبہات ختم ہو جاتے ہیں ، بالفرض کوئی صریح قسم کی حدیث کسی صحابی کی علی الاطلاق فضیلت پر دلالت بھی کرتی ہو تو وہ خبر واحد ہی ہو گی جبکہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت پر احادیث تواتر معنوی کے درجے پر ہیں لہذا خبر واحد متواتر کے مقابل قابلِ قبول نہیں۔

اگر یہ ہی مان لیں کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت پر بھی حدیث خبر واحد کے درجے میں ہی ہیں اور خبر واحد ظنی ہوتی ہے، تب بھی اس کے مقابل کسی اور صحابی کی افضلیت پر موجود خبر واحد حجت نہیں بن سکتی کیونکہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت محض احادیث سے نہیں بلکہ اجماع اہلسنت سے ثابت ہے اور اجماع اہلسنت قطعی ہوتا لہذا اس کے مقابل کوئی ظنی دلیل خبر واحد قابل قبول نہیں۔

 

علامہ قسطلانی رحمہ اللہ ایک حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں:

 

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت پر کثیر احادیث ہیں جو کہ تواتر معنوی تک پہنچی ہوئی ہیں لہذا ان کے مقابل کوئی خبر واحد بھی قابلِ قبول نہیں جو کسی اور صحابی کی افضلیت پر دلالت کرتی ہو۔

اگر بالفرض ہم تسلیم بھی کر لیں کہ کسی اور صحابی کی افضلیت پر دلیل افضلیت صدیق پر موجودہ احادیث کے برابر ہے تب بھی اس صحابی کا سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر افضل ہونا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت پر اجماعِ اہلسنت ہے جو کہ قطعی ہوتا ہے لہذا ظنی دلیل اس کے مقابلے میں قابلِ قبول نہیں۔

 

( ارشاد الساری شرح صحیح البخاری : 1/533 )

 

یہ سب کچھ بفرض تسلیم کہا گیا ورنہ مخالف کوئی صریح مفسر غیر موول خبر واحد حدیث بھی کسی اور صحابی کے حق میں لا ہی نہیں سکتا جو اس کی علی الاطلاق افضلیت کو ثابت کرتی ہو۔

Exit mobile version