بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌؕ-وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍۚ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(101)ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُۚ-وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ(102)
ترجمۂ کنز الایمان
بے کسی نمو نے کے آسمانوں اور زمین کا بنانے والا اس کے بچہ کہاں سے ہو حالانکہ اس کی عورت نہیں اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔ یہ ہے اللہ تمہارا رب اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں ہر چیز کا بنانے والا تو اسے پوجو اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔
تفسیر صراط الجنان
{ بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:وہ بغیر کسی نمو نے کے آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے۔} اِس آیت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت و شان اور اس کی پاکی کا بیان ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی شان یہ ہے کہ وہ بغیر کسی نمو نے اور مثال کے آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے۔ اس کی دوسری شان یہ ہے کہ وہ اولاد سے پاک ہے کیونکہ اس کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے؟ حالانکہ اس کی بیوی ہی نہیں ہے اور عورت کے بغیر اولاد نہیں ہوتی اور زوجہ اس کی شان کے لائق نہیں کیونکہ کوئی شے اس کی مثل نہیں اور اولاد نہ ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اس نے ہر شے کو پیدا کیا ہے تو جو کچھ ہے وہ سب اُس کی مخلوق ہے اور مخلوق اولاد نہیں ہوسکتی تو کسی مخلوق کو اولاد بتانا باطل ہے اور پھر اگلی آیت میں فرمایا کہ یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارا رب ہے جس کی صفات ذکر کی گئیں اور جس کی یہ صفات ہوں وہی مستحق عبادت ہے لہٰذا تم صرف اسی کی عبادت کرو۔
