Site icon اردو محفل

بلدیہ ٹاؤن میں مسلم عیسائی فسادات

ایک ایسی ہیڈنگ جو الحمدللہ نہیں بن سکی۔۔۔

دوپہر کے 3 بجے کا وقت تھا 5 عدد پارسل بلدیہ ٹاؤن پہنچے

تین پارسل تو تین مختلف دکانداروں تک پہنچے اور دو مسجد کے پتے پر بھیجے گئے۔۔۔ اس علاقے میں عیسائی اور مسلم کمیونٹی رہتی ہے دکاندار مسلم تھے۔۔۔۔

آپ سوچ رہے ہیں پارسل میں کیا تھا؟

پارسل میں کچھ جلے ہوئے قران مجید کے صفحات تھے۔۔۔ کچھ شہید ہوا قرآن پاک اور ساتھ ایک فیملی کی تصویر تھی جاوید مسیح کی ، اس کے ساتھ اس کے شناختی کارڈ کی کاپی بھی تھی۔۔۔ اور اس میں لکھا تھا یہ میں نے یعنی جاوید مسیح نے کیا ہے جو کر سکتے ہو وہ کرلو۔۔۔۔

یہیں سے معلوم چل جاتا ہے کہ یہ ایک سازش تھی بہرحال یہ بات کسی مسلمان کو کیسے گوارا ہوتی لہذا فورا ہی بغیر سوچے سمجھے ایک ہجوم تیار ہو گیا جو جاوید مسیح کے گھر کو جلانا چاہتا تھا اس گھر میں اس وقت صرف چارخواتین تھیں اور ایک بچہ جو محلے کا تھا اور ٹیوشن پڑھنے آیا ہوا تھا۔

باہر ہجوم جمع ہو چکا تھا جو اس گھر کو جلانا چاہتا تھا کمال بات یہ کہ جس جاوید مسیح کی طرف سے یہ خط اور پارسل ملا وہ 1 سال پہلے مر چکا تھا۔۔۔۔ اس کے دوبیٹے تھے جو کام پر تھے۔

فورا ہی رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی۔۔۔

دوسری اہم بات یہ کہ عیسائی آبادی کے ایک طرف بریلوی مکتبہ فکر کی ابادی اور دوسری طرف دیوبندی مکتبہ فکر کی ابادی اور دونوں ہی طرف سے یہ مطالبہ کہ ان گستاخوں کو ہمارے حوالے کرو ہم خود سزا دیں گے۔۔۔۔

مفتی عبد اللہ نوری صاحب، علامہ بلال سلیم صاحب نے اور  دیوبند مکتبہ فکر کےمفتی زبیر صاحب اور دیگر مکاتب فکر کے علماء نے اپیل کی کہ آپ حقیقت واضح ہونے دیں علماء کی ڈھائی گھنٹے کی اپیل کے بعد ان خواتین کو ان علماء ہی نے پولیس کی مدد سے وہاں سے بحفاظت نکالا۔۔۔۔ اور علماء نے یہ ثابت کر دیا وہ اقلیتوں کے حقوق سے بھی اگاہ ہیں اور امن وامان کو قائم رکھنے میں حتی المقدور کوشش کرتے ہیں۔۔ ۔ ۔۔ ان علماء کی کوشش سے ایک بہت بڑے فساد کی سازش اور آگ بجھانے دی جو کئی دہائیوں تک دھواں دیتی رہتی ۔

میں ارباب اقتدار سے بھی کہوں گا۔، میڈیا سے بھی کہوں ان درد مند علماء کی سرکاری سطح پر پذیرائی ہونی چاہیے۔

اتنے بڑے مجمع میں چند شریر لوگ تو ہوتے ہی ہیں جو مجمع کو اکساتے ہیں ان میں لبرل بھی ہوتے ہیں سیکولر بھی ، ملحد بھی ہوتے ہیں اور کرائے کے ٹٹو بھی ،جن کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے فساد فی الارض۔۔۔۔ وہ صرف مشتعل کرنے کے لیے ہوتے ہیں کیونکہ ان فسادات سے سب سے زیادہ نقصان اسلام کو ہوتا ہے۔۔۔۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے دنیا بھر میں منفی تنصویر جاتی۔۔۔۔ دنیا بھر کے مسلمان ازمائش میں آجاتے ہیں ۔۔۔۔اسلام مخالف مافیا کو مواد میسر آجاتا ہے۔۔۔۔ہ

بھارت میں انتہاء پسند تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف ایکٹیو ہو جاتی ہیں۔۔۔۔۔

اور وہ لوگ جو اسلام کی جانب مائل ہونے کا سوچ بھی رہے ہوتے ہیں وہ دور ہوجاتے ہیں۔۔۔۔

اور متاثرین جنہیں اسلام سے محبت نہیں تو نفرت بھی نہیں کرتے لیکن ان سانحات کے بعد وہ اسلام سے اور مسلمانوں سے نفرت کرنے لگتے ہیں

میرے پیارے مسلمان بھائی! تحقیق تو کرلو ۔۔۔۔تم نے قرآن نہیں پڑھا جہاں کہا گیا کوئی فاسق خبر لائے تو تحقیق کر لو کہیں کسی قوم کو انجانے میں ایذاء نہ دے بیٹھو خدانخواستہ اس دن بلدیہ ٹاؤن کی عیسائی بستی کو آگ لگتی تو کیا مسلم گھروں تک اس کے شعلے نہیں پہنچتے؟

دوسرا سوال تم کل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھاتے؟

تیسرا سوال یہ کہ کل تم سے قیامت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سوال پوچھیں کہ تم اتنے عرصے سے ان کے درمیان تھے اپنا کردار ایسا کیوں نہیں پیش کیا کہ یہ سب مسلمان ہو جاتے

انہیں اسلام کی دعوت اپنے کردار سے پیش کیوں نییں کی؟

اے جذبات سے لبریز نوجوانو!

تمہاری مساجد فجر میں جاکر دیکھو ویران ہوتی ہیں۔۔۔۔ تمہارے اخلاق تباہ ہو چکے ہیں۔۔۔۔ جہالت تمہارے ہاں ڈیرے ڈال چکی ہے تمہیں اپنی حالت ہر افسوس نہیں ہوتا؟۔۔۔ ترس نہیں آتا۔

تم اپنی قوم کو تو تاریکیوں سے نکالنے میں ناکام ہو انہین مزید پریشانیوں میں کیوں دھکیلنا چاہتے ہو

ایک جانب بلوچستان۔۔۔۔ سے بلند ہوتے شعلے

دوسری جانب 295 سی کے دشمن

تیسری طرف ممکن ہے جاوید مسیح سے کسی کی دشمنی ہو وہ اپنی دشمنی نکالنا چاہتا ہوں اور تم مفت کے فسادی اسے میسر آجاتے۔۔۔۔ اور نقصان اسلام کو پہنچتا۔

ایسی صورت حال میں اپنے علماء سے رجوع کیجیے ان کی ہدایت پر عمل کیجیے۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں حکم بھی یہ ہی ہے وہ رہنمائی کرنے کے لیے وہاں موجود ہیں۔ ۔ ۔۔ ہر حال میں شریعت اللہ اور اسکے رسول ﷺ کا حکم مقدم رہنا چاہیے یہ ہی اسلام ہے۔

آخر میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ مفتی عبد اللہ نوری صاحب کی مدعیت میں اس شرارتی ٹولے کے خلاف ایف آئی آر بھی کٹ چکی ہے، علماء اپنی ذمہ داری ادا کر چکے اب اداروں کی ذمے داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے

اللہ کریم عافیت کا معاملہ فرمائے۔۔۔ آمین

اسمعیل بدایونی

12 جولائی 2026

Exit mobile version