کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے لیے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۳۶) اور تمہیں بھرپور دیں اپنی نعمتیں ظاہر اور چھپی (ف۳۷) اور بعضے آدمی اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں یوں کہ نہ علم نہ عقل نہ کوئی روشن کتاب (ف۳۸)
(ف36) آسمانوں میں مثل سور ج ، چاند ، تاروں کے جن سے تم نفع اٹھاتے ہو اور زمینوں میں دریا ، نہریں ، کانیں ، پہاڑ ، درخت ، پھل ، چوپائے وغیرہ جن سے تم فائدے حاصل کرتے ہو ۔ (ف37) ظاہری نعمتوں سے درستیٔ اعضاء و حواسِ خمسہ ظاہرہ اور حسن و شکل و صورت مراد ہیں اور باطنی نعمتوں سے علمِ معرفت و ملکاتِ فاضلہ وغیرہ ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ نعمتِ ظاہرہ تو اسلام و قرآن ہے اور نعمتِ باطنہ یہ ہے کہ تمہارے گناہوں پر پردے ڈال دیئے ، تمہارا افشاءِ حال نہ کیا ، سزا میں جلدی نہ فرمائی ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ نعمتِ ظاہرہ درستیٔ اعضاء اور حسنِ صورت ہے اور نعمتِ باطنہ اعتقادِ قلبی ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ نعمتِ ظاہرہ رزق ہے اور باطنہ حسنِ خُلق ۔ ایک قول یہ ہے کہ نعمتِ ظاہرہ احکامِ شرعیہ کا ہلکا ہونا ہے اور نعمتِ باطنہ شفاعت ۔ ایک قول یہ ہے کہ نعمتِ ظاہرہ اسلام کا غلبہ اور دشمنوں پر فتح یاب ہونا ہے اور نعمتِ باطنہ ملائکہ کا امداد کے لئے آنا ۔ ایک قول یہ ہے کہ نعمتِ ظاہرہ رسول کا اِتّباع ہے اور نعمتِ باطنہ ان کی مَحبت ۔ رَزَقَنَا اللہُ تَعَالٰی اِتِّبَاعَہٗ وَ مَحَبَّتَہٗ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم ۔ (ف38) تو جو کہیں گے جہل و نادانی ہو گا اور شانِ الٰہی میں اس طرح کی جرأت و لب کشائی نہایت بیجا اور گمراہی ہے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت نصر بن حارث و اُبَیْ بن خلف وغیرہ کُفّار کے حق میں نازل ہوئی جو باوجود بے علم و جاہل ہونے کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالٰی کی ذات و صفات کے متعلق جھگڑے کیا کرتے تھے ۔
اور جب اُن سے کہا جائے اس کی پیروی کرو جو اللہ نے اُتارا تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کوپایا (ف۳۹) کیا اگرچہ شیطان ان کو عذابِ دوزخ کی طرف بلاتا ہو (ف۴۰)
(ف39) یعنی اپنے باپ دادا کے طریقے ہی پر رہیں گے ۔ اس پر اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے ۔ (ف40) جب بھی وہ اپنے دادا ہی کی پیروی کئے جائیں گے ۔
اور اگر تم اُن سے پوچھو کس نے بنائے آسمان اور زمین تو ضرور کہیں گے اللہ نے تم فرماؤ سب خوبیاں اللہ کو (ف۴۶) بلکہ اُن میں اکثر جانتے نہیں
(ف46) یہ ان کے اقرار پر انہیں الزام دینا ہے کہ جس نے آسمان و زمین پیدا کئے وہ اللہ واحد لاشریک لہ ہے تو واجب ہوا کہ اس کی حمد کی جائے ، اس کا شکر ادا کیا جائے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کی جائے ۔
اور اگر زمین میں جتنے پیڑ ہیں سب قلمیں ہوجائیں اور سمندر اس کی سیاہی ہو اس کے پیچھے سات سمندر اور (ف۴۸) تو اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی (ف۴۹) بےشک اللہ عزت و حکمت والا ہے
(ف48) اور ساری خَلق اللہ تعالٰی کے کلمات کو لکھے اور وہ تمام قلم اور ان تمام سمندروں کی سیاہی ختم ہو جائے ۔ (ف49) کیونکہ معلوماتِ الٰہیہ غیرِ متناہی ہیں ۔ شانِ نُزول : جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیّبہ تشریف لائے تو یہود کے علماء و احبار نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ فرماتے ہیں ”وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلاً ” یعنی تمہیں تھوڑا علم دیا گیا تو اس سے آپ کی مراد ہم لوگ ہیں یا صرف اپنی قوم ؟ فرمایا سب مراد ہیں ، انہوں نے کہا کیا آپ کی کتاب میں یہ نہیں ہے کہ ہمیں توریت دی گئی ہے اس میں ہر شئ کا علم ہے ؟ حضور نے فرمایا کہ ہر شئ کا علم بھی علمِ الٰہی کے حضور قلیل ہے اور تمہیں تو اللہ تعالٰی نے اتنا علم دیا ہے کہ اس پر عمل کرو تو نفع پاؤ ، انہوں نے کہا آپ کیسے یہ خیال فرماتے ہیں آپ کا قول تو یہ ہے کہ جسے حکمت دی گئی اسے خیرِ کثیر دی گئی تو علمِ قلیل اور خیرِ کثیر کیسے جمع ہو ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ، اس تقدیر پر یہ آیت مدنی ہو گی ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہود نے قریش سے کہا تھا کہ مکّہ میں جا کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اس طرح کا کلام کریں ۔ ایک قول یہ ہے کہ مشرکین نے یہ کہا تھا کہ قرآن اور جو کچھ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لاتے ہیں یہ عنقریب تمام ہو جائے گا پھر قصّہ ختم ۔ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
اے سننے والے کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ رات لاتا ہے دن کے حصے میں اور دن کرتا ہے رات کے حصے میں (ف۵۱) اور اس نے سورج اور چاند کام میں لگائے (ف۵۲) ہر ایک ایک مقرر میعاد تک چلتا ہے (ف۵۳) اور یہ کہ اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے
(ف51) یعنی ایک کو گھٹا کر دوسرے کو بڑھا کر اور جو وقت ایک میں سے گھٹاتا ہے دوسرے میں بڑھا دیتا ہے ۔ (ف52) بندوں کے نفع کے لئے ۔ (ف53) یعنی روزِ قیامت تک یا اپنے اپنے اوقاتِ معیّنہ تک ، سورج آخر سال تک اور چاند آخرِ ماہ تک ۔