وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًاؕ-قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ(126)
ترجمۂ کنز الایمان
اور یہ تمہارے رب کی سیدھی راہ ہے ہم نے آیتیں مفصل بیان کردیں نصیحت ماننے والوں کے لیے۔
تفسیر صراط الجنان
{ وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا:اور یہ تمہارے رب کی سیدھی راہ ہے۔} یعنی قرآنِ کریم یاحضور سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعلیم وہ راستہ ہے جو بلا تَکَلُّف رب عَزَّوَجَلَّ تک پہنچا دیتا ہے جیسے سیدھا راستہ منزلِ مقصود تک پہنچاتا ہے اس لئے اسے’’شریعت ‘‘کہتے ہیں یعنی وسیع اور سیدھا راستہ جس پر ہر شخص آسانی سے چل سکے۔ طریقت بھی رب عَزَّوَجَلَّ کا راستہ ہے مگر وہ ایسا تنگ اور پیچ دار ہے جس پر صرف واقف آدمی ہی چل سکتا ہے۔
