فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُـوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ(5)
ترجمۂ کنز الایمان
تو ان کے منہ سے کچھ نہ نکلا جب ہمارا عذاب ان پر آیا مگر یہی بولے کہ ہم ظالم تھے ۔
تفسیر صراط الجنان
{ فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ:تو ان کے منہ سے کچھ نہ نکلا۔} یعنی بستی والوں پر جب اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک آیا تو اس وقت ان کی پکار اس کے سوا اور کچھ نہ تھی کہ بیشک ہم ہی ظالم تھے اور وہ لوگ اپنے اوپر آنے والے عذاب کو دور نہ کر سکے، خلاصہ یہ ہے کہ عذاب آنے پر اُنہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا لیکن اس وقت اعتراف بھی فائدہ نہیں دیتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عذاب دیکھ کر توبہ کرنا یا ایمان لانا قبول نہیں ہوتا۔ ایمانِ یا س قبول نہیں۔
