جنوبی پنجاب کے اہل سنت کی نفسیات اور ڈاکٹر خادم حسین خورشید الازہری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد قاسم چشتی نظامی غفرلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی شہروں (صادق آباد۔رحیم یار خان۔خان پور۔لیاقت پور۔سمہ سٹہ۔ بہاولپور۔شجاع آباد ۔ملتان۔ بکھر۔میاں والی۔لیہ۔ خانیوال۔ جہانیاں۔ کبیر والا۔بورے والا۔ وغیرہ)میں ڈاکٹر خادم حسین خورشید الازہری کی خطابت معروف ہے ۔۔۔ اوائل عمری میں انکی خطابت کا گرویدہ رہا ہوں ۔لیکن جیسے جیسے کتب بینی بڑھتی گئی مجھ پر جنوبی پنجاب کے اکثر خطباء و صلحاء کی علمی و فکری کمزوریاں اور جھول واضح ہوتا چلا گیا ۔۔ جنوبی پنجاب کے اہل سنت وجماعت کے بڑے بڑے ناموں کے علمی و فکری خدمات کا بغور جائزہ لیا جائے تو انکے افکار و نظریات میں ایک جانب سمجھوتہ۔وقت گزاری۔سہولت پسندی۔غلو آمیز عقیدت ۔ منفرد نکتہ بیانی کا بہت حصہ ہے تو دوسری جانب معاصرین سے سینگ پھنسانا۔۔۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو گلیمرائز کرنا اور بڑے بڑے مسائل کو ہضم کر جانا ایک عمومی وباء ہے۔ عقائد ونظریات کی بڑے بڑے مسائل کو حکایت کی طرز پر لکھی گئی کتب سے اخذ کرنا ہمارے علاقے کے خطباء کا محبوب مشغلہ ہے ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے ہمارے ہاں کے دیوبندی اور وہابی مسلک سے زیادہ سنی حضرات صرف اس لئے اختلاف کرتے ہیں کیونکہ انکے اپنے پیر صاحب۔گدی نشین یا آستانہ عالیہ کی تحقیق اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری سے مختلف ہے ۔۔۔ ہماری سرائیکی پٹی میں آستانہ پرستی کو خدا پرستی پر فوقیت حاصل ہے ۔ انہیں وجوہات کی بناء پر روافض ۔ غالی دیابنہ ۔ منکرین حدیث اور خارجی فکر کے عناصر کو اس پورے علاقے میں خوب پھلنے پھولنے کا موقعہ ملا۔ اور ان تینوں منحرف فرق ہائے باطلہ کے بالمقابل کسی بھی سرائیکی پٹی کے نامی گرامی خطیب ۔وجودی صوفی یا آستانہ عالیہ نے کوئی ٹھوس آواز بلند کرنے کی کوشش نہیں کی۔
روافض۔منکرین حدیث ۔۔مماتی ۔چتروڑی ہمارے پورے سرائیکی بیلٹ میں دندناتے پھرتے ہیں۔ سرائیکی پٹی کے پندرہ سے زائد شہروں اور دیہاتوں میں انکے محل نما گھر ۔مدراس اورنشر واشاعت کے اعلیٰ مراکز ہیں ۔۔۔ ڈاکٹر خادم حسین خورشید الازہری سمیت کسی بھی سرائیکی پٹی کے وجودی آستانے نے آج تک کسی فورم پر بھر پور فکری آواز بلند کرنے کی کوشش نہیں کی اور نا ہی کوئی اداری کھڑا کیا اور نا ہی نشر و اشاعت کے لئے کوئی لائحہ عمل تیار کیا۔۔۔
خواجہ غلام فرید کے ڈوہرے۔ماہیے۔ شاکر شجاع آبادی کی رباعیاں اور انکا بے محل استعمال اور بس ۔۔۔عوام کی صحیح معنوں میں فکری اور عملی تربیت کرنا کسی سرائیکی اہل علم کے منشور میں شامل نہیں ہے۔یہاں تک کہ عوام کو غلو آمیز رویوں سے پرہیز کی فکر تک نہیں دی گئی ۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہمارے علاقے کے اہل علم اگر اپنا موقف ثابت کرنے پر آجائیں تو وہاں وہاں سے دلائل لائیں گے جن کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔!!!!
اہل سنت وجماعت کی فکری اور نظریاتی تحریکوں(دعوت اسلامی۔ لبیک۔ صراطِ مستقیم۔) اور مفکرین و اہل قلم کو بالعموم ہماری سرائیکی پٹی کے وجودی صوفیاء کرام کے محبین کی مخالفت کا سخت سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ وحدت الوجود کو جاہل عوام کے سامنے پورے طنطنے سے بیان کرنا یہاں کا طرہ امتیاز سمجھا جاتا ہے ۔۔۔ مرزا جہلمی کے ڈنگ کے خلاف ایک لفظ کبھی بھی منہ سے نکالا نہیں جا سکتا ۔
ڈاکٹر محمد طاہر القادری اور منہاج القرآن کے فکری اور نظریاتی انحراف کو آج تک جنوبی پنجاب کے اہل علم سمجھ نہیں سکے اور اگر سمجھ گئے ہیں تو ایسی تدابیر اختیار نہیں کر سکے ۔جن سے ڈاکٹر محمد طاہر القادری اور انکی فکری و فقہی کلابازیوں پر قابو پایا جاسکتا ۔۔۔ وجہ اسکی یہ ہے ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے منہاج القرآن کے شروع کے ایام میں اپنے دبنگ لہجہ اور ٹھوس آواز میں دیوبندی اور وہابی مسلک کو للکارا۔ اور اسکے جوشیلے انداز کے جھانسے میں آ کر سرائیکی پٹی کے وجودی صوفیاء کرام نے اپنا علمی اور فکری وزن اس کے پلڑے میں ڈال دیا ۔انکی دیکھا دیکھی عام عوام بھی اسی رو میں بہتی چلی گئی۔۔جب شیخ المنہاج اور منہاج القرآن انٹرنیشنل نے علمی و فکری اعتبار سے تنزل شروع کیا تو منہاج القرآن سے وابستہ تمام لوگ اس حد تک انکی عقیدت میں ڈوب چکے تھے کہ انکے احاطہ خیال میں ہی نہیں تھا کہ ڈاکٹر صاحب بھی ایسی باتیں کر سکتے ہیں ۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ ہمارے علاقے کے لوگ خدا کو بھی پیر کے کہنے پر مانتے ہیں ۔تو وہ کیسے مان سکتے تھے کہ طاہر القادری اور منہاج القرآن رسوخ فی العلم و عقیدہ سے منحرف ہو چکی ہے
ڈاکٹر خادم حسین خورشید الازہری اسی طبقہ مرعوبیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ دیگر تمام وجوہات کے ساتھ ساتھ معاشی اور سماجی پسماندگی کی مجموعی صورتحال میں منہاج القرآن انٹرنیشنل کے حسن انتظام اور نیٹ ورک کے پھیلاؤ کی چکا چوند روشنی میں ہمارے اکابرین (میری مراد سرائیکی پٹی کے خطباء و صوفیاء ہیں ) کی قوت ادراک مسخ ہو گئی ۔۔۔ جن چند گنے چنے اہل قلم نے ڈاکٹر طاہر القادری اور انکی فکری لغزشوں کو بے نقاب کیا ۔انکو سرائیکی پٹی میں کوئی پذیرائی نہیں مل سکی ۔۔۔۔ اس بات کا بین ثبوت یہ ہے کہ ہمارے علاقے کے راسخ العقیدہ سنی عالمِ دین علامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی ۔ علامہ سید احمد سعید کاظمی ۔ علامہ مفتی منظور احمد فیضی اور علامہ عطاء محمد بندیالوی (رحم اللّٰہ اجمعین)جیسے اکابر علماء کی 99 فی صد تحریری اور تقریری خدمات سرائیکی پٹی سے باہر سنی اور پڑھی جاتی ہیں ۔ ان تمام خامیوں کے باوجود ہمارے جنوبی پنجاب کے اہل علم انفرادی طور پر بے سروسامانی کی حالت میں ایسے ایسے کام کر جاتے ہیں کہ کراچی ۔لاہوراور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں میں رہنے والے اہل علم سوچ بھی نہیں سکتے۔
چند دن پہلے پروفیسر ڈاکٹر خادم حسین خورشید الازہری صاحب نے حضور کنز العلماء پر سر عام عوام کے سامنے چوٹ کی ہے، اس بات کو مندرجہ بالا نکات کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی جائے تو بآسانی سمجھ میں آ جائے گا کہ اصل معاملہ تعصب۔معاصراتی حسد۔ مسائل عقائد کی حساسیت کاعدم ادراک۔ مخالفت بازی کا فطری رحجان۔احساس محروی۔ شہرت کا خبط اور واہ واہ کی لت ہے ۔۔۔میں پورے وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ ڈاکٹر خادم حسین خورشید الازہری صاحب اپنی ہر علمی و فکری صلاحیت رکھنے کے باوجود اشرف آصف جلالی صاحب کے عقیدہ توحید پر منعقد کئے گئے چھ سینماروں میں سے کسی ایک جیسا سیمنار کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے۔ کیوں کہ تن آسان اور عوامی سطح پر گفتگو کرنے والے کسی بھی خطیب کے لئے فکری اور نظریاتی گفتگو کرنا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے ۔ جو خطیب نکتہ آفرینی اور کہانیوں سے عقائد اخذ کر کے گھنٹوں تک بندیوں اور شعر و شاعری کی زبان گفتگو کرتا ہو اس کے لئے فکری گفتگو کرنا ناممکنات میں سے ہے۔۔۔۔ عہد حاضر کے آستانہ پرستی کے عادی خطیب کیسے احقاق حق اور ابطال باطل کو فکری بنیادوں پر بات کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ !!!!! کوئی بھی باشعور اور باخبر انسان ڈاکٹر خادم حسین خورشید الازہری صاحب کی حضور کنز العلماء کے بارےمیں کی گئی گفتگو سن لے اسکو بآسانی سمجھ آ جائے گی کہ کتنی سطحی اور معیار سے گری ہوئی باتیں کہی گئی ہیں ۔۔۔ لہذا ڈاکٹر خادم حسین خورشید الازہری صاحب کی اس گفتگو کو زیادہ سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ ایک debate stunt تھا ۔تاکہ عوام کو پتہ چلے کہ ہم بھی ڈاکٹر ہوتے ہیں اور ہماری بھی کچھ ویلیو ہے۔ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی صاحب جن موضوعات پر دس سال قبل چھ چھ گھنٹے کے دلائل سے مزین بیانات کر چکے ہیں
علامہ خادم حسین خورشید الازہری صاحب ان عنوانات کو آج تک چھو بھی نہیں سکے ۔ امید ہے کہ یہ گرد جو علامہ خادم حسین خورشید الازہری صاحب نے اڑائی ہے دو چار دن میں جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گی ۔۔۔۔
کیوں کہ میری سات نسلیں اسی علاقے (جنوبی پنجاب یا سرائیکی) کی پیداوار ہیں ۔اسی لیے سرائیکی زبان ۔سرائیکی اہل علم اور علاقےکی نفسیات سے مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا ۔
