سب سے پہلے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ چھٹی صدی عیسوی میں مملکت ایران کا حدود اربعہ کیا تھا یہ کن ممالک اور علاقہ جات پر مشتمل تھی۔
چھٹی صدی عیسوی میں مملکت ایران کا حدود اربعہ وہ نہیں تھا جو آج کے ایران کا ہے موجودہ دور کی بہت سی آزاد مملکتیں اس وقت ایران کا ایک حصہ تھیں ول ڈیورانٹ (WILL DURRANT) اپنی مشہور کتاب (THE AGE OF FAITH ) میں رقمطراز ہے۔
تیسری صدی عیسوی کا ایران (چھٹی صدی میں بھی یہی حالات تھے) مندرجہ ذیل ممالک پر مشتمل تھا افغانستان، بلوچستان، سودیانہ (SOGDIANA)، بلخ اور عراق موجودہ پرشیا جس کو فارس کہتے ہیں یہ اس وقت کی مملکت کا ایک جنوب مشرقی صوبہ تھا اس کو ایران کہنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ آریوں کا ملک تھا۔ (دی ایج آف فیتھ صفحہ ۱۳۶ )
اردو دائرہ معارف اسلامیہ میں اس کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔
یہ سلطنت بلوچستان، کچ، مکران، کرمان، غور، بامیان، ہندوکش، سیستان، زابلستان، خراسان، ماوراء النہر، رشت، اصفہان، مازندران، استر آباد، گرگان، فارس، لارستان، خوزستان، افغانستان، کابلستان، پنجاب، کردستان، شیروان، بابل، موصل اور دیارِ بکر پر مشتمل تھی۔ (دائرہ معارف اسلامیہ اردو صفحہ ۶۲ جلد ۳ طبع اول ۱۹۶۸ء)
ایران کا لفظ آریانہ سے مشتق ہے۔ جس کا مطلب ہے آریاؤں کی سرزمین اسی دائرہ معارف اسلامیہ میں ہے۔
مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نویں صدی قبل مسیح میں آریائی نسل کی ایک شاخ جنوبی روس سے چل کر مغربی ایران کے سلسلہ کوہ زاغروس کے وسطی علاقہ میڈیا میں آباد ہوئی اور اسی جغرافیائی نسبت سے یہ لوگ “ماد” کہلائے، اسی نسل کی ایک دوسری شاخ مشرقی ایران میں وارد ہوئی یہ لوگ صوبہ کرمان سے ہوتے ہوئے پارس، (فارس) آئے اور پارسی کہلائے۔ (دائرہ معارف اسلامیہ اردو صفحہ ۶۳۵ جلد ۳ )
موجودہ ایران کا رقبہ چھ لاکھ اٹھائیس ہزار مربع میل ہے۔
آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس وقت کے ایران کا رقبہ کتنا بڑا ہوگا۔
اہل ایران کے مذہبی عقائد
ایران کے جس تاریخی عہد سے ہم بحث کرنا چاہتے ہیں وہ ساسانی خاندان کی حکمرانی کا عہد ہے اس خاندان کی شہنشاہیت کا مؤسس اول اردشیر تھا۔ اس نے ۲۸ اپریل ۲۲۴ء میں طیسفون کو فتح کیا اور جب وہ اس شہر میں فاتحانہ شان وشوکت سے داخل ہوا تو اس نے آشکانی خاندان کے جانشین ہونے کا دعویٰ کیا اس طرح ساسانی خاندان کی حکمرانی کا آغاز ہوا۔ (ایران بعہد ساسانیاں صفحہ ۱۱۲ مطبوعہ انجمن ترقی اردو دہلی ۱۹۴۸ء)
اہل ایران کے عقائد کے بارے میں بریگیڈیئر جنرل سر پرسی سائیکس (SIR, PERCY SYKES) نے اپنی کتاب ہسٹری آف پرشیا میں لکھا ہے۔
آریہ قوم مظاہر پرستی کا شکار تھی۔ روشنی، شفاف آسمان، آگ، ہوائیں، حیات بخش بارشیں ان سب کی مقدس معبودوں کی طرح پرستش کی جاتی تھی۔ جب کہ ظلمت اور قحط سالی کو ملعون دیو تصور کیا جاتا تھا۔
اس مشرکانہ نظام میں آسمانوں کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی سورج کوآسمان کی آنکھ کہا جاتا اور روشنی کو آسمان کا فرزند ، آسمانی دیوتا وارونا (VARUNA) جسے یونانی یورانس (OURANOS) کہتے تھے اس کو سب سے بڑے خدا کی حیثیت سے پوجا جاتا تھا اس کے علاوہ متھرا (MITHERE) جو روشنی کا دیوتا تھا اس کی بھی پوجا کی جاتی وارونا اور متھرا کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ وہ انسانوں کے دلوں کے حالات اور ان کے اعمال کا مشاہدہ کرتے اور پھر وہ دونوں سب کچھ دیکھنے والے ہیں ۔( دی ہسٹری آف پرشیا صفحہ ۱۰۰ جلد اول مطبوعہ ۱۹۴۹ء لندن)
اس مظاہر پرستی کے دور میں زرتشت کا ظہور ہوا یہ ایران کے قدیم مذہب کا بانی ہے کچھ عرصہ قبل اسے ایک فرضی شخص سمجھا جانے لگا تھا۔ جس کا کوئی حقیقی وجود نہ تھا ۔ لیکن اب ایسے دلائل و شواہد مل گئے ہیں جن کی بنا پر موجودہ دور کے مورخین اور محققین اسے ایک حقیقی شخص یقین کرنے لگے ہیں۔
زرتشت آذربائیجان کے صوبہ کا باشندہ تھا ۔ اس کی پیدائش یورومیا (URUMIA) جھیل کے مغربی کنارہ پر ایک قصبہ میں ہوئی اُس کا نام بھی یورومیا تھا ۔ اس کا عہد شباب تنہائی اور خلوت گزینی میں بسر ہوا اس وقت وہ ہمیشہ غور و فکر میں مصروف رہتا اس اثناء میں اسے خواب میں سات مرتبہ بشارتیں ہوئیں جس کی بنا پر اسے یقین ہو گیا کہ اسے اللہ تعالیٰ نے پیغمبری کے منصب پر فائز کیا ہے ۔ اور اس نے اس کا اعلان بھی کردیا۔
ابتدائی طویل سالوں میں اسے بہت کم کامیابی ہوئی پہلے دس سالوں میں اس کے حلقہ عقیدت میں صرف ایک شخص داخل ہوا ۔ اپنے آبائی وطن میں اپنی دعوت کی کامیابی سے مایوس ہو کر اس نے مشرقی ایران کا سفر اختیار کیا وہاں صوبہ خراسان کے شہر کشمار (KISHMAR) میں اس کی ملاقات وستاسپ (VISTASP) سے ہوئی جو وہاں کا حکمران تھا یہ وہی شخص ہے جس کو فردوسی نے اپنے شاہنامہ میں گشتاسپ کے نام سے یاد کیا ہے۔ پہلے اس بادشاہ کے وزیر کے دو لڑکے اور اس کی ملکہ اس کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئے درباری علماء کے ساتھ اس کا مناظرہ ہوا انہوں نے اپنے جادو کے زور سے اس پر غلبہ پانا چاہا ۔ لیکن سب کو رسوا کن شکست کا سامنا کرنا پڑا آخر کار بادشاہ بھی اس کے عقیدت مندوں میں شامل ہو گیا گستاسپ، اس کا دست راست ثابت ہوا اس کی وجہ سے اس مذہب کو ترقی اور عروج نصیب ہوا اسی اثناء میں وسط ایشیا کے تورانیوں نے ایران پر حملے شروع کر دیئے ایک روایت کے مطابق تورانیوں اور زرتشتیوں کے درمیان فیصلہ کن جنگ، جدید سبزوار کے قصبہ کے مغرب کی طرف ایک میدان میں لڑی گئی تورانیوں نے جب دوسری مرتبہ حملہ کیا تو زرتشت جو اپنی عزت و ناموری کے عروج پر تھا بلخ کے مقام پر قتل کر دیا گیا ایک روایت یہ بتاتی ہے کہ زرتشت قربان گاہ پر اس وقت مارا گیا جب اس کے گرد اس کے عقیدت مندوں اور امتیوں کا ایک انبوہ کثیر تھا۔
یہی مصنف زرتشت کی پیدائش اور وفات کے بارے میں لکھتا ہے۔
بعض مورخین کی رائے میں وہ ایک ہزار سال قبل مسیح پیدا ہوا اور بعض نے چھ سو ساٹھ قبل مسیح اس کا سالِ پیدائش متعین کیا ہے ۔ اور یہی قول زیادہ صحیح ہے ۔ اس کی وفات پانچ سو تراسی قبل مسیح میں ہوئی اس کی کتاب کا نام ژند ہے اس کی شرح اوستا کے نام سے مشہور ہے اس کے بارے میں کتبِ تاریخ میں ہے کہ ہخامنشیوں کے عہد میں اسے مرتب کیا گیا اور بیل کی بارہ ہزار ہڈیوں کے ٹکڑوں پر یہ سنہری حروف سے لکھی ہوئی تھی ہخامنشیوں کے زوال کے بعد اس کا بہت ساحصہ ضائع ہوگیا اور بہت کم حصہ محفوظ رہا۔
بعض علماء کے نزدیک وولا گاس اول جو پہلی صدی عیسوی میں پارتھیوں کا بادشاہ تھا اس نے اور بعض کے نزدیک اردشیر جو ساسانی خاندان کا بانی تھا اس نے تلاشِ بسیار کے بعد اس کتاب کے چند حصے دریافت کئے اور ان کو تدوین کیا۔
جس طرح پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ زرتشت سے پہلے آرین مظاہر فطرت کی پرستش کیا کرتے تھے لیکن زرتشت نے خدائے وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کی لوگوں کو دعوت دی جسے ان کی زبان میں اھورامزدا (AHURAMAZDA) یا آرمزد (ARMOZD) کہا جاتا تھا۔ اس کا معنی ہے سب کچھ جاننے والا خداوند برتر اور ساری دنیا کا پیدا کرنے والا۔ اس حقیقت کا علم اس گفتگو سے ہوتا ہے جو اھورامزدا نے زرتشت سے کی اس نے کہا کہ آسمان کو میں بلندیوں پر سلامت رکھتا ہوں جو چمکتا ہے اور دور تک نظر آتا ہے اور زمین کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ (ہسٹری آف پرشیا خلاصہ صفحہ ۱۰۳ تا ۱۰۶ از برگیڈیئر پرسی)
یہاں ول ڈیورانٹ کا ایک اقتباس نقل کر رہا ہوں۔ امید ہے اس کے مطالعہ سے قارئین کو حقیقتِ حال سے پوری طرح باخبر ہونے میں مدد ملے گی، وہ لکھتے ہیں۔
زرتشت سے پہلے جو مذہب ایران میں رائج تھا اس میں متعدد خداؤں پر ایمان لانا ضروری تھا۔ سب سے بڑا خدا سورج دیوتا تھا جس کو ”مترا“ کہا جاتا تھا۔ زمین اور اس کی زرخیزی کی دیوی کا نام ”انیتا“ تھا۔ ہوما، اس مقدس بیل کا نام تھا جو ایک دفعہ مر گیا اسے پھر زندہ کیا گیا اس نے نوع انسانی کو اپنا خون پینے کے لئے دیا۔ تاکہ اس کو دوام حاصل ہو جائے- وہ لوگ جب اس بیل کی عبادت کرتے تھے تو پہلے ایک شراب پی کر خوب مست ہو جاتے تھے پھر اس کی پوجا کرتے تھے یہ شراب ”ہوما“ نامی ایک بوٹی سے بنائی جاتی تھی جو ایران کے پہاڑوں کے دامن میں اگتی تھی۔
جب زرتشت نے ایرانی معاشرہ کو شرک اور فسق کی دلدل میں پھنسا ہوا دیکھا تو وہ غصے سے بے قابو ہو گیا اور اس نے مجوس کے مذہبی طبقہ کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور بڑی شجاعت اور بہادری سے اس حقیقت کا اعلان کیا کہ ”لَيْسَ فِي الْعَالَمِ اِلَّا الْاِلٰهُ وَاحِدٌ“ کہ سارے جہان میں صرف ایک خدا ہے اور وہ اہورا مزدا ہے جو نور اور آسمانوں کا خدا ہے ۔ (قصة الحضارة : صفحہ ۴۲۵ جلد اول جزء ثانی)
جس خدا وند برتر کی تعلیم زرتشت نے دی اور خدا کا جو تصور زرتشت کے پیرو کاروں میں اس کے بعد رواج پذیر ہوا اس میں امتیاز کرنا ضروری ہے زرتشت نے جس خدا کی الوہیت کا پرچار کیا وہ بڑا مہربان ساری کائنات کا خالق اور تمام صفات کمال سے متصف تھا لیکن بعد کے زمانہ میں اہورا مزدا کو اگرچہ تمام دوسرے معبودوں پر برتری اور فوقیت حاصل رہی لیکن عبادت صرف اس کی نہیں کی جاتی تھی بلکہ اس کے علاوہ چھ دیگر غیر فانی اور مقدس ہستیاں تھیں جن کی پرستش کی جانے لگی تھی بلکہ وہ مظاہر فطرت جن کی پرستش کو اس عظیم مصلح نے بالکل ختم کردیا تھا وہ پھر واپس لائے گئے تھے اہورا مزدا کے ساتھ ساتھ ان کی بھی پوجا کی جاتی تھی چنانچہ توحید خالص کے عقیدہ کی جو تبلیغ زرتشت نے کی تھی اس عقیدہ کو رفتہ رفتہ ترک کردیا گیا اور قوم نے اپنی عبادت گاہوں میں ان پرانے بتوں کو بھی سجا کر رکھ دیا۔ شرک اور کفر کے جس بھنور سے زرتشت نے اپنی قوم کو نکالا تھا اور توحید خداوندی کی جس شاہراہ پر انہیں گامزن کیا تھا وہ پھر اس سے بھٹک گئے۔ (ہسٹری آف پرشیا صفحہ ۱۰۷)
اس حقیقت کو آر سی ذینر (R. C. ZEAHNER) نے اپنی مشہور کتاب انسائیکلوپیڈیا آف لیونگ فیتھس (زندہ مذاہب کا دائرہ معارف) میں سر پرسی (SIR PERCY) سے بھی زیادہ واضح انداز میں تحریر کیا ہے اس نے لکھا ہے:-
اس نے تمام قدیم خداؤں کو ایرانی عبادت گاہوں سے نکال دیا تھا۔ اور صرف اهورامزدا یعنی خداوند علیم و حکیم کی وحدانیت کا عقیدہ اپنانے کی اہل ایران کو دعوت دی تھی اگرچہ زرتشت کی وفات کے بعد پھر کئی قدیم خدا ان کی عبادت گاہوں میں گھس آئے تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی اهورامزدا کی عظمت و کبریائی کی ہمسری کا مدعی نہ تھا۔ اور جب زرتشت کا عقیدہ ایران کی ساسانی شہنشاہیت کا سرکاری مذہب تسلیم کر لیا گیا تو اس وقت زرتشتی مذہب کی دو صورتیں پہلو بہ پہلو مروج تھیں ایک صورت تو یہ تھی کہ جس طرح اهورامزدا نیکی کا خدا تھا۔ اس حیثیت سے اھرمن کو برائی کا خدا تسلیم کیا جاتا تھا۔ یعنی بیک وقت دو قادر مطلق خداؤں کا عقیدہ مروج تھا دونوں غیر فانی تھے اگرچہ ایک خیر کا خدا تھا اور دوسرا شر کا۔
دوسرا تصور یہ تھا کہ قادر مطلق خدا ایک ہی ہے جسے اهورامزدا کہا جاتا اور خیر و شر کی دو طاقتیں مخلوق طاقتیں ہیں اور ہر انسان کو یہ آزادی حاصل تھی کہ چاہے تو وہ خیر کے نمائندہ کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرے اور چاہے تو شر کے نمائندہ کے ساتھ چنانچہ اپنی ایک مناجات میں زرتشت کہتا ہے۔
”اے خداوندِ حکیم! زرتشت اپنے لئے تیری روح کو منتخب کرتا ہے جو بہت ہی مقدس ہے اور زرتشت اپنے سامعین کو بتایا کرتا تھا کہ ہر انسان آزاد ہے مجبور و مقہور نہیں اسے اختیار ہے کہ وہ چاہے تو خیر کو اپنے لئے منتخب کرلے چاہے تو شر کو اپنے لئے پسند کرلے“۔ (انسائیکلوپیڈیا آف لیونگ فیتھس صفحہ ۲۰۲-۲۰۱ مطبوعہ برطانیہ طبع پنجم ۱۹۸۴ء)
ایک دوسرے فاضل ٹریورلنگ (TREVOR LING) جو مانچسٹر یونیورسٹی میں مقارنہ مذاہب کے پروفیسر ہیں اپنی کتاب دی ہسٹری آف ریلیجین ایسٹ اینڈ ویسٹ (مشرقی و مغربی ادیان کی تاریخ) میں لکھتے ہیں۔
زرتشت کی مذہبی تعلیمات کا علم ہمیں ”گاتھا“ سے حاصل ہوتا ہے جو گیتوں کی ایک کتاب ہے جس میں زرتشت نے خداوندِ کریم کی بارگاہ میں اپنی نیاز مندیاں پیش کی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے۔ جیسے زرتشت کو اس بات کا یقین حاصل ہوگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے چن لیا ہے تاکہ وہ اس کے بندوں تک سچائی کا پیغام پہنچائے ان گیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا۔ کہ وہ اپنے ہمعصر لوگوں کو دوسرے معبودوں کی عبادت سے رہائی دلا کر ایک خداوند علیم و حکیم کی عبادت کی دعوت دے جسے اس کی زبان میں اہورامزدا کہا جاتا زرتشت اپنے اس نظریہ کو بھی بڑی جرأت سے بیان کرتا کہ انسان مجبورِ محض نہیں بلکہ اس کو خیر و شر میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے ، اور اس آزادانہ انتخاب کی بنیاد پر ہی اس سے باز پرس ہوگی اور اس کو جزا یا سزا کا مستوجب قرار دیا جائے گا۔ (دی ہسٹری آف ریلیجن صفحہ ۷۸۔۷۷)
پروفیسر مذکور نے اس مضمون کی ابتداء میں یہ بتایا ہے کہ زرتشت کا زمانہ چھ سو اٹھارہ تا پانچ سو اکتالیس قبل مسیح ہے ۔ جبکہ پانچ سو چھیاسی قبل مسیح میں اس کی عمر تیس سال تھی جب اس نے اپنے مذہب کی دعوت کا آغاز کیا۔
یہ وہ دور ہے جب کہ بابل کے بادشاہ نے یہوداہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور یروشلم کے لاکھوں یہودیوں کو اسیرانِ جنگ کی حیثیت سے بابل میں لے آیا تھا۔ اور وہ پچاس سال تک جنگی قیدیوں کی طرح بابل میں غلاموں کی سی زندگی بسر کرتے رہے اور یہی وہ پچاس سال ہیں جب زرتشت اپنے مذہب کی تبلیغ میں مصروف رہا۔
زرتشت کی وفات ٹریور (TREVOR) کی تحقیق کے مطابق پانچ سو اکتالیس قبل مسیح میں ہوئی یعنی اس واقعہ سے صرف تین سال قبل جب کہ ایران کے بادشاہ سائرس نے بابل کو فتح کیا اور اسے اپنی ایرانی مملکت کا حصہ بنایا۔ اور یہودی جو بابل میں اسیری کی زندگی بسر کررہے تھے ان کو یروشلم واپس جانے کی اجازت دی۔ یقیناً وہ لوگ زرتشت کی تعلیمات سے متاثر ہوئے ہوں گے اور ان اثرات کا صحیح اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب یہودی مذہب کے ان نظریات کا جو اس جلاوطنی سے پہلے تھے موازنہ ، ان کے اُن عقائد سے کیا جائے جن کو انہوں نے بابل کی جلاوطنی سے واپسی کے بعد اپنایا۔ (دی ہسٹری آف ریلیجن صفحہ ۷۵)
اہورامزدا جو کہ سراپا خیر قوت کا نام تھا ۔ اس کی ہمعصر اور ہم پلہ ایک برائی کی طاقت بھی تھی جسے اهرمن کہتے خیر و شر کی ان دونوں قوتوں کے درمیان ان کے نزدیک روزِ اول سے باہمی تنازعہ جاری ہے کبھی خیر کو فتح حاصل ہوتی ہے اور کبھی برائی کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔
مذہبی زندگی کے رسم و رواج کے ہجوم میں تین ایسی چیزیں ہیں جنہیں زرتشت کے مذہب کے بنیادی اصول قرار دیا جا سکتا ہے۔
۱۔ طلب معاش کے لئے جتنے پیشے ہیں ان میں شریفانہ اور معزز پیشہ صرف کھیتی باڑی اور مویشیوں کی پرورش ہے۔
۲۔ عالم امکان کی یہ ساری تخلیقات اس باہمی آویزش کا نتیجہ ہیں جو روز ازل سے نیکی و بدی کی قوتوں کے درمیان برپا ہے۔
۳۔ ہوا ۔ پانی ۔ آگ اور مٹی پاک عناصر ہیں انہیں پلید نہیں کرنا چاہئے۔
ان اصولوں کی وضاحت اس طرح کی جاسکتی ہے کہ زرتشت کے نزدیک سب سے پاکیزہ زندگی یہ ہے کہ انسان اپنی رہائش کے لئے اور اپنے مویشیوں کے لئے مکان تعمیر کرے اس کے پاس کتا بھی ہو بیوی بھی اور بچے بھی۔ وہ بہترین اناج کاشت کرے گھاس اگائے پھلدار درختوں کے باغات لگائے سیم زدہ علاقوں میں پانی خشک کرنے کی تدبیریں کام میں لائے۔
زرتشت نے روزہ رکھنے سے سختی سے منع کردیا کیونکہ اس طرح انسان کمزور ہوجاتا ہے نہ مذہب کا کام کرسکتا ہے نہ دنیا کا۔ ان کے نزدیک شادی کرنا فرض ہے اور تعدد ازدواج کی بھی اجازت ہے جس کے بچے زیادہ ہوں بادشاہ پر لازم ہے کہ اسے انعامات سے نوازے اور اس کی حوصلہ افزائی کرے ان کا دوسرا اصول یہ ہے کہ اچھی اور مفید چیزوں کا خالق اھورامزدا ہے جیسے بیل، کتا، مرغ۔ اس کے برعکس مضر اور نقصان دہ چیزوں کی تخلیق کا کام اہرمن کی طرف منسوب کرتے ہیں جیسے درندے۔ سانپ۔ مکھیاں۔ کیڑے مکوڑے وغیرہ ان کو مارنا حتی کہ چیونٹی کو تلف کرنا بھی ضروری کام ہے اور ایسا کرنے والے کو ثواب ملتا ہے کیونکہ یہ چیزیں کسان کے اناج کو کھاتی ہیں یا نقصان پہنچاتی ہیں۔ کتے کو بڑی اہمیت دی گئی ہے اس کو انسان کے برابر رکھا گیا ہے بلکہ بیوی اور بچوں پر بھی اسے فوقیت دی گئی ہے۔ جانوروں میں اود بلاؤ (سگِ ماہی ، دریائی بلی) کو ان کے نزدیک بڑا تقدس حاصل ہے اس کے مارنے کی سزا دس ہزار کوڑے ہیں۔ اتنی سنگین سزا کسی اور جرم کے لئے مقرر نہیں کی گئی۔
ان کا تیسرا اصول آگ کی تقدیس ہے۔ یہاں تک کہ پروہت پر بھی لازم ہے کہ وہ قربان گاہ پر جب مذہبی رسوم ادا کرنے لگے تو اپنے منہ کو کپڑے سے لپیٹ لے تاکہ اس کے سانس سے آگ آلودہ نہ ہو۔ اود بلاؤ، مٹی اور آگ کی تقدیس و تطہیر کے گیت گانے والی قوم حضرت انسان کو کس حقارت آمیز نظر سے دیکھتی ہے اور اس کو کس ذلت آمیز سلوک کا مستحق قرار دیتی ہے اس کا مطالعہ بھی ازحد تعجب خیز ہے۔
ان کے نزدیک جب انسان بیمار ہوجائے تو وہ کسی شفقت اور خصوصی توجہ کا مستحق نہیں رہتا بلکہ وہ قابل نفرت ہو جاتا ہے کیونکہ بیماری اس بات کی علامت ہے کہ اس پر بری قوت نے قابو پالیا ہے اس لئے اس کے قریبی رشتہ دار بھی اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اسے زندگی کی
ضروریات سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔ بیمار کے علاج میں تساہل۔ گائے کے پیشاب سے ناپاک کو پاک کرنے کا طریقہ۔ اس حیرت انگیز مذہب کے کمزور پہلو ہیں۔ (ہسٹری آف پرشیا خلاصہ صفحہ ۱۱۰ تا ۱۰۸)
جب کوئی زرتشتی قریب مرگ ہو جاتا ہے تو روٹی کا ایک ٹکڑا اس کے سینے پر رکھ دیتے ہیں اور ایک کتا اس کے قریب لایا جاتا ہے اگر وہ کتا اس روٹی کے ٹکڑے کو کھالے تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ شخص مرگیا ہے مرنے کے بعد اس کے ساتھ جو ذلت آمیز برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں سن کر انسان سراپا حیرت بن جاتا ہے۔ کہ مرنے والے کے بیٹے۔ بھائی اور قریبی رشتہ دار اس کی لاش کے ساتھ ایسا ذلت آمیز سلوک کیونکر گوارا کر لیتے ہیں۔ وہ زمین میں دفن بھی نہیں کرتے کیونکہ اس طرح مٹی جو ان کے نزدیک پوتر ہے وہ پلید ہوجاتی ہے اس کونذر آتش کرکے بھسم بھی نہیں کرتے کیونکہ آگ جو ان کی معبود ہے وہ اس کی آلائشوں سے ناپاک ہوجاتی ہے بلکہ اس کو ایک گہرے کنویں (دخمہ) میں لٹکا دیتے ہیں گوشت خور پرندے کوے۔ چیلیں۔ گدھیں اس پر جھپٹ جھپٹ کر اس کا گوشت نوچ لیتی ہیں دل یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ زرتشت جیسے توحید کا درس دینے والے مصلح اور معرفت الٰہی کا سبق پڑھانے والے معلم نے اپنے مالک و خالق کی تخلیق کے اس شاہکار کی یوں تحقیر اور تذلیل کی اجازت دی ہو لیکن زرتشت کا امتی کہلانے والے صدیوں سے یہی کر رہے ہیں اور آج بھی مُردوں کے ساتھ ان کے رویہ میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔
قریب مرگ آدمی کے پاس ایک رسم ادا کی جاتی ہے جسے ”سگرید“ کہتے ہیں اس کا طریقہ یہ ہے کہ زرد رنگ کا کتا جس کی چار آنکھیں ہوں یا ایک سفید رنگ کا کتا جس کے بھورے کان ہوں وہ اس قریب مرگ آدمی کے پاس لایا جاتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ کتے کے دیدار سے شیطان اس مرنے والے کی لاش میں گھسنے کی جو کوشش کررہا ہوتا ہے وہ اس کوشش میں ناکام ہو جاتا ہے۔ (ہسٹری آف پرشیا صفحہ ۱۰۳)
پروفیسر آر تھر اپنی کتاب ایران بعد ساسانیاں ، میں رقمطراز ہیں۔
اوستا کے بیشمار مقامات سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ عناصرِ طبعی کی پرستش ہمیشہ دینِ زرتشتی کی اصولی خصوصیت رہی اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ زرتشتی آگ اور پانی و مٹی کو آلودہ کرنے سے کس قدر پرہیز کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگاتھیاس لکھتا ہے کہ اہلِ ایران سب سے زیادہ پانی کا احترام کرتے ہیں یہاں تک کہ پانی کے ساتھ منہ دھونے سے بھی پرہیز کرتے ہیں اور سوائے پینے اور پودوں میں دینے کے اور کسی غرض کے لئے نہیں چھوتے ،، وندیداد ، میں مذہبی رسومِ تطہیر کے لئے پانی کے استعمال کی سب ہدایات لکھی گئی ہیں۔ تطہیر کے لئے اگر کوئی چیز پانی سے زیادہ موثر ہے تو وہ گائے کا پیشاب ہے۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۱۸۹)
ان کے ہاں تخلیقِ کائنات کا تصور
یہ عالمِ رنگ و بو کس طرح معرضِ وجود میں آیا اس کے بارے میں عجیب و غریب نظریات اہلِ ایران کے ہاں رائج تھے جن کو قصے اور کہانیاں تو کہا جا سکتا ہے لیکن عقل و دانش ان کو حقیقت تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔
ان کہانیوں کے سلسلہٴ دراز میں سے ہم ایک نظریہ آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں جو ان کے نزدیک سب سے زیادہ مقبول اور مستند خیال کیا جاتا تھا۔
ڈاکٹر آر تھر ، ایران بعد ساسانیاں میں لکھتے ہیں۔ مسئلہ آفرینشِ کائنات کا قصہ جو سب نے لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ
”خدائے اصلی یعنی زُروان ہزار سال تک قربانیاں دیتا رہا تاکہ اس کے ہاں بیٹا پیدا ہو جس کا نام وہ اھورامزدا رکھے لیکن ہزار سال کے بعد اس کے دل میں شک پیدا ہونا شروع ہوا کہ اس کی قربانیاں کارگر نہیں ہوئیں تب اس کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو بیٹے موجود ہوگئے ایک اھورامزدا جو اس کی قربانیوں کا نتیجہ تھا اور دوسرا اہرمن جو اس کے شک کا نتیجہ تھا۔ زروان نے وعدہ کیا کہ میں دنیا کی بادشاہی اس کو دوں گا جو پہلے میرے سامنے آئے گا تب اھرمن………. اس کے سامنے آ گیا۔ زروان نے پوچھا تو کون ہے اھرمن نے جواب دیا۔ میں تیرا بیٹا ہوں۔ زروان نے کہا میرا بیٹا تو معطر اور نورانی ہونا چاہئے اور تو متعفن اور ظلمانی ہے۔ تب اھورامزدا معطر اور نورانی جسم کے ساتھ پیدا ہوا ۔ زروان نے اسے بطور اپنے فرزند کے شناخت کیا اور اس سے کہا کہ اب تک تو میں تیرے لئے قربانیاں دیتا رہا۔ اور اب آئندہ چاہئے کہ تو میرے لئے قربانیاں دے اھرمن نے باپ کو اس کا وعدہ یاد دلایا کہ تو نے کہا تھا کہ جو پہلے میرے سامنے آئے گا اس کو بادشاہ بناؤں گا۔ زروان نے کہا کہ میں نو ہزار سال کی بادشاہی تجھے دیتا ہوں لیکن اس مدت کے گزرنے کے بعد اھورامزدا اکیلا سلطنت کرے گا۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۱۹۸ – ۱۹۷)
اس نظریہ تخلیق کائنات کے مطالعہ سے اس کی لغویت از خود آشکار ہو جاتی ہے۔ جس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں جو اولاد کا محتاج ہو۔ وہ خدا کیونکر ہوسکتا ہے۔ جو خدا ہزار سال تک قربانیاں دیتا رہا ہے اور اس کی امید بر نہ آئے تو ایسے خدا کی خدائی سے کسی مخلوق کی مشکل کیسے آسان ہوگی ہزار سال کی قربانی کے بعد امید بر بھی آئی تو عجیب انداز سے کہ دو بیٹے پیدا ہوئے ایک سراپا خیر اور ایک مجسمہ شر، اس خدا کی مرضی تو یہ تھی کہ میں دنیا کی مملکت سراپا خیر بیٹے کو دوں گا لیکن مجسمہ شر بیٹا اتنا عیار نکلا کہ اپنے باپ کو بھی پچھاڑ دیا اور اس کو مجبور کردیا کہ وہ کائنات کی زمام حکومت اس کے حوالے کردے ناچار اور بے بس زروان کو بادل نخواستہ نو ہزار سال کے لئے اس دنیا کی حکومت اھرمن کے سپرد کرنا پڑی۔ یہ طفلانہ قصہ ، صرف قصہ ہی نہیں تھا بلکہ عرصہ دراز تک ایک باشوکت و جبروت قوم کا عقیدہ بنا رہا جس پر وہ پختگی سے ڈٹی رہی۔
ایرانیوں کے مذہبی افکار و عقائد
جیسے پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ آریائوں کے قدیم مذہب کی بنیاد عناصر طبعی ، اجسام فلکی اور قدرتی طاقتوں کی پرستش پر تھی لیکن ان کے ساتھ جلد ہی نئے خدا بھی شامل ہوگئے۔ لیکن زرتشت کی دعوت کے نتیجہ میں انہوں نے تمام دیگر خداؤں کی پرستش کو ترک کردیا اور خدائے علیم و حکیم (اہورامزدا) کی عبادت شروع کردی لیکن زرتشت کی وفات کے بعد اس کے پیرو زیادہ دیر تک توحید خالص کے عقیدہ پر ثابت قدم نہ رہ سکے سرپرسی، اس کی وجہ لکھتے ہیں۔
زرتشتی جب ترک وطن کر کے بحیرہ قزوین کے مغرب میں پہنچے تو یہاں کی آبادی کو آگ کی از حد تکریم کرتے ہوئے پایا کیونکہ یہاں آگ زمین سے شعلوں کی صورت میں نکل رہی تھی۔ اگرچہ ارد گرد کا کوہستانی علاقہ برف کی چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔ آگ کے شعلوں کا یوں بلند ہونا بڑا دلفریب منظر پیش کرتا تھا۔ بجائے اس کے کہ وہ اس کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک بہت بڑی دلیل سمجھتے لوگوں نے اس کو اپنا معبود بنالیا اور اس طرح زرتشتیوں کو آگ کا پجاری کہا جانے لگا۔ آج بھی آگ کے تقدس کا قدیم تصور باقی ہے کیونکہ ایرانی پارسی آج بھی نہ موم بتی کو بجھاتے ہیں اور نہ جلتی ہوئی لکڑی کو۔ سگریٹ نوشی ان کے ہاں قطعا ممنوع ہے۔ (ہسٹری آف پرشیا صفحہ ۱۱۰)
عقیدہ قیامت
حیات بعد الموت کا عقیدہ آریوں کے قدیم اور بنیادی عقائد میں سے ایک تھا۔ ان کا یہ ایمان تھا کہ مرنے کے بعد انسان کو زندہ کیا جائے گا اور اگر اس نے دنیوی زندگی میں نیک کام کئے ہیں تو اس کو ان کا اجر ملے گا اور وہ ہمیشہ کے لئے جنت میں مسرت و شادمانی کی زندگی بسر کرے گا۔ اور اگر اس نے برے کاموں میں اپنی زندگی برباد کی ہے تو جب وہ زندہ کیا جائے گا تو ان گناہوں کی اسے سزا بھگتنی ہوگی۔
جنرل سرپرسی، ایرانیوں کے قدیم عقائد پر تفصیلی بحث کرنے کے بعد اس کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔
” ہم نے آریوں کی اپنے اصل وطن سے نقل مکانی کرکے ایران پر قابض ہونے کا سراغ لگایا ہے اور ایران کو یہ نام اسی وجہ سے ملا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ پہلے وہ اجڈ، خانہ بدوش قسم کے لوگ تھے عناصر فطرت کی پوجا کرتے تھے جب ان میں زرتشت کی عظیم ہستی ظاہر ہوئی تو اس نے ان کے اساطیری تخیلات کو روحانیت عطا کی اور ایک خداوندِ اعلیٰ و برتر کی عبادت کی دعوت دی جو خدا ان صفاتِ کمال کا حامل ہے۔ جوعیسیٰ علیہ السلام کے خدا میں پائی جاتی ہیں۔ زرتشت نے ہی آریوں کو یہ درس دیا کہ روح غیر فانی ہے۔ نیز اس نے امید ورجا کا ایک ایسا پیغام دیا جو ازمنہ قدیمہ سے لے کر آج بیسویں صدی تک اپنے ماننے والوں کے دلوں میں امید کا چراغ روشن رکھے ہوئے ہے۔ اسی نے یہ تعلیم دی کہ خیر و شر میں جو معرکہ برپا ہے۔ انسان آزاد ہے کہ وہ خواہ خیرکے لشکر میں شامل ہوجائے یا شر کے علمبرداروں کے جتھے میں شریک ہوجائے۔ ہر انسان یہ بھی جانتا ہے کہ آخر کار خیر کو شر پر غلبہ نصیب ہوگا۔ جس طرح قحط سالی کو ابرِ رحمت آ کر ختم کردیتا ہے”
سرپرسی کہتا ہے کہ میری ناقص رائے میں اس سے بہتر زرتشت کے مذہب کے اصولوں کو بیان کرنا ممکن نہیں۔ جس طرح ان کا ہر عمر رسیدہ شخص نعرہ لگاتا ہے
HUMATA – HUKHTA – HVARSHTA
جس کا انگریزی میں ترجمہ یہ ہے۔
GOOD – THOUGHTS, GOOD WORDS
GOOD DEEDS.
یعنی پاکیزہ خیالات۔ شائستہ الفاظ اور نیک اعمال۔ (ہسٹری آف پرشیا صفحہ ۱۱۴)
پارتھیا
ایران کے دوسرے صوبوں کی طرح پارتھیا بھی ایک صوبہ تھا جو موجودہ خراسان اور استرآباد کی حدود میں واقع تھا۔ یہ ایرانی مملکت کا ایک حصہ تھا۔ جہاں کے رہنے والے شہنشاہِ ایران کو خراج اور دیگر مالی واجبات ادا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ان میں ایک باہمت فرد ارساسس (ARSACES) پیدا ہوا جس نے اپنی قائدانہ اور فاتحانہ صلاحیتوں کے باعث ایک آزاد مملکت کی بنیاد رکھی جس کا آغاز سن دو سو انچاس قبل مسیح میں ہوا اس کی فتوحات کا سلسلہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا یہاں تک کہ اس نے رومی حکمران کے ساتھ جنگ کرکے رومی مملکت کا کافی حصہ زیر نگین کرلیا یہاں کے باشندے کسی خاص مذہب کے پابند نہ تھے دیگر جاہل اقوام کی طرح وہ اپنے اسلاف کے مجسموں کی پرستش کرتے یہ لوگ بھی ہخامنشیوں کی طرح زرتشتیوں سے متاثر ہوئے اور دو ابدی خداؤں مزدا اور اہرمن کو ماننے لگے مزدا، نیکی کا خدا تھا اور اہرمن شر کا دیوتا۔ سورج اور چاند کی پرستش بھی شروع ہوگئی ان کے علاوہ اور بھی بہت سے معبود تھے جن کی پارتھیا کے لوگ پوجا کیا کرتے عام لوگ صرف اپنے آباء و اجداد کی پوجا کو ہی کافی سمجھتے ہر اعلیٰ و ادنیٰ خاندان کا یہ از حد قیمتی سرمایہ تھا ۔ جادو اور منتروں پر ان کا راسخ اعتقاد تھا ۔ (ہسٹری آف پرشیا صفحہ ۳۶۹ )
ول ڈیوران لکھتا ہے ۔
ان کے ہاں جادو اور علم نجوم پر بڑا بھروسا کیا جاتا اور کوئی اہم کام شروع کرنے سے پہلے نجومیوں سے مشورہ کرنا وہ ضروری سمجھتے ۔ (ایچ آف فیتھ صفحہ ۱۳۹ )
جب سورج طلوع ہوتا وہ اس وقت اس کی عبادت کرتے اور سورج کو اس کے پرانے نام “مترا” سے یاد کیا جاتا ۔ (ہسٹری آف پرشیا صفحہ ۳۶۹ )
آہستہ آہستہ پارتھیا کے باشندوں نے آگ کی پرستش کی طرف سے بے اعتتنائی برتنا شروع کردی، سورج چاند وغیرہ اشیاء کی پوجا میں یہاں تک محو ہوگئے کہ بڑے بڑے آتش کدے ٹھنڈے ہوگئے اور وہ قربان گاہیں جہاں آگ کے لئے قربانیاں دی جاتی تھیں وہ ویران اور سنسان ہوگئیں۔ (ہسٹری آف پرشیا صفحہ ۳۹۷۔۳۹۶)
ساسانی خاندان
ساسانی خاندان کی حکومت کے بانی اردشیر نے جب ۲۲۶ء یا ۲۲۷ء میں اپنی شہنشاہیت کی بنیاد رکھی تو اس نے پھر زرتشتی مذہب کو عروج بخشا سورج اور چاند کی پوجا ختم کردی گئی دوسرے معبودوں کے اصنام کو توڑ پھوڑ دیا گیا ساری قوم زرتشت کے مذہب کی پیروکار بن گئی لیکن اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اردشیر نے زرتشت کے دین توحید کو قبول کر لیا تھا۔ بلکہ اس نے زرتشت کے انہیں نظریات کو قبول کیا جس کی نمائندگی موبدان کر رہے تھے اور جس میں آگ کی پرستش سر فہرست تھی اس تحریف شدہ مروج زرتشتی مذہب کی حمایت اور تبلیغ کا بیڑا اردشیر اول نے اٹھایا۔ چنانچہ پروفیسر آر تھر ایران بعد ساسانیاں میں لکھتا ہے ۔
”ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اردشیر اول کا دادا، اصطخر میں ”اناہتا“کے معبد کا رئیس تھا، اور یہ کہ ساسانی خاندان کو اس معبد کے ساتھ خاص لگاؤ تھا۔ پس معلوم ہوا کہ خاص خاص دیوتاؤں کے خاص خاص معبد تھے لیکن پھر بھی یہ قرین قیاس ہے کہ تمام معبد بطور عمومی تمام زرتشتی خداؤں کی پرستش کے لئے وقف تھے …. عبادت کی مرکزی جگہ آتش گاہ تھی جہاں پر مقدس آگ جلتی رہتی تھی عام طور پر ہر آتش کدے کے آٹھ دروازے اور چند ہشت پہلو کمرے ہوتے تھے اس نمونہ کی عمارت شہر یزد کا قدیم آتش کدہ ہے جو آج بھی موجود ہے۔
مسعودی نے اصطخر کے قدیم آتش کدے کا حال بیان کیا ہے وہ لکھتا ہے میں نے اس عمارت کو دیکھا ہے اصطخر سے تقریباً ایک فرخ کے فاصلہ پر ہے وہ ایک قابل تعریف عمارت اور ایک شاندار معبد ہے اس کے ستون پتھر کے ایک ایک ٹکڑے سے تراش کر بنائے گئے ہیں ان کا طول و عرض حیرت انگیز ہے۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۲۱۰)
یہی مصنف آگے چل کر لکھتا ہے۔
سلطنت ساسانی میں آتش کدے ہر جگہ موجود تھے لیکن ان میں سے تین ایسے تھے جن کی خاصی حرمت و تعظیم ہوتی تھی یہ وہ آتش کدے تھے جن میں تین آتش ہائے بزرگ محفوظ تھیں۔ جن کا نام آذر فرنبگ، آذر گشنسپ اور آذر برزین مہر تھا۔
علماء زرتشتی کے نظریہ کی رو سے یہ تین آگیں ان تین معاشرتی طبقوں سے تعلق رکھتی تھیں جن کی بنا ازروئے افسانہ زرتشت کے تین بیٹوں نے ڈالی تھی۔ آذر فرنبگ علماء مذہب کی آگ تھی۔ آذر گشنپ سپاہیوں کی آگ یا آتشِ شاہی تھی اور آذر برزین مہر، زراعت پیشہ لوگوں کی آگ تھی۔
آذر گشنپ یا آتشِ شاہی کا آتش کدہ شمال میں مقامِ گنجک (شیز) میں تھا ۔ جو صوبہ آذربائیجان میں واقع تھا …. شاہانِ ساسانی تکلیف و مصیبت کے وقت اس آتش کدے کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے اور وہاں نہایت فیاضی کے ساتھ زر و مال کے چڑھاوے چڑھاتے تھے اور زمین و غلام اس کے لئے وقف کرتے تھے۔ بہرامِ پنجم نے جو تاجِ خاقان اور اس کی ملکہ سے چھینا تھا اس کے قیمتی پتھر اس نے آتش کدے آذر گشنسپ میں بھجوا دیئے تھے۔ خسروِ اول نے بھی اس آتش کدے کے ساتھ اسی طرح کی فیاضیاں کی تھیں۔ خسروِ دوم نے منت مانی تھی کہ اگر اس کو بہرامِ چوبیں پر فتح حاصل ہو گی تو وہ اس آتش کدے میں سونے کے زیور اور چاندی کے تحائف نذر کے طور پر پیش کرے گا۔ (ایران بعد ساسانیاں خلاصہ صفحہ ۲۱۵۔ ۲۱۸)
یہاں تک ہم نے مختلف ادوار میں ایرانی قوم کے مذہبی عقائد و نظریات میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں ان کا آپ کے سامنے ذکر کیا اب ہم آپ کو ان کی مذہبی زندگی کے ایک اہم پہلو کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔
ایران میں ایک مخصوص قبیلہ ”ماگی“ کو مذہبی اجارہ داری حاصل تھی۔ اگرچہ ان کے مذہبی افکار میں تغیرات رونما ہوتے رہے لیکن تمام ادوار میں مذہبی پیشوائی کا حق صرف اسی خاندان میں مرکز رہا پروفیسر آر تھر لکھتے ہیں۔
”مجوس یا مغاں اصل میں میڈیا کے ایک قبیلہ یا اس قبیلہ کی ایک خاص جماعت کا نام تھا۔ جو غیر زرتشتی مزدائیت کے علماء مذہب تھے جب مذہب زرتشت نے ایران کے مغربی علاقوں میڈیا اور فارس کو تسخیر کیا تو مغاں، اصلاح شدہ مذہب کے رؤساء روحانی بن گئے ۔ اوستا میں یہ علماء مذہب آذر وان کے قدیم نام سے مذکور ہیں لیکن اشکانیوں اور ساسانیوں کے زمانے میں وہ معمولاً ”مُغ“ کہلاتے تھے ان لوگوں کو ہمیشہ قبیلہ واحد کے افراد ہونے کا احساس رہا۔ عام لوگ بھی ان کو ایک ایسی جماعت تصور کرتے تھے جو قبیلہِ واحد سے تعلق رکھتی ہے۔ اور خداؤں کی خدمت کے لئے وقف ہے۔” ـ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۱۴۹)
کیونکہ مذہبی قیادت ایک خاص قبیلہ کے افراد سے مخصوص ہو کر رہ گئی تھی اور ملک میں عام جاگیردارانہ نظام تھا۔ بادشاہ کی طرف سے خدمات کے صلہ میں امراء کو بڑی بڑی جاگیریں بخشی جاتی تھیں اس لئے یہ دونوں گروہ ملک میں بااثر اور مقتدر شمار کئے جاتے تھے۔ مغ خاندان کے پاس صرف مذہبی قیادت ہی نہ تھی بلکہ یہ بڑی بڑی جاگیروں کے مالک بھی تھے۔ اس لئے بڑے متمول اور دولت مند تھے۔ اگر ان دو گروہوں میں سے کسی کو بادشاہ کی طرف سے خطرہ محسوس ہوتا تو دونوں متحد ہوجاتے اور ایک دوسرے کے حقوق کے تحفظ میں ایک دوسرے کی مدد کرتے موبدوں کا انتخاب ہمیشہ قبیلہ مغاں میں سے ہوتا اور انہیں میں سے موبدان موبد چنا جاتا۔ جو ان تمام مذہبی رہنماؤں کا سربراہ اعلیٰ ہوتا۔ زرتشتی دنیا میں اس کی حیثیت ایسی ہوتی جیسے عیسائی کلیسا میں پوپ کی۔ مذہبی عظمت اور مالی اقتدار کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنا نسب نامہ ایک ایسی افسانوی شخصیت کے ساتھ ملا دیا تھا جس کی ایرانیوں کے دل میں بڑی عزت و توقیر تھی۔ اس کا نام منوش چتر تھا۔ جسے عام طور “منوچہر” کہا جاتا ہے۔
انہوں نے اپنے مذہبی مقام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے دنیاوی اقتدار کو بھی مذہبی تقدس کا رنگ دے دیا تھا۔ اور ہر شخص کی زندگی میں پیش آنے والے تمام مرحلے مہد سے لحد تک ان کی نگرانی میں طے کئے جاتے تھے۔ اس زمانہ کا ایک مشہور مورخ اگاتھیاس لکھتا ہے
“ہمارے زمانہ میں ہر شخص ان کا احترام کرتا ہے اور بے حد تعظیم کے ساتھ پیش آتا ہے پبلک کے معاملات، ان کے مشوروں اور پیش گوئیوں سے طے ہوتے ہیں اور لوگوں کے باہمی تنازعات کا وہ غور و فکر کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں اہل فارس کے نزدیک کوئی چیز مستند اور جائز نہیں سمجھی جاتی جب تک کہ ایک مغ اس کے لئے جواز کی سند نہ دیتا۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۱۵۰)
موبدوں کا اثر ورسوخ محض ان کے روحانی اقتدار کی وجہ سے نہ تھا اور نہ اس لئے کہ وہ پیدائش، شادی اور موت اور قربانی وغیرہ کی رسموں کو ادا کرتے تھے بلکہ ان کی زمینوں جاگیروں اور اس کثیر آمدنی کی وجہ سے بھی تھا۔ جو انہیں مذہبی کفاروں، زکوۃ، نذر و نیاز کی رقموں سے حاصل ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں کامل سیاسی آزادی حاصل تھی۔ ان کے بارے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انہوں نے حکومت کے اندر اپنی حکومت بنا رکھی تھی ۔ میڈیا، بالخصوص آذربائیجان ، مغوں کا ملک سمجھا جاتا تھا وہاں ان لوگوں کی زرخیز زمینیں اور پرفضا مکانات تھے جن کے گرد حفاظت کے لئے کوئی دیوار نہیں بنی ہوتی تھی ۔
پارتھیا کے آخری ایام میں مغوں کا تسلط ختم کردیا گیا تھا اور ان کی اہمیت گھٹ گئی تھی یہاں تک کہ ان سے ان کی بڑی بڑی جاگیریں چھین لی گئی تھیں ان کے آتش کدے ویران ہوگئے تھے اور قربان گاہیں سنسان ۔ لیکن ساسانی خاندان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اردشیر اول ساسانی خاندان کے بانی نے ان کو وہ پہلا مقام ارزانی کردیا ان کی مذہبی بالادستی اور اجارہ داری کے ساتھ ساتھ ان کی ثروت و خوشحالی کا دور بھی واپس آگیا ۔ چنانچہ ول ڈیوران لکھتا ہے ۔
” زرتشت مذہب کا سابقہ اقتدار اور اثر ورسوخ بحال کردیا گیا مغوں کو ان کی جاگیریں واپس کردی گئیں اور ان کے اس حق کو بھی بحال کردیا گیا کہ وہ ہر شخص کی آمدنی کا دسواں حصہ کلیسا کے لئے وصول کریں سیاسی اثر و رسوخ میں بھی بادشاہ کے بعد دوسرا نمبر ان کا تھا ۔ یہ سارے اختیارات ماگی قبیلہ میں منحصر تھے ۔ جو ایران کی عملی اور فکری زندگی کو کنٹرول کرتے تھے ۔ وہ مجرموں اور باغیوں کو دوزخ کی سزا کی دھمکیاں دیا کرتے تھے ۔ پوری چار صدیوں تک وہ اہل ایران کے قلوب واذہان پر حکومت کرتے رہے ماگی قبیلہ کے پروہت اتنے دولت مند تھے کہ بسا اوقات بادشاہ ان سے قرض لیا کرتا تھا ہر مشہور شہر میں ایک آتش کدہ ہوتا جس میں مقدس شعلہ روشن رہتا جو کہ روشنی کے دیوتا کا نشان سمجھا جاتا شر کے دیوتا اھرمن کے مقابلہ میں کامیابی فقط اس وقت ممکن خیال کی جاتی جب ماگی کی تائید انہیں حاصل ہوتی صرف وہی روحیں پاکیزگی اور تقدس کی رفعتوں کو پاسکتیں اور یومِ محشر کی تکلیف دہ آزمائش سے نجات حاصل کر سکتیں اور جنت کی ابدی مسرتوں سے مالامال ہوسکتیں جنہیں ان مذہبی اجارہ دار ماگیوں کی دعائیں اور امدادیں حاصل ہوتیں ۔ (دی ایچ آف فیتھ صفحہ ۱۳۹)
مذہبی تعصب کی تباہ کاریاں
ایران میں ماگیوں کے غیر محدود اختیارات نے مذہبی تشدد کا روپ اختیار کرلیا اور بڑی تباہیوں اور بربادیوں کا باعث بنے “مانی” نے جب اپنے پیغامبر ہونے کا دعویٰ کیا تو ماگیوں نے اسے تختہ دار پر لٹکا دیا۔ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ ساسانی بادشاہوں نے ابتداء میں مذہبی رواداری کا ثبوت دیا، یہودیوں پر یورپ میں عیسائی جب مظالم ڈھاتے تو وہ ابتداء میں یونانی مملکت میں آ کر پناہ لیتے ۔ لیکن جب قسطنطین کے عہد میں رومن مملکت نے عیسائی مذہب اختیار کرلیا تو رومیوں اور ایرانیوں میں عرصہ دراز سے عداوت کے جو شعلے بھڑک رہے تھے انہوں نے عیسائیوں اور ایران کے زرتشتیوں کے درمیان مذہبی عداوت کا رنگ اختیار کر لیا۔ شاپور دوم کے زمانہ میں جب بیزنطی حکومت سے جنگ شروع ہوئی اور ایران میں بسنے والے عیسائیوں نے بیزنطی افواج کی امداد کی اور ان کے لئے اپنے خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا تو شاپور نے ۳۴۱ء میں ایرانی مملکت میں بسنے والے تمام عیسائیوں کے قتل عام کا حکم دے دیا عیسائیوں کے تمام دیہات برباد کر دیئے گئے اور ان میں بسنے والوں کو تہِ تیغ کردیا گیا۔ بعد میں شاپور نے عام عیسائیوں کو تو معاف کر دیا مگر پادریوں، راہب مردوں، راہب عورتوں کو ذبح کرنے کا حکم دیا سولہ ہزار عیسائی موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ یزد جرد اول (۳۹۹ تا ۴۲۰ء) نے عیسائیوں کو مذہبی آزادی دی اور از سرِ نو گرجے تعمیر کرنے میں انہیں مالی اعانت بہم پہنچائی۔
۴۲۲ء میں ایران کے پادریوں نے ایک کونسل منعقد کی جس میں ایران کے عیسائی کلیسا کو یونانی اور رومی عیسائی کلیساؤں سے علیحدہ قرار دے دیا۔ یوں ہر روز کی مصیبت سے انہوں نے نجات حاصل کی۔
خسرو پرویز نے اپنی پے در پے فتوحات کے باعث مغرور ہو کر عیسائیت کے خلاف پھر مقدس جنگ کا اعلان کیا۔ چھبیس ہزار یہودی اس کی فوج میں شامل ہوگئے ۶۱۴ء میں ایران اور یہودیوں کے متحدہ لشکر نے یروشلم پر حملہ کردیا اور نوے ہزار عیسائیوں کو تہِ تیغ کر دیا سارے شہر کو بڑی بے دردی سے لوٹا اور دشمن کے بہت سے کلیسا جن میں کلیسۃ القیامۃ بھی شامل تھا۔ ان کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا اور وہ اصل صلیب جو عیسائی دنیا کی مقدس ترین چیز ہے ایرانی اسے بھی اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ (ایچ آف فیتھ صفحہ ۱۴۷)
خسرو پرویز نے اس کے بعد اسکندریہ ۔ مصر پر حملہ کرکے اپنی فتح کا پرچم لہرادیا ۶۱۷ء میں اس نے کالسیڈن کے شہر پر بھی قبضہ کرلیا جو دس سال تک برقرار رہا یہ شہر قسطنطنیہ کے بالکل سامنے تھا۔ اور ان دو شہروں کے درمیان صرف آبنائے فاسفورس کی تنگ پٹی تھی جو انہیں ایک دوسرے سے جدا کرتی تھی پرویز نے عیسائی دنیا کے تمام گرجوں کو بھی کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ان میں فنون لطیفہ کے جتنے نادر نمونے تھے اور ان گرجوں کے خزانوں میں جو بے پناہ دولت جمع تھی اسے بھی لوٹ کر ایران لے گیا۔ (الکامل ابن اثیر صفحہ ۴۷۳ جلد اول مطبوعہ بیروت)
جنرل سرپرسی ہسٹری آف پرشیا میں شاہ پور کے عہد میں عیسائیوں پر جو مظالم ڈھائے گئے ان کی وجوہات ذرا تفصیل سے بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
”جب بیزنطینی حکمرانوں نے عیسائیت قبول کی اور عیسائیت کو اپنی مملکت کا مذہب قرار دیا تو ایران میں بسنے والے عیسائیوں کی ہمدردیاں فطرۃً ان کے ساتھ ہوگئیں۔ ان کے اورایرانیوں کے درمیان سیاسی کشمکش کا آغاز ہوگیا ایرانی حکمرانوں نے عیسائیوں کے خلاف جو فردِ جرم تیار کی اس کے اہم نکات یہ تھے۔
۱۔ عیسائی ہماری مقدس تعلیمات کو تباہ کرتے ہیں وہ لوگوں کو تلقین کرتے ہیں کہ صرف ایک خدا کے بندے بنیں سورج اور آگ کی تعظیم نہ کریں نیز عیسائی لوگوں کو پانی کے ساتھ وضو کرنے کی تلقین کرتے ہیں اس طرح وہ پانی کو پلید کرتے ہیں نیز وہ تبلیغ کرتے ہیں کہ لوگ شادی سے پرہیز کریں اور بچوں کی پیدائش سے اجتناب کریں نیز لوگوں کو اس بات پر اکساتے ہیں کہ ایران کے شہنشاہ کے ساتھ جنگ میں شرکت سے انکار کردیں وہ مردوں کو زمین میں دفن کرتے ہیں سانپوں ، رینگنے والے کیڑوں مکوڑوں کی آفرینش کو اچھے خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
۲۔ وہ بادشاہ کے ملازم کی تحقیر کرتے ہیں انہیں جادو سکھاتے ہیں عیسائیوں کے خلاف سب سے پہلے جو شاہی فرمان جاری ہوا وہ یہ تھا کہ وہ دوسری رعایا سے دوگنا ٹیکس ادا کریں تاکہ جنگ کے اخراجات پورے کئے جائیں جس میں وہ حصہ نہیں لیتے مار شیمون (MAR SHIMUN) ایک کیتھولک پادری کو حکم دیا گیا کہ وہ ٹیکس کی اس رقم کو لوگوں سے وصول کرکے جمع کرے ۔ اس نے حماقت کی اور یہ حکم بجالانے سے انکار کر دیا اور اس کی دو وجوہات بیان کیں۔
پہلی یہ کہ لوگ بہت غریب ہیں اتنا ٹیکس ادا نہیں کرسکتے۔ دوسری یہ کہ بشپ کا کام ٹیکس جمع کرنا نہیں اس کو اس کے بہت سے ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا اور ۳۳۹ء میں گڈ فرائیڈے کے روز مار شیمون MAR) (SHIMUN، پانچ بشپوں اور ایک سو پادریوں کو سوسا (SUSA) کے مقام پر پھانسی دے دی گئی۔
عیسائیوں پر مظالم کی یہ ابتداء تھی۔ جو اس کے بعد چالیس سال تک جاری رہے عیسائیوں کو بے دریغ قتل کیا جاتا رہا۔ ان کے کلیساؤں کو تباہ و برباد کیا جاتا رہا۔ راہب مردوں اور راہبہ عورتوں کو خصوصیت کے ساتھ اذیت ناک سزائیں دی جاتیں۔ کیونکہ یہی لوگ نمایاں طور پر ان جرائم کا ارتکاب کرتے تھے جن کا تذکرہ ایرانیوں کی تیار کردہ فرد جرم میں گزرچکا ہے۔ قیصر جولیان (JULIAN) کے سالار جووئین (JOVIAN) نے جب نصیبین اور پانچ دوسرے صوبوں کو ایرانی قبضہ سے چھین کر رومی مملکت کے حوالہ کردیا تو عیسائیوں کی تعذیب اور اذیت رسانی کے شعلے پھر بھڑک اٹھے اور جب تک شابور کا طویل عہد حکومت ختم نہیں ہوا بد قسمت عیسائیوں کو امن کا سانس لینا نصیب نہیں ہوا ۔ (ہسٹری آف پرشیا خلاصہ صفحہ ۴۱۵۔ ۴۱۴)
عیسائی آبادی جو شابور کے طویل عہد میں طرح طرح کے ظلم و ستم کا ہدف بنی رہی اس کے مرنے کے بعد اسے کچھ سکون نصیب ہوا شاپور سوم نے ایک کیتھولک پادری کو ایک عہدہ کے لئے منتخب کیا لیکن صحیح تبدیلی اس وقت رونما ہوئی جب یزدجرد اول حکمران بنا۔ اس نے ۴۰۹ء میں ایک فرمان شاہی جاری کیا جس میں عیسائیوں کو آزادی سے عبادت کرنے اور اپنے گرجوں کو از سر نو تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
یزد جرد کی اس نوازش کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ عراق کا ایک بشپ مسمّی “ماروتھا” (MARUTHA) ایک سفارت لے کر بادشاہ کے پاس حاضر ہوا بادشاہ بیمار تھا۔ اس نے دم کیا وہ شفایاب ہوگیا۔ اس لئے اس نے عیسائیوں کے بارے میں یہ رحم دلانہ رویہ اختیارکیا۔
سرپری لکھتے ہیں:
“کہ وہ اس حد تک اس بشپ سے متاثر ہوا کہ وہ بپتسمہ لے کر عیسائی مذہب قبول کرنے پر آمادہ ہوگیا اس کی وجہ سے ماگیوں نے اس کو بدکار کے لقب سے ملّقب کردیا اور تاریخ میں وہ اس لقب سے پہچانا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد اسے خیال آیا کہ وہ عیسائیوں کی حمایت میں حد سے زیادہ تجاوز کررہا ہے چنانچہ اس نے ماگیوں کو اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ عیسائیوں کا قلع قمع کردیں چنانچہ آئندہ پانچ سال عیسائیوں پر حد درجہ ظلم و ستم روا رکھا گیا۔ (ہسٹری آف پرشیا صفحہ ۴۳۰)
ایران کے سیاسی حالات
ساسانی خاندان کے عہد حکومت میں ایران کے سیاسی حالات بیان کرنے سے پہلے پارتھیا کے عہد اقتدار میں ایران کے سیاسی حالات کا تذکرہ قارئین کے لئے فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔
پارتھیا کے عہد حکومت میں ایران کے سات خاندانوں کو سیاسی اور معاشی لحاظ سے دیگرایرانی قبائل پر برتری حاصل تھی ان سات خاندانوں میں دو تو شاہی خاندان تھے ان کے علاوہ پانچ خاندانوں میں سے دو خاندان امتیازی شان کے مالک تھے ایک تو “سورین” کا خاندان تھا۔ اس خاندان کو بادشاہ کو تاج پہنانے کا موروثی حق حاصل تھا اور دوسرا “قارین” کا خاندان تھا۔ ان گھرانوں میں جو لوگ گاؤں کے سربراہ تھے وہی حکومت کے مرکز ثقل تھے اور انہیں میں وہ بڑے بڑے باج گزار حاکم تھے جو شاہی فوج کے لئے اپنی رعایا سے سپاہی بھرتی کرتے تھے رعایا یا کسان جن کے ذمہ فوجی خدمت ہوتی تھی وہ ان طاقتور سرداروں کے قبضہ میں ایک طرح کی غلامی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ عہدہ شاہی اشکانی خاندان کے ساتھ مخصوص تھا لیکن یہ ضروری نہ تھا کہ باپ کے بعد بیٹا ہی جانشین ہو اس خاندان کے اکابر اس بات کا فیصلہ کرتے تھے کہ کس کو بادشاہ ہونا چاہئے۔ صوبوں کی گورنری، شاہی خاندان اور باقی چھ ممتاز خاندانوں کے ممبروں کے لئے مخصوص تھی۔ مجلسِ شوریٰ بھی شاہی گھرانے کے شہزادوں اور بقیہ چھ ممتاز خاندانوں کے رؤساء پر مشتمل ہوتی۔
پارتھی عہد کے ایک امیرِ کبیر کا کامل نمونہ سورین ہے۔ مشہور یونانی تذکرہ نگار پلوٹارک اس کی تصویر بایں الفاظ پیش کرتا ہے۔
تمول، نجابت، شان و شوکت میں بادشاہ کے بعد اس کا اولین درجہ تھا- شجاعت، لیاقت کے اعتبار سے وہ پارتھیوں میں برترین تھا۔ قد و قامت اور جسمانی خوبصورتی میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا۔ جب وہ کسی مہم پر جاتا تھا تو اس کے ہمراہ ایک ہزار اونٹ ہوتے تھے جن پر اس کا سامان لادا جاتا تھا۔ دو سو رتھوں میں اس کی خواصیں سوار ہوتی تھیں ہزار زرہ پوش سوار اور اس سے کہیں زیادہ سپاہی ہلکے ہتھیاروں کے ساتھ باڈی گارڈ کے طور پر اس کے ہم رکاب ہوتے تھے ان دس ہزار سواروں میں سے کچھ تو اس کی رعایا تھے کچھ اس کے غلام۔ لڑائی کے دن وہ اپنی فوج کو ساتھ لئے زنانہ بناؤ سنگھار کے ساتھ میدان میں نکلتا تھا- چہرہ پر غازہ، بالوں میں مانگ نکالتا تھا- وہ اپنے حرم کو اپنے ساتھ رکھتا تھا اور میدانِ جنگ میں بھی عیش و عشرت کی راتیں بسر کرتا تھا یعنی مے نوشی۔ راگ رنگ عشق و محبت کے شغلوں سے اپنا جی بہلاتا تھا- (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۲۲)
اس سے اس عہد کے دوسرے رؤساء کی ظاہری دولت و حشمت اور رنگین زندگی کے بارے میں آپ باآسانی اندازہ لگاسکتے ہیں جب امراء کی یہ حالت تھی تو بادشاہ کی پر تکلف اور پرتعیش زندگی کا کیا عالم ہوگا۔ ان کے ہاں بادشاہ کے اختیارات کسی قانون کے ماتحت نہ تھے وہ کامل خودمختاری کے ساتھ حکومت کرتا تھا۔ بادشاہ سب سے زیادہ اپنے خاندان کے افراد سے خائف رہتا تھا کیونکہ کوئی امیر جب تک اسے اشکانی خاندان کے کسی شہزادے کی سرپرستی حاصل نہ ہو وہ بادشاہ کے خلاف علمِ بغاوت بلند نہیں کرسکتا تھا، اسی وجہ سے اشکانی خاندان کے بادشاہ بسا اوقات اپنے خاندان کے لوگوں کا بے رحمی کے ساتھ قتل عام کرتے تھے بادشاہ بالعموم لوگوں کے لئے ناقابل رسائی ہوتا تھا۔ جاہ و جلال کے امتیازی حقوق جو اس کے لئے مخصوص تھے ان میں ایک یہ تھا کہ وہ اونچا تاج پہنتا۔ اور زریں پلنگ پر سوتا تھا۔ سلطنت کا خزانہ اور بادشاہ کا ذاتی خزانہ ایک ہی چیز تھی۔
پارتھیوں کے عہد حکومت میں بلکہ ان سے پہلے بھی ایران تقریباً دو سو چالیس چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا ساسانی خاندان کے عہد اقتدار میں ایران کو طوائف الملوکی کی لعنت سے نجات ملی وہ ایک آزاد متحد اور طاقتور ملک کی حیثیت سے صفحہ تاریخ پر ابھرا۔
ساسانی خاندان کی حکومت کا آغاز
ساسانی خاندان کے برسر اقتدار آنے کو ایسی روایات سے وابستہ کردیا گیا ہے جن سے ایرانی باشندوں کے ذہن میں یہ چیز راسخ ہوگئی ہے کہ ساسانیوں کو حکومت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ہے اس میں کسی انسانی طاقت کا کوئی دخل نہیں تقریباً ساسان کے ہر بادشاہ نے اپنی رعایا کے لوح قلب پر اس امر کو ثبت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کے سر پر جو تاج شاہی ہے براہ راست خداوند عالم نے اسے یہ پہنایا ہے۔ گویا ایسے بادشاہ کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کا خیال بھی اس خدا سے براہ راست برسرپیکار ہونے کے مترادف ہے جس نے اس بادشاہ کو اورنگ شاہی اور تاج سلطانی ارزانی فرمایا ہے۔ لوگوں کو جو قلبی عقیدت اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھی ان روایات و حکایات کی بنا پر وہی عقیدت ان کو اپنے بادشاہ کے ساتھ بھی ہوتی تھی ہم قارئین کے سامنے وہ حکایت بیان کرتے ہیں جو مورخین نے ساسانی خاندان کے برسر اقتدار آنے کے بارے میں بیان کی ہے۔
پاپک نامی ایک شخص فارس کی ریاست کا حکمران تھا اور اصطخر میں قیام پذیر تھا اس کا کوئی لڑکا نہ تھا۔ ایک رات اس نے خواب میں دیکھا کہ ساسان جو اس کا چرواہا تھا اس کے سر سے آفتاب طلوع ہو رہا ہے۔ اور اپنی روشنی سے ساری دنیا کو منور کر رہا ہے دوسری رات اس نے پھر خواب دیکھا کہ ساسان سفید ہاتھی پر سوار ہے اور لوگ اس کی خدمت میں نذرانہ عقیدت پیش کررہے ہیں تیسری رات پھر اس نے خواب دیکھا کہ پاکیزہ آگ ساسان کے گھر میں جل رہی ہے اور رفتہ رفتہ تیز تر ہورہی ہے یہاں تک کہ اس کی روشنی سے سارا جہاں چمک اٹھا ہے ان خوابوں سے پاپک حیرت زدہ ہوگیا اور اپنے دانشور درباریوں کو طلب کرکے انہیں اپنے خواب سنائے۔ سب نے اتفاق رائے سے ان خوابوں کی یہ تعبیر بتائی کہ ساسان یا اس کا بیٹا بادشاہی حاصل کرلیں گے۔ یہ سننے کے بعد پاپک نے ساسان کو بلایا۔ ساسان نے اس کو اپنی خاندانی عظمت کے بارے میں آگاہ کیا چنانچہ بادشاہ نے اس کو خلعت شاہی پہنائی اور اپنی لڑکی کے ساتھ اس کی شادی کردی جس کے بطن سے اردشیر پیدا ہوا۔
اس سلسلہ میں ایک دلچسپ کہانی یہ بیان کی جاتی ہے کہ اردوان جو ایران کی دو سو چالیس ریاستوں کا حکمران اعلیٰ تھا اور جس کا دار السلطنت “رے” کے مقام پر تھا۔ اردشیر جب جوان ہوگیا تو وہ اردوان کے دربار کو چھوڑکر پارس کی طرف بھاگ گیا اور اپنے ساتھ اردوان کی دانا اور خوبصورت دوشیزہ کو بھی لے گیا جو اردوان کی مشیر خاص تھی لیکن اس نے اردشیر کے عشق میں مبتلا ہونے کے باعث اپنے ولی نعمت اور ایران کے حکمران اعلیٰ اردوان کو چھوڑکر اردشیر کی معیت میں بھاگ جانے کا فیصلہ کیا بادشاہ کو معلوم ہوا تو وہ غصہ سے بے قابو ہو کر ان بھگوڑوں کے تعاقب میں نکلا اور ایک گاؤں میں پہنچ کر لوگوں سے دریافت کیا کہ کیا انہوں نے اس قسم کا کوئی جوڑا دیکھا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ اس جوڑے کو ہوا کی تیزی کے ساتھ گھوڑا دوڑاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اور ایک بڑا دنبہ ان کے پیچھے پیچھے دوڑتا جا رہا تھا۔ دوسرے روز اردوان کا گزر ایک کاروان کے پاس سے ہوا جنہوں نے بتایا کہ مینڈھا ایک گھڑ سوار کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اس کو یقین ہوگیا کہ یہ شاہی شان و شوکت کی علامت ہے چنانچہ اس نے ان کی تلاش ترک کر دی۔ (ہسٹری آف پرشیا صفحہ ۳۹۳)
یہ اگرچہ افسانے ہیں لیکن ان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ساسانیوں نے اپنی بادشاہی کو کس طرح خدائی اختیارات سے منسوب کیا ان کی وفادار رعایا صدہا سال تک ان افسانوں کو حقیقت یقین کرتی رہی اور ان کا یہ اعتقاد تھا کہ کوئی غاصب جس کی رگوں میں مقدس شاہی خون نہ دوڑ رہا ہو۔ وہ ساسانی بادشاہوں کے مقابلہ میں اگر علم بغاوت بلند کرے گا تو کبھی کامیاب نہ ہوگا۔
اردشیر اگرچہ اپنے باپ کی ایک ذیلی ریاست کا وارث تھا جو اردوان کے ماتحت تھی لیکن اس نے ہمت کرکے کرمان پر قبضہ کرلیا اور وہ قلعہ آج بھی قلعہ اردشیر کے نام سے مشہور ہے۔
اردوان اس کی اس جسارت پر بر افروختہ ہوا اور فارس پر حملہ کردیا پہلے دن کی لڑائی میں اگرچہ فریقین کو سخت جانی نقصان اٹھانا پڑا لیکن جنگ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔ دوسرے روز اردشیر نے فتح حاصل کرلی۔ اور پارتھیا کے شہنشاہ کو ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار کردیا آخری جنگ ہرمزکے میدان میں لڑی گئی جو اہواز کے مشرق میں ہے اس جنگ میں پارتھیا کی فوج کو مکمل شکست ہوئی اور اردوان مارا گیا۔ ایک روایت یہ ہے کہ اردشیر نے اردوان کو دعوت مبارزت دی جو اس نے قبول کرلی۔ اردوان نے جب حملہ کیا تو اردشیر نے بظاہر راہ فرار اختیار کی لیکن پھر اچانک واپس مڑکر ایک تیر مارا جواردوان کے دل کو چیرتا ہوا پار نکل گیا اس طرح دو سو چھبیس عیسوی یا دو سو ستائیس عیسوی میں پارتھیا کی شہنشاہیت نے دم توڑ دیا اور اردشیر نے ساسانی شہنشاہیت کا آغاز کیا۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے تمام ایران پر قبضہ کر لیا۔ تاریخ فرشتہ میں ہے کہ
“ایران فتح کرنے کے بعد اس نے ہندوستان پر حملہ کردیا اور سرہند کے مضافات تک بڑھتا چلا گیا۔ راجہ جونا، جو اس علاقہ کا حکمران تھا اس نے موتی جواہرات سونا اور ہاتھی بطور نذرانہ پیش کئے اور اردشیر کو واپس لوٹانے میں کامیاب ہو گیا۔” (ہسٹری آف پرشیا صفحہ ۳۹۳۔ ۳۹۴)
ان فتوحات سے فارغ ہونے کے بعد اس نے اپنی تخت نشینی اور تاج پوشی کا جشن منایا اس روز اس نے اپنی رعایا کے سامنے اپنی حکومت کا منشور پیش کیا جو تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ مسعودی نے مروج الذہب میں اس کو نقل کیا ہے آپ بھی اس کا مطالعہ کریں۔
“ساری تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے اپنی نعمتوں کے ساتھ ہمیں مخصوص فرمایا اور اپنی مہربانیوں سے ہمیں اپنے گھیرے میں لیا۔ اور ملکوں کو ہمارے لئے مسخر کردیا۔ بندوں کو ہماری فرمانبرداری کی طرف رہنمائی کی، ہم اس کی حمد کرتے ہیں اس شخص کی حمد کی طرح جس نے اس فضل کو پہچانا، جو اس پر اس نے کیا۔ اور ہم اس کا شکر ادا کرتے ہیں اس آدمی کی طرح کہ جو ان عطیات کی قدر و منزلت کو پہچانتا ہے، جو اس پر کئے گئے۔ اور جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے چن لیا ہے۔ خبردار! ہم عدل قائم کرنے میں، فضل و احسان کرنے میں، شاندار کارنامے انجام دینے میں، ملکوں کو آباد کرنے میں، بندوں کے ساتھ لطف و احسان کرنے میں، اور مملکت کی حدود کو مستحکم بنانے میں اور جو کچھ گذشتہ دنوں میں برباد ہوچکا ہے ان کو درست کرنے میں اپنی ساری کوششیں صرف کردیں گے۔ اے لوگو! تمہارے دل مطمئن ہونے چاہئیں۔ کیونکہ میں ہر طاقتور اور کمزور، ہر فروتر اور شریف، سب کے درمیان عدل کروں گا۔ اور عدل کو اپنا قابلِ تعریف طریقہ بناؤں گا۔ اور ایسا گھاٹ بناؤں گا جس پر سب وارد ہوں گے تم ہماری سیرت میں ایسی چیزیں دیکھو گے جن پر تم ہماری ثنا کرو گے ہمارے افعال، ہمارے اقوال کی تصدیق کریں گے۔
والسلام“ (مروج الذهب صفحہ ۲۸۵ جلد اول مطبوعہ بیروت)
اردشیر کے اس اولیں خطبہ سے اپنی رعایا کے بارے میں اس کے قابلِ تعریف نظریات و افکار کا پتہ چلتا ہے۔
بادشاہ نے کسی اور محفل میں حکمران کی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
”بادشاہ پر فرض ہے کہ اس کا عدل عام ہو۔ کیونکہ عدل میں ہی ساری بھلائیاں جمع ہوئی ہیں وہی ایک مضبوط قلعہ ہے جو ملک کو زوال اور ٹوٹنے سے بچاتا ہے اور ادبار و انحطاط کی پہلی نشانی یہ ہے کہ ملک سے عدل و انصاف رخصت ہو جائے”۔ (مروج الذہب صفحہ ۲۸۶ جلد اول)
اردشیر نے تاجِ حکومت پہنتے ہی زرتشت کے مذہب کے رہنماؤں کے ساتھ اپنا تعلق قائم کیا اور ان مذہبی رہنماؤں میں سے سات موبدوں کو منتخب کیا جو بہت متقی تھے پھر ان میں سے ایک رئیسِ موبداں چنا۔ جسے خواب آور دوا پلا کر سات روز تک سلائے رکھا گیا۔ جب وہ بیدار ہوا تو اس نے ہرمز د کا مکمل دین لکھوا دیا جس کو بادشاہ اور رعایا سب نے قبول کرلیا۔
مورخین لکھتے ہیں کہ اردشیر بہت زیرک ، عادل ، اپنی رعایا کے آرام کا طلبگار تھا۔ اس کا ایک قول ہے جو زبانِ زدِ عوام ہے۔
“There can be no power without an army, no army without money, no money without agriculture & no agriculture without justice.”)
”فوج کے بغیر کوئی طاقت نہیں ہوسکتی ۔ پیسے کے بغیر فوج نہیں رکھی جا سکتی۔ زراعت کے بغیر پیسہ نہیں مل سکتا۔ انصاف کے بغیر زراعت کامیاب نہیں ہوسکتی “ ۔ (ہسٹری آف پرشیا صفحہ ۳۹۷)
حکومت اور مذہب کے باہمی تعلق کے بارے میں اس کا ایک مقولہ ہے ۔ جو ایک ابدی صداقت ہے جب وہ مرنے لگا تو اس نے اپنے بیٹے کو بایں الفاظ وصیت کی ۔
”اے میرے فرزند! دین اور ملک دونوں بھائی ہیں ۔ کوئی بھی ان میں سے دوسرے سے مستغنی نہیں ہوسکتا دین ، حکومت کی بنیاد ہے اور حکومت دین کی نگہبان ہے, جس چیز کی بنیاد نہیں ہوتی وہ گرجاتی ہے اورجس چیز کا کوئی نگہبان نہیں ہوتا وہ ضائع ہوجاتی ہے۔” (مروج الذہب صفحہ ۲۸۹ جلد اول)
سرپرسی نے اردشیر کی اس نصیحت میں ایک جملہ لکھا ہے۔
(A Sovereign without religion is a tyrant.)
“مذہب کے بغیر حکمران ایک جابر اور ظالم حکمران ہے۔” (ہسٹری آف پرشیا صفحہ ۳۹۸)
ساسانی بادشاہ اس بات کی کوشش کرتے تھے کہ ان کی رعایا انہیں خداؤں کی نسل سے سمجھے۔ آرتھر لکھتے ہیں:-
“اپنے کتبوں میں شاہانِ ساسانی ہمیشہ اپنے آپ کو پرستند گانِ مزدا کہتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ اپنے نام کے ساتھ خدا کے القاب بھی لگاتے ہیں اور اپنے آپ کو شخصِ ربانی (بیغ) اور خداؤں (یزدان) کی نسل سے بتلاتے ہیں” (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۳۳۷)
شاپور دوم نے اپنے خط میں جو اس نے قیصر کانٹنس کے نام لکھا تھا۔ اپنے نام کے ساتھ شہنشاہ قرینِ سیارگان، برادرِ مهر و ماہ، کے شاندار القاب لگائے ہیں۔
خسرو اول نوشیرواں نے قیصر جسٹینین کے نام خط لکھنے میں اپنے نام کی تعظیم مفصلہ ذیل القاب کے ساتھ کی ہے۔
“وجودِ ربانی، نیکوکار، ملک کو امن دینے والا، واجب الاحترام، خسرو شہنشاہِ ارجمند، پارسا، فیض رساں، جس کو خداؤں نے بہت بڑی سعادت اور سلطنت سے بہرہ مند کیا ہے۔ زبردستوں کا زبردست، خداؤں کا ہم شکل”
خسرو دوم (پرویز) نے اپنے القاب کو یہاں تک بلند کیا کہ صفات ذیل کے ساتھ اپنے آپ کو متصف کر دیا۔
“خداؤں میں انسانِ غیر فانی اور انسانوں میں خدائے لاثانی اس کے نام کا بول بالا آفتاب کے ساتھ طلوع کرنے والا ہے شب کی آنکھوں کا اجالا۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۳۳۸)
خاندانِ ساسان کے کئی بادشاہوں نے بڑی بڑی چٹانوں پر اپنی ایسی برجستہ تصویریں بنائی ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اھورامزدا (خدا) اسے منصبِ شاہی عطا کررہا ہے شہرِ شاپور کی چٹان پر ایک برجستہ تصویر کندہ ہے جس میں شاہ بہرام اول کو اھورامزدا کی طرف سے منصبِ شاہی کے عطا کئے جانے کی منظر کشی کی گئی ہے بادشاہ نے ایک تاج پہن رکھا ہے جس پر نوکداردندانے بنے ہوئے ہیں اور اس کے اوپر کپڑے کی گیند رکھی ہوئی ہے اھورامزدا کا وہی دیواردار تاج ہے وہ اور بادشاہ دونوں گھوڑوں پر سوار ہیں اور بادشاہ حلقہ سلطنت کو جو اھورامزدا نے اس کی طرف بڑھا رکھا ہے ہاتھ سے پکڑ رہا ہے۔
اردشیر نے بھی دو برجستہ ایسی تصاویر یادگار چھوڑی ہیں جن میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اھورامزدا (خدا) اردشیر کو حلقہ سلطنت دے رہا ہے پہلی تصویر نقشِ رجب میں ہے اوردوسری نقشِ رستم میں نقشِ رجب کی تصویر میں اھورامزدا کو اس طرح دکھایا گیا ہے کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ میں حلقہ سلطنت کو لئے ہوئے ہے اور بائیں ہاتھ میں عصائے شاہی کو تھامے ہوئے ہے۔
اور عہدہء شاہی کی ان دو علامتوں کو ہاتھ پھیلا کر بادشاہ اردشیر کے حوالے کررہا ہے بادشاہ اپنے داہنے ہاتھ سے حلقے کو لے رہا ہے اور بایاں ہاتھ جس کی انگشت آگے کو اٹھی ہوئی ہے فرمانبرداری کے اظہار کے لئے مودبانہ اوپر کو اٹھائے ہوئے ہے۔
نقشِ رستم کی برجستہ تصاویر زیادہ بہتر حالت میں محفوظ ہیں ۔ جن میں اھورامزدا اور بادشاہ کو گھوڑوں پر سوار دکھایا گیا ہے۔ اھورامزدا بائیں ہاتھ میں عصائے شاہی تھامے ہوئے ہے اور دائیں ہاتھ سے حلقہ سلطنت کو جو شکن دار فیتوں سے مزین ہے آگے بڑھا کر بادشاہ کو دے رہا ہے۔ بادشاہ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کو لے رہا ہے ۔ اور بایاں ہاتھ جس کی انگشتِ شہادت ایستا دہ ہے اظہارِ احترام کے لئے اٹھار کھا ہے۔
طاقِ بوستان جسے ایشیا کے دروازہ کا نام دیا گیا ہے اس جگہ جہاں چٹان کی دیوار میں سے بڑے بڑے چشمے ابلتے ہیں ایک تصویر چٹان میں سے تراش کر بنائی گئی ہے۔ جس میں شاپور دوم کے عہدہ شاہی قبول کرنے کا منظر دکھایا گیا ہے۔ بادشاہ کے دائیں طرف اھورامزدا ہے جو اپنا چہرہ بادشاہ کی طرف موڑے ہوئے سر پر دیوار دار تاج پہنے ہوئے حلقہ سلطنت کو جس میں فیتے آویزاں ہیں بادشاہ کی طرف بڑھا کر اسے دے رہا ہے۔
اس طرح کی متعدد تصاویر ملک کے مختلف علاقوں میں کندہ ہیں۔ اور ان کے پیش نظر دیگر مقاصد کے علاوہ اہل ایران کے ذہنوں میں یہ نقش ثبت کرنا ہے کہ ان کے بادشاہ خدا کی طرف سے مقرر کردہ ہیں ان کو تاج شاہی اور اورنگ سلطانی کسی انسان نے یا کسی فوج نے یا رعایا کے افراد نے نہیں بخشا تاکہ ان سے وہ چھین بھی سکیں بلکہ حکمرانی و سلطانی کے یہ اختیارات انہیں اہورامزدا نے ارزانی فرمائے ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت ان سے چھین نہیں سکتی۔ بادشاہ کی غیر مشروط فرمانبرداری اور اطاعت در حقیقت اہورامزدا کی اطاعت و فرمانبرداری ہے جس نے انہیں تخت شاہی پر متمکن کیا ہے اس طرح ساسانی بادشاہوں نے رعایا کی طرف سے علم بغاوت بلند کرنے کے جملہ امکانات کو ختم کردیا کیونکہ بادشاہ کے خلاف تو کوئی منچلے اپنے سر ہتھیلیوں پر رکھ کر بغاوت کا پرچم بلند کرسکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے خلاف بغاوت کرنے کا تو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا بادشاہ کے جور و ستم کو جب تقدیر الٰہی کا نام دے دیا جائے تو پھر ان کے خلاف نہ جذبہ انتقام ہوتا ہے اور نہ ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کی کسی بندے میں جرات پیدا ہوسکتی ہے۔
حکمران طبقہ نے مختلف طریقوں سے عوام کے ذہنوں میں جب یہ چیز راسخ کردی کہ بادشاہ کی بادشاہی منجانب اللہ ہے تو اب بادشاہ کی ذات کو جملہ اختیارات کا سرچشمہ تسلیم کرنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہی۔ اس کے منہ سے نکلنے والا ہر جملہ قانون یقین کیا جانے لگا۔ جس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا رعایا کے ہر فرد پر لازم تھا۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ول ڈیورانٹ نے قصة الحضارة میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے جس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
بادشاہ کو یہ اختیار تھا کہ جس کے بارے میں چاہتا مقدمہ چلائے بغیر، کوئی جرم ثابت کئے بغیر اس کے لئے موت کی سزا کا حکم سنا دیتا بلکہ بادشاہ کی ماں اور اس کی بڑی ملکہ کو بھی یہ اختیارات حاصل تھے کہ وہ جس کو چاہیں موت کے گھاٹ اتار دیں۔ کسی عام شہری بلکہ کسی امیر و رئیس کو بھی یہ جرات نہ ہوتی تھی کہ بادشاہ یا اس کے خاندان کے اس ظالمانہ فعل پر صدائے احتجاج ہی بلند کرسکے۔ اگر کسی باپ کے سامنے اس کے بے گناہ بچے کو بادشاہ اپنے تیر سے گھائل کردیتا اور اس نوجوان کی لاش خاک و خون میں تڑپ رہی ہوتی تو باپ اس دلدوز منظر کو دیکھ کر خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا اور وہ اظہار تاسف کے بجائے اس وقت اپنے بادشاہ کی تعریف کرتا کہ ہمارے جہاں پناہ کا نشانہ بہت اچھا ہے۔
بادشاہ کی قوت کا دارومدار عسکری قوت پر ہوتا ہے ایران کا ہر شہری جس کی عمر پندرہ سال اور پچاس سال کے درمیان ہوتی اس پر لازم تھا کہ وہ فوجی خدمات ادا کرے۔ ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک باپ کے تین لڑکے تھے۔ اس نے بادشاہ کی خدمت میں درخواست کی کہ میں نے اپنے دو بچوں کو فوجی خدمات انجام دینے کے لئے آپ کی خدمت میں پیش کردیا ہے ازراہِ رعایا پروری میرے تیسرے لڑکے کو اجازت دیں کہ وہ میرے پاس رہے اور دیگر امور کو سر انجام دینے میں میری امداد کرے۔ بادشاہ نے اس وفادار شہری کی درخواست سن کر حکم دیا کہ اس کے تینوں بیٹوں کو تیغ کردیا جائے۔
ایک باپ نے اپنے چار لڑکے میدانِ جنگ میں بھیج دیئے۔ ان میں سے ایک بھائی نے بادشاہ سے درخواست کی کہ اس کے پانچویں بھائی کو اجازت دی جائے کہ وہ بوڑھے والدین کی خدمت کرے اور امورِ زراعت کی نگرانی کرے بادشاہ نے حکم دیا کہ اس پانچویں بھائی کو دو حصوں میں کاٹ دیا جائے جس راستہ سے لشکر نے گزرنا ہے اس کے ایک طرف اس کا اوپر والا دھڑ اور دوسری طرف اس کا نیچے والا دھڑ رکھ دیا جائے تاکہ لوگوں کو عبرت ہو اس ظالمانہ اور سنگدلانہ کرتوت پر کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ وہ اس پر اپنی ناپسندیدگی کا ہی اظہار کرسکیں۔ فوجی بینڈ اپنی دھنیں بجاتا رہا۔ عام لوگ بادشاہ سلامت زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگاتے رہے اور لشکر اس نوجوان کی کٹی ہوئی لاش کے دو ٹکڑوں کے درمیان سے گزر گیا مملکت میں بادشاہ کے ارادے اور لشکر کی قوت کے بغیر اور کوئی قانون نہ تھا۔ جس کا تقدس اور احترام بادشاہ اور رعایا سب پر ضروری ہو۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کا یہ اعتقاد تھا کہ بادشاہ کے سارے فیصلے اہورامزدا (خداوندِ عالم) کی طرف سے اس پر وحی کئے جاتے ہیں اب خدا کے فیصلے کے خلاف کون علمِ بغاوت بلند کر سکتا ہے۔ (قصۃ الحضارة خلاصہ صفحہ ۴۱۵ تا ۴۱۸ جلد اول جزء ثانی)
اس طرح انہوں نے اپنی سلطانی کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ کرنے کی کوشش کی نیز یہ تصور بھی اپنی رعایا کے دلوں میں راسخ کردیا کہ بادشاہی، ساسانی خاندان کے افراد کے ساتھ مختص ہے اس خاندان کے علاوہ کوئی شخص بھی بادشاہ بننے کا یا حکمرانی حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ جب کبھی ایسا ہوا کہ ساسانی خاندان کے علاوہ کسی نے عنانِ حکومت ہاتھ میں لینے کی جسارت کی جیسے بہرام گور نے تو اس کی تمام صلاحیتوں کے با وجود قوم نے اسے ٹھکرا دیا اور تب آرام کا سانس لیا جب اس کو تہ تیغ کر دیا۔
تختِ شاہی حاصل کرنے کے لئے جتنی جنگیں ہوئی ہیں ان میں دونوں طرف ساسانی خاندان کے ہی افراد تھے اس سیاسی نظریہ کے چند فوائد بھی تھے کہ سلطنت کو استحکام میسر آیا۔ اور ہر ایر وغیر اکو جرأت نہ ہوتی کہ وہ حکومت کے حصول کے لئے عوام کو برانگیختہ کرکے اپنے ساتھ ملالے۔ اور ملک میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکا دے۔ لیکن اس سے ایسی خرابیاں بھی نمودار ہوئیں، جو ایران کی ترقی کی راہ میں سنگِ گراں ثابت ہوئیں بادشاہ اپنے آپ کو مطلق العنان سمجھنے لگے ان کی کسی بات پر اعتراض کرنا ایسا جرم تھا جس کی سزا قتل تھی۔ ایک حیرت انگیز مثال آپ بھی سنیں۔ جو پروفیسر آر تھر نے طبری سے نقل کی ہے۔
”جدید بندوبست اور اصلاحِ مالیات پر غور کرنے کے لئے خسرو نے ایک کونسل منعقد کی اور دبیرِ خوراک کو حکم دیا کہ لگان کی نئی شرحیں بآوازِ بلند پڑھ کر سنائے، جب وہ پڑھ چکا تو خسرو نے دو دفعہ حاضرین سے پوچھا کہ کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے سب چپ رہے بادشاہ نے تیسری بار یہی سوال کیا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور تعظیم کے ساتھ پوچھنے لگا کہ آیا بادشاہ کا یہ منشا ہے کہ ناپائیدار چیزوں پر ٹیکس لگائے تیرایہ حکم کچھ مدت گزرنے کے بعد ظلم و بے انصافی کی شکل اختیار کر لے گا۔ اس پر بادشاہ للکار کر بولا، کہ اے مردِ ملعون و گستاخ! تو کن لوگوں میں سے ہے اس نے جواب دیا کہ میں دبیروں میں سے ہوں، بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کو قلمدانوں سے پیٹ پیٹ کر مار ڈالو، اس پر ہر ایک دبیر نے اپنے اپنے قلمدان سے اس کو مارنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ بیچارا مرگیا۔ جس کے بعد سب نے کہا اے بادشاہ! جتنے ٹیکس تو نے ہم پر لگائے ہیں وہ ہمارے نزدیک سب انصاف پر مبنی ہیں۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۵۱۱ بحوالہ طبری صفحہ ۱۲۲ جلد اول جز ثانی)
اس آمرانہ ملوکیت کا یہ نتیجہ تھا کہ بادشاہوں کو اپنی حفاظت کے لئے خصوصی انتظامات کرنے پڑتے تھے جب وہ دربارِ عام میں شرکت کے لئے جاتے تو اس وقت بھی ایسے تکلفات کو ملحوظ رکھا جاتا کہ بادشاہ کے قریب کوئی بھٹک نہ سکے۔ شاہی دربارِ عام میں جو آداب ملحوظ رکھے جاتے اور جن قواعد و ضوابط کی پابندی ضروری سمجھی جاتی اس کا ذکر پروفیسر آر تھر نے بایں الفاظ کیا ہے۔
”شاہی تخت ہال کے سرے پر پردے کے پیچھے رکھا جاتا تھا۔ اعیان سلطنت اور حکومت کے اعلیٰ عہد داروں کو پردے سے مقررہ فاصلے پر بٹھایا جاتا تھا درباریوں کی جماعت اور دوسرے ممتاز لوگوں کے درمیان
ایک جنگلا حائل رہتا تھا اچانک پردہ اٹھتا تھا اور شہنشاہ تخت پر بیٹھے دیبا کے تکئے پر سہار لگائے زربفت کا بیش بہا لباس پہنے جلوہ گر ہوتا تھا۔ تاج ، جو سونے اور چاندی کا بنا ہوا اور زمرد، یاقوت اور موتیوں سے مرصع تھا۔ بادشاہ کے سر کے اوپر چھت کے ساتھ ایک سونے کی زنجیر کے ذریعہ سے لٹک رہا تھا جو اس قدر باریک تھی کہ جب تک تخت کے بالکل قریب آ کر نہ دیکھا جائے نظر نہیں آتی تھی۔ اگر کوئی شخص دور سے دیکھتا تو یہی سمجھتا تھا کہ تاج بادشاہ کے سر پر رکھا ہوا ہے لیکن حقیقت میں وہ اس قدر بھاری تھا کہ کوئی انسانی سر اس کو نہیں اٹھا سکتا تھا۔ کیونکہ اس کا وزن ساڑھے اکانوے کلو تھا۔
(ایک کلو گرام $2 \frac{1}{5}$ پونڈ کے برابر ہوتا ہے) لہٰذا ساڑھے اکانوے کلو تقریباً ڈھائی من بنتا ہے۔“ (ایرانِ بعدِ ساسانیاں صفحہ ۵۳۱۔ ۵۳۰)
خسرو اول کے جانشین ہرمزد چہارم کے تاج کے بارے میں ایک مشہور سیاح ”تھیونی لیکٹس“ بیان کرتا ہے۔
”اس کا تاج سونے کا تھا ، اور جواہرات سے مرصع تھا سرخ یاقوتوں کی چمک جو اس میں جڑے ہوئے تھے آنکھوں کو خیرہ کرتی تھی۔ اس کے گرد موتیوں کی قطاریں جو اس کے بالوں پر لٹک رہی تھیں اپنی لہراتی ہوئی شعاعوں کو زمرد کی خوش نما آب و تاب کے ساتھ ملا کر ایسی عجیب کیفیت پیش کرتی تھیں کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں فرطِ حیرت سے کھلی کی کھلی رہ جاتی تھیں۔ اس کی شلوار ہاتھ کے بنے ہوئے زربفت کی تھی جس کی قیمت بے انداز تھی۔ فی الجملہ اس کے لباس میں اس قدر زرق برق تھی جس قدر کہ نمود و نمائش کا تقاضا تھا“۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۵۳۲ )
ان کے ہاں دربار میں حاضر ہونے کے بھی مقررہ قواعد تھے جن کی پابندی ہر شخص پر لازمی تھی اس کے بارے میں پروفیسر مذکور لکھتے ہیں۔
” جو شخص بادشاہ کے حضور میں حاضر ہوتا تھا اس کو قدیم دستور کے مطابق سامنے آکر سجدہ کرنا پڑتا تھا۔ قاعدہ یہ تھا کہ کشک بانی سالار یا کوئی اور بڑا عہدیدار جس کو محل کی دربانی کا کام سپرد ہوتا تھا۔ بادشاہ کو آکر اطلاع دیتا تھا کہ فلاں شخص شرف باریابی حاصل کرنا چاہتا ہے جب بادشاہ اجازت دیتا تو اندر داخل ہوتے وقت اپنی آستین میں سے سفید اور صاف کتان کا رومال نکال کر منہ کے آگے باندھ لیتا بادشاہ کے سامنے اس کو باندھنا اس کی جلالت کے تقدس کے خیال سے تھا ۔ قریب آکر وہ شخص فوراً زمین پر گرپڑتا اور جب تک بادشاہ اسے اٹھنے کی اجازت نہ دیتا وہ اسی حالت میں پڑا رہتا اٹھنے کے بعد وہ نہایت تعظیم کے ساتھ ہاتھ سے سلام کرتا“۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۵۳۵۔۵۳۴)
بادشاہ اور رعایا کے درمیان امتیاز کو اور بھی کئی طریقوں سے ظاہر کیا جاتا مثلاً جس روز بادشاہ سینگیاں لگواتا یا فصد کراتا یا کوئی دوائی کھاتا تو لوگوں میں منادی کرادی جاتی تاکہ تمام درباری اور پایہ تخت کے رہنے والے ان میں سے کوئی یہ کام نہ کرے ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اگر کوئی دوسرا شخص بھی اس دن وہی علاج کرے تو پھر بادشاہ پر دوا کا اثر گھٹ جائے گا۔
ان مخصوص مجالس میں بھی یہ احتیاط اور پردہ داری ملحوظ رکھی جاتی جن میں بادشاہ لہو و لعب اور شراب نوشی میں مشغول ہوتا۔ اس وقت بھی اس کے اور ندیموں کے درمیان پردہ آویزاں رہتا۔ اور ایک خاص درباری جو خرم باش کے لقب سے ملقب ہوتا اور جو لازماً کسی فوجی جرنیل کا بیٹا ہوتا وہ حاضر ہوتا اور ایک شخص کو حکم دیتا کہ وہ بلند جگہ کھڑے ہوکر یہ اعلان کرے کہ۔
”اے زبان! اپنے سر کی حفاظت کر یعنی آدابِ شاہی کو ہمیشہ ملحوظ رکھ کیونکہ تو آج بادشاہ کے دربار میں بیٹھا ہوا ہے“۔ (مروج الذہب للمسعودی صفحہ ۲۸۸ جلد اول)
یہ اعلان بلند آواز سے کیا جاتا۔ تاکہ مجلسِ لہو و لعب میں شریک ہونے والا ہر شخص سن لے۔ اور ندیموں میں سے کسی کی مجال نہ تھی کہ وہ زبان سے بات کرے وہ اشارے سے اپنا مدعا ایک دوسرے کو سمجھاتے تھے۔
اس شاہانہ جاہ و جلال کے باوجود اور حفاظتی تدابیر کے باوجود بادشاہ اپنے آپ کو محفوظ محسوس نہیں کرتا تھا۔ اسے ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں اس کے دشمن اس کو قتل نہ کردیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے لئے متعدد خواب گاہیں بنائی تھیں کسی شخص کو اس بات کا علم نہ ہو تاکہ بادشاہ آج کہاں سورہا ہے۔ کہتے ہیں کہ اردشیر اول، خسرو اول، خسرو دوم اور کئی دوسرے ساسانی بادشاہوں کے لئے چالیس مختلف جگہوں پر بستر بچھائے جاتے تھے اور اس پر بھی بعض وقت بادشاہ ان میں سے کسی بستر پر نہیں سوتا تھا بلکہ کسی معمولی سے کمرے میں بغیر بستر کے ہاتھ کا سرہانہ بنا کر لیٹ رہتا تھا۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۵۴۱)
احتیاط کا یہ عالم تھا کہ بادشاہ کے مخصوص کمرے میں اس کی اجازت کے بغیر اس کا اپنا بیٹا بھی داخل نہیں ہو سکتا تھا جاحظ نے اس بارے میں ایک دلچسپ حکایت بیان کی ہے۔
یزدگرد اول نے ایک دن اپنے بیٹے بہرام کو جو اس وقت تیرہ سال کا تھا ایسی جگہ پر دیکھا جہاں اس کو آنے کا حق نہ تھا اس نے اس سے پوچھا کہ آیا دربان نے تمہیں یہاں آتے دیکھا تھا، بہرام نے کہا ہاں! بادشاہ نے کہا اچھا جاؤ اسے تیس کوڑے مارو اور نکال دو۔ اور اس کی جگہ آزاد مرد کو دربان مقرر کرو چنانچہ ایسا ہی کیا گیا کچھ مدت بعد ایک دن پھر بہرام نے وہاں آنا چاہا لیکن آزاد مرد نے اس کے سینے پر زور کا مکا مارا اور کہا اگر میں نے پھر تجھے یہاں دیکھا تو تجھے ساٹھ کوڑے لگاؤں گا۔ تیس اس بات کے کہ تو نے پہلے دربان پر ظلم کیا اور تیس اس بات کے کہ وہی ظلم تو مجھ پر نہ کرے۔
بادشاہ کو جب اس بات کی اطلاع ملی تو اس نے آزاد مرد کو بلوا کر خلعت اور انعام دیا ۔ (ایران بعہد ساسانیاں صفحہ ۵۴۲)
جب بادشاہی ، آمریت اور مطلق العنانی کا روپ اختیار کرلیتی ہے تو پھر ملکی خزانے بادشاہ کی ذاتی ملکیت بن جاتے ہیں اور اس کی عیش پرستی پر خرچ ہونے لگتے ہیں مثال کے طور پر صرف خسرو پرویز کے بارے میں سنیئے اس کی عیش کوشی اور شاہانہ جاہ و جلال کے اظہار پر عوام کے گاڑھے پسینے کی کمائی کس بے دردی سے خرچ کی جاتی تھی اور کسی کی مجال نہ تھی کہ اس کے بارے میں باز پرس کرسکے یا اپنی ناراضگی کا اظہار ہی کرسکے علامہ طبری اپنی شہرہ آفاق کتاب تاریخ الامم والملوک میں لکھتے ہیں۔
”خسرو کے حرم میں تین ہزار بیویاں تھیں علاوہ ان ہزار لونڈیوں کے ،جو اس کی خدمت کرتی تھیں اور رقص و سرود کی محفلوں کو زینت بخشتی تھیں ان کے علاوہ تین ہزار خدمت گار تھے آٹھ ہزار پانچ سو سواری کے گھوڑے سات سو ساٹھ ہاتھی اور بارہ ہزار بار برداری کے خچر تھے ۔ اور جواہرات، سونے کے قیمتی ظروف کا اس سے بڑھ کر اور کوئی شوقین نہ تھا ۔ (تاریخ الطبری کتاب تاریخ الامم والملوک جلد اول جز دوم صفحہ ۱۵۸ مجموعہ)
علامہ ابن اثیر الکامل میں ابن جریر طبری کی تصدیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
”کہا گیا ہے کہ اس کی تین ہزار بیویاں تھیں اور کئی ہزار کنیزیں ،اس کے پاس پچاس ہزار گھوڑے تھے جواہرات اور موسیقی وغیرہ کا وہ حد از حد شوقین تھا ۔“ (الکامل صفحہ ۴۹۲ جلد اول)
پروفیسر آر تھر نے اس روایت کو اپنی کتاب ایران بعہد ساسانیاں میں نقل کیا ہے۔
”ان بادشاہوں کے شاہانہ تکلفات اور فضول خرچیوں کا صحیح اندازہ لگانا آسان نہیں ان کے آخری بادشاہ یزدگرد جس کو مسلمانوں نے شکست دی تھی۔ جب گرفتار ہونے کے خوف سے طیفون (جو ان کا پایہ تخت تھا) سے بھاگا تو اپنے ہمراہ ایک ہزار باورچی، ایک ہزار گوئیے ایک ہزار چیتوں کے محافظ ایک ہزار بازدار، بہت سے دوسرے لوگ لیتا گیا یہ تعداد اس کے نزدیک ابھی کم تھی۔
بادشاہوں کی دولت و ثروت عیش و عشرت اور اسراف و فضول خرچی کا یہ عالم تھا۔ اب ان کے ایک گورنر کی دولت و ثروت کا قصہ بھی سن لیجئے ۔
خسرو نے اپنے درباریوں اور موبدوں سے پوچھا کہ حاکم آذربائیجان کے پاس زر نقد کس قدر ہے؟
انہوں نے کہا کہ بیس لاکھ دینار جن کی اسے کچھ ضرورت نہیں۔
اور مال و اسباب کس قدر ہے؟
پانچ لاکھ دینار کا سامان۔ سونے و چاندی کا ہے۔
جواہرات کتنے ہیں؟
چھ لاکھ دینار کی قیمت کے۔
زمین اور جاگیر کتنی ہے؟
خراسان۔ عراق۔ فارس۔ آذربائیجان کا کوئی ضلع اور شہر ایسا نہیں جہاں اس کے مکان سرائیں اور زمینیں نہ ہوں۔
گھوڑے اور خچر کتنے ہیں؟
تیس ہزار۔
بھیڑیں کتنی ہیں؟
دو لاکھ۔
کتنے غلام اور لونڈیاں ہیں جن کو اس نے قیمت دے کر خریدا ہے؟
سترہ سو ترک۔ یونانی اور حبشی غلام۔ چودہ سو لونڈیاں۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۵۰۴۔ ۵۰۳)
اس سے دوسرے گورنروں اور امراء کی دولت و ثروت کا کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
جب ملکی دولت بادشاہوں۔ شہزادوں۔ شاہی خاندان کے دیگر افراد صوبوں کے گورنروں اور امراء کے پاس سمٹ کر آ جائے تو عوام کی غربت و افلاس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
اس آمرانہ ملوکیت کے باعث ایران کے حکمرانوں سے اخلاقی طور پر ایسی گھٹیا حرکتیں سرزد ہوتی تھیں جنہیں پڑھ کر آج بھی شرافت سر جھکا لیتی ہے اور عرقِ انفعال میں ڈوب ڈوب جاتی ہے۔
خسرو پرویز اور ہرقل قیصرِ روم کے درمیان طویل عرصہ تک جنگوں کا سلسلہ جاری رہا۔
ابتداء میں خسرو پرویز کو پے در پے شاندار فتوحات حاصل ہوئیں یہاں تک کہ رومن ایمپائر کا بہت بڑا حصہ اس کے زیرِ نگین ہو گیا انطاکیہ ، یروشلم جو عیسائیوں کے مقدس مقامات تھے اُن پر بھی اس نے قبضہ کرلیا اور مقدس صلیب بھی عیسائیوں سے چھین لی۔ اس وقت فتح کے نشہ سے سرشار ہوکر خسرو پرویز نے جو خط ہرقل کو لکھا اس میں اس کے غرور اور رعونت، نیز اپنے مدِ مقابل کے لئے تہذیب و شائستگی سے گرے ہوئے سوقیانہ کلمات پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔
اس خط کو ول ڈیوران نے اپنی مشہور کتاب دی ایج آف فیتھ صفحہ ۱۴۷ پر اور جنرل سرپرسی نے اپنی کتاب ہسٹری آف پرشیا کے ص ۴۸۲ پر نقل کیا ہے جس کا انگریزی متن درج کر رہا ہوں۔
Khusru, greatest of gods and master of the whole earth, to heraaclius his vile and insensate slave. You say that you trust in your god. Why, then, has he not delivered Jerusalem out of my hand? …. Do Not deceive yourself with Vain hope in that Chirist, who was not even able to save himself from the jews, who slew him by nailing him to a cross.
”خسرو جو تمام خداؤں سے سب سے بڑا خدا ہے اور ساری زمین کا مالک ہے کا خط بنام ہرقل جو اس کا کمینہ اور احمق غلام ہے۔
تم کہتے ہو کہ تم اپنے خدا میں یقین رکھتے ہو پھر کیوں اس نے یروشلم کو میرے ہاتھ سے آزاد نہیں کرایا! اپنے آپ کو اس بے ہودہ امید سے دھوکا نہ دو کہ مسیح تمہاری امداد کرے گا۔ جو اس قابل بھی نہ تھا کہ اپنے آپ کو یہودیوں سے بچاسکے جنہوں نے اسے صلیب پر لٹکایا۔ کیلییں ماریں اور پھر اسے قتل کردیا“
اپنے مد مقابل کسی بادشاہ کو کمینہ، رذیل اور احمق غلام کہنا ایک احمقانہ رعونت ہے۔ جو آمریت کی پیداوار ہے۔ جس طرح ابتداء میں آپ کو بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے عوام کے ذہنوں میں یہ عقیدہ راسخ کردیا تھا کہ انہیں یہ بادشاہی اھورامزدا نے دی ہے اور رعایا پر فرض ہے کہ جس طرح وہ خدا کی بندگی کرتے ہیں وہ اپنے بادشاہوں کے احکام کو اھورامزدا کے احکام یقین کرتے ہوئے بجالایا کریں اس سے انہیں یہ فائدہ تو ہوا کہ ایرانی عوام ان مظالم اور بے پناہ محرومیوں کا شکار ہونے کے باوجود ان کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتے تھے لیکن ساسانی خاندان کے افراد سے حکمرانوں کو ہر وقت یہ خطرہ لاحق تھا کہ ان میں سے ان کے خلاف کوئی بغاوت نہ کردے چنانچہ مرنے والے بادشاہ کا بیٹا جب تخت شاہی پر بیٹھتا تو وہ اپنے خاندان کے تمام اُن افراد کو خصوصاً اپنے سگے بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا جن سے اسے یہ خوف ہوتا کہ وہ کسی وقت بھی بادشاہی کا دعویٰ کرکے اس کے لئے خطرے کا باعث بنیں گے۔
نوشیرواں جو دنیا میں عادل کے لقب سے مشہور ہے جب وہ سرِیرِ آراۓ مملکت ہوا تو اس نے اپنے سترہ سگے بھائیوں کو قتل کرادیا۔
ول ڈیوران لکھتا ہے۔
کہ اس نے اپنے تمام بھائیوں اور ان کے تمام لڑکوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا صرف ایک کو زندہ رہنے دیا۔ (دی ایج آف فیتھ صفحہ ۱۴۴)
ایران کے معاشرتی حالات
اس سے پہلے ہم ایران کے مذہبی اور سیاسی حالات کا اختصار کے ساتھ تذکرہ کرچکے ہیں اب ہم آپ کو ان کی معاشرتی زندگی سے بھی روشناس کرانا چاہتے ہیں تاکہ قارئین پر واضح ہوجائے کہ ان کے باہمی تعلقات کی نوعیت کیا تھی اور حقوق و فرائض کے تعین کی بنیادیں کیا تھیں۔
اس عہد کے ایران کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ چیز بالکل آشکار ہو جاتی ہے کہ ایرانی معاشرہ مختلف طبقات میں منقسم تھا۔ اور ان کے درمیان ایسی محکم حد بندیاں تھیں جن کو وہ بآسانی عبور نہیں کرسکتے تھے معاشرہ کے جس طبقہ میں وہ پیدا ہوئے عمر بھر وہ اس طبقہ کے ساتھ وابستہ رہنے پر مجبور تھے ان کو اپنا آبائی پیشہ ترک کرنے کی بھی آزادی نہ تھی۔ اعلیٰ طبقوں کو چند ایسی مراعات حاصل تھیں جن کے بارے میں ادنیٰ طبقات کے لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے مذہبی رہنماؤں نے ان کو اپنی موجودہ حالت پر شاکر رہنے کے لئے یہ درس دیا تھا کہ ان کے آباء و اجداد نے جو پیشہ اختیار کیا تھا۔ اپنی مرضی سے نہیں کیا تھا بلکہ خدا کی طرف سے ان کو اس پیشہ کو اپنانے کا حکم ملا تھا۔ جو پیشہ خدائی فرمان کے تحت ان کے آباء و اجداد نے اختیار کیا تھا۔ اب ان کی اولاد کو یہ حق حاصل نہیں کہ اسے چھوڑ کر کوئی اور پیشہ اختیار کرسکیں چنانچہ پروفیسر آرتھر لکھتے ہیں۔
”ایرانی سوسائٹی کی عمارت دو ستونوں پر قائم تھی ایک نسب اور دوسری جائیداد طبقہ نجباء (شرفاء) اور عوام الناس کے درمیان نہایت محکم حدود قائم تھیں دونوں کی ہر چیز میں امتیاز تھا ، سواری میں اور لباس میں، مکان میں باغ میں عورتوں اور خدمت گاروں میں “
نامہ تنسر میں ایک اور مقام پر اسی امتیاز کی توضیح یوں کی گئی ہے۔
نجباء کو عام پیشہ ور اور ملازمین سے جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ ان کی سواری کی شان و شوکت اور ان کے لباس اور ساز و سامان کی چمک دمک ہے۔ ان کی عورتیں اپنے ریشمی لباس سے پہچانی جاتی ہیں ان کے سربفلک محل۔ ان کی پوشاک ، ان کے جوتے اور ان کے پاجامے ان کی ٹوپیاں اور ان کا شکار اور ان کے دوسرے امیرانہ شوق غرض ہر چیز ان کی عالی نسبی کا پتہ دیتی ہے۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۴۱۸۔ ۴۱۷)
سوسائٹی میں ہر شخص کے لئے ایک معین مقام تھا ساسانی سیاست کا یہ ایک محکم اصول تھا کہ کوئی شخص اپنے اس رتبے سے بلند تر رتبے کا ہرگز خواہاں نہ ہو۔ جو اس کو پیدائشی طور پر ازروئے نسب حاصل ہے اعلیٰ طبقہ کے افراد کو خصوصی مراعات حاصل تھیں ان کی عالی نسبی اور ان کی غیر منقولہ جائیدادوں کو نقصان پہنچانے یا ان کو اپنے نام منتقل کرانے کی کسی کو اجازت نہ تھی بلکہ ان چیزوں کی حفاظت ان سے زیادہ حکومت کی ذمہ داری تھی۔ پروفیسر آر تھر کے قول کے مطابق
“امراء و نجباء کے خاندانوں کی پاکئی نسب اور ان کی غیر منقولہ جائیدادوں کی محافظت قانون کے ذمہ تھی”۔
شاہانِ ایران کو اپنی نسبی بلندی کا اس قدر شدید احساس تھا کہ وہ صرف اپنی رعایا سے ہی اپنے آپ کو بالاتر نہیں سمجھتے تھے بلکہ دوسرے آزاد ممالک کے حکمرانوں کو بھی اپنا ہم پلہ خیال نہ کرتے تھے بلکہ انہیں اپنے سے فروتر سمجھتے تھے۔ اس لئے وہ دوسرے ممالک کے بادشاہوں کی بیٹیوں کے ساتھ نکاح کرتے اور انہیں اپنے حرم کی زینت بناتے۔ کسی غیر ایرانی بادشاہ کو بھی اپنی بیٹیوں کا رشتہ دینے سے احتراز کرتے۔
عوام الناس کو یہ اجازت بھی نہ تھی کہ وہ طبقہ امراء میں کسی کی غیر منقولہ جائیداد یا مکان یا زمین قیمت ادا کر کے بھی خرید سکیں۔
شاہانِ ایران حکومت کا کوئی کام کسی نیچ ذات کے آدمی کو سپرد نہیں کرتے تھے فردوسی نے شاہنامہ میں ایک واقعہ لکھا ہے۔ جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے۔ وہ لکھتا ہے۔
“نوشیروان کو ایک دفعہ رومیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے روپے کی ضرورت پڑی ایک مالدار موچی بادشاہ کو ایک بڑی رقم دینے پر آمادہ ہوا ساسانی عہد کی روایات کی رو سے موچی کی ذات بہت پست تھی تاہم جنگی ضرورت کے باعث معاملہ طے ہوگیا اور موچی نے روپوں کے توڑے اونٹوں پر لدوا کر بھجوا دیئے بادشاہ اس کی خدمت گزاری پر بہت خوش ہوا اور وعدہ کیا کہ روپیہ واپس ادا کرتے وقت اصل زر کے علاوہ ایک معقول رقم زائد اس کو دی جائے گی۔ لیکن موچی کے دل میں ایک اور امنگ چٹکیاں لینے لگی اس نے خواہش ظاہر کی کہ میری اس خدمت کے عوض بادشاہ اس کے بیٹے کو اپنے دبیروں کے زمرہ میں داخل کرلے نوشیروان نے یہ سنتے ہی اشرفیوں سے لدے ہوئے اونٹ واپس بھجوا دیئے اور جن خیالات کا اظہار کیا ان کو فردوسی نے اپنے ان اشعار میں نظم کیا ہے۔
چو فرزند ما برنشیند بہ تخت دبير ببائدئش پیروز بخت
“کہ جب ہمارا بیٹا تخت نشین ہوگا تو اسے ایسے دبیر یعنی وزیر کی ضرورت ہوگی جو نیک بخت ہو۔“
۔ ہنر یا بد از مرد موز آفروش سپارد بدو چشم بینا و گوش
”وہ جب جوتے بیچنے والے شخص سے مشورہ کرے گا تو اپنی دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان اس کے سپرد کردے گا۔“
۔ بدست خردمند مرد نژاد نماند جزاز حسرت و سرد باد
”ایسے مشیر اور وزیر کی وجہ سے عقلمند انسان کو حسرت و نامرادی کے بغیر اور کچھ حاصل نہ ہو گا۔“
۔ بما برپس مرگ نفریں بود چو آئین ایس روزگار ایں بود
”اگر میں نے اس دستور کو یعنی نیچ ذات کے لوگوں کو دبیر بنانا منظور کر لیا تو میرے مرنے کے بعد لوگ مجھ پر نفریں بھیجیں گے“۔ (ایران بعہد ساسانیان صفحہ ۴۲۲۔۴۲۳)
عام طور پر نچلے طبقہ کا کوئی فرد اعلیٰ طبقہ میں منتقل نہیں ہوسکتا تھا لیکن اگر کسی شخص میں کوئی غیر معمولی جوہر ہوتا تو اس کا طرح طرح سے امتحان لیا جاتا اگر وہ ان آزمائشوں میں پورا اترتا تو پھر اس کو اعلیٰ طبقہ میں داخل ہونے کی اجازت ملتی۔ لیکن عملاً شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا تھا۔
جن امتیازات کا ابھی تک ذکر ہوا ہے یہ ان طبقات میں پائے جاتے تھے جو ایرانی قومیت کے حامل تھے اور یہاں کے اصلی باشندے تھے۔ لیکن ایرانیوں اور غیر ایرانیوں کے درمیان بھی امتیازات کی ایک دیوار کھڑی کردی گئی تھی اس کی کیفیت ہم کو ان نسکوں کے خلاصہ سے معلوم ہوتی ہے جو ضائع ہوچکے ہیں مثلاً جب کبھی ایرانیوں کو کفار کے ساتھ کھانے میں شریک ہونے کا موقع ملتا تو اس کے لئے خاص مذہبی احکام و قواعد تھے جن کی بجا آوری اور پابندی ضروری تھی غیر ایرانی ملازموں کی تنخواہ اس ملازم کی تنخواہ سے مختلف ہوتی تھی جو زرتشتی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔
خاندان
خاندان کی بنیاد تعدد ازدواج پر تھی ایک شخص کو متعدد بیویوں سے نکاح کرنے کی اجازت تھی ہر شخص اپنی آمدنی کے مطابق بیویوں کی تعداد مقرر کرسکتا تھا۔ غریب آدمی کو ایک بیوی پرقناعت کرنا پڑتی تھی۔ خاوند گھر کا مالک اور خاندان کا سربراہ ہوتا تھا۔ ساری بیویوں کو یکساں درجہ نہیں دیا جاتا تھا۔ بلکہ بعض کو بعض پر خصوصی امتیازات حاصل تھے۔ ایک بڑی بیوی ہوتی تھی جس کو “زن پادشاہی ہا” کہتے تھے وہ دوسری بیویوں سے افضل سمجھی جاتی تھی اور اس کے خاص حقوق تھے اس کے علاوہ دوسری بیویوں کا درجہ بہت کم تھا ان کو “زن چگاری ہا” کہتے تھے یعنی خدمت گار بیوی ان کے قانونی حقوق بڑی بیگم کے حقوق سے مختلف تھے خاوند پر لازم تھا کہ اپنی بیاہتا بیوی کو عمر بھر نان ونفقہ دے۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۴۲۷)
خدمت گار بیوی کی صرف اولاد نرینہ کو خاندان میں داخلہ کا حق مل سکتا تھا۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۴۲۸)
ایران میں زمانہ قدیم سے یہ دستور تھا کہ عورتوں کی حفاظت کے لئے مردوں کو ملازم رکھا جاتا تھا لیکن یونان کی طرح یہاں بھی خواصوں اور داشتہ عورتوں کو رکھنے کا طریقہ عام تھا اسے نہ صرف مذہبًا جائز قرار دیا گیا تھا بلکہ یہ ایرانیوں کی سماجی زندگی کا لازمی خاصہ بن گیا تھا۔ (نقوش رسول نمبر صفحہ ۱۲ جلد ۳)
اولاد کے بارے میں ان کا یہ دستور تھا کہ لڑکا جب تک بالغ نہ ہو جاتا اور لڑکی بیاہی نہ جاتی ان کی پرورش اور نگہداشت باپ کی ذمہ داری تھی بچہ پیدا ہونے پر خاص مذہبی رسوم ادا کی جاتیں اور صدقے دیئے جاتے لیکن لڑکی کے پیدا ہونے پر یہ دھوم دھام نظر نہ آتی۔ بچے کو نظر بد سے بچانا ضروری سمجھا جاتا تھا بالخصوص اس بات کی احتیاط کی جاتی تھی کہ کوئی…… عورت اس کے پاس نہ آئے تاکہ اس کی شیطانی ناپاکی بچے کے لئے بدبختی کا باعث نہ ہو۔ شیطان کو دور رکھنے کے لئے آگ اور روشنی کا استعمال کیا جاتا تھا” (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۴۳۲)
لڑکی کی مذہبی تعلیم ماں کا فرض تھا۔ لیکن اس کی شادی کرنا باپ کے فرائض سے تھا اگر باپ زندہ نہ ہو تو پھر لڑکی کی شادی کسی اور شخص کے سپرد کی جاتی تھی…… لڑکی کو خود اپنے شوہر کے انتخاب کا حق نہ تھا۔
پروفیسر مذکور لڑکے ، لڑکی کی شادی کی عمر کے بارے میں لکھتے ہیں
“منگنی عموماً بچپن کی عمر میں ہوتی تھی اور شادی نوجوانی میں کردی جاتی تھی پندرہ سال کی عمر میں لڑکی کا بیاہا جانا ضروری تھا۔ (ایران بعہد ساسانیاں صفحہ ۴۳۳)
محرمات کے ساتھ نکاح
ایران میں محرمات بیٹی ، بہن وغیرہ کے ساتھ شادی کو مذہبی طور پر جائز سمجھا جاتا تھا اور اس قسم کی شادی خویذوگدس ، کہلاتی تھی۔ ایرانیوں کے ہاں اس قسم کی شادی کی رسم بہت دیرینہ ہے چنانچہ ھخامنشیوں کی تاریخ میں ہمیں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں ان کی مذہبی کتابوں میں اس شادی کی بڑی عظمت بیان کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ایسی مزاوجت (شادی) پر خدا کی رحمت کا سایہ پڑتا ہے اور شیطان اس سے دور رہتا ہے نرسی برز مہر مفسر کا یہاں تک دعویٰ ہے کہ خوید و گدس سے کبائر کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ ایرانیوں کے ہاں عہد ساسانی میں محرمات کے ساتھ شادی کی رسم کی تصدیق نہ صرف معاصر مورخین مثلاً اگاتھیاس وغیرہ کے بیان سے ہوتی ہے بلکہ اس عہد کی تاریخ میں ایسی شادی کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں مثلاً بہرام چوبیں نے اور مہران گشنسپ نے اس قسم کی شادیاں کیں ۔ (ایران بعہد ساسانیاں صفحہ ۴۲۹۔ ۴۲۸)
سرپری. ہسٹری آف پرشیا میں لکھتے ہیں
کہ بہمن نے اپنی بہن ہمائی سے شادی کی اس کے بطن سے اس کے مرنے کے بعد دارا پیدا ہوا۔ (ہسٹری آف پرشیا صفحہ ۳۹۱)
لیکن علامہ طبری نے لکھا ہے ھمائی یا (خمانی) اس کی بیٹی تھی۔ اور وہ اس سے حاملہ ہوئی ۔ جب بہمن مرنے لگا تو اس کی بیٹی جو اس کی زوجہ بھی تھی نے کہا کہ میرے شکم میں جو بچہ ہے تم اس کی تاجپوشی کرو اور اس کو اپنا وارث تخت بناؤ۔ (طبری جز دوم صفحہ ۴)
یزد گرد دوم نے اپنی بیٹی سے شادی کی کافی عرصہ اسے اپنی بیوی بنائے رکھا پھر اس کو قتل کر دیا۔ محرمات کے ساتھ شادی کا رواج اتنا عام تھا کہ وہ ایرانی جو زرتشتی مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب سے منسلک تھے انہوں نے بھی اس رواج کو اپنا لیا۔ اور بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ شادیاں رچانا شروع کردیں حالانکہ ان کے مذہب کی رو سے یہ فعل قطعاً ممنوع اور حرام تھا۔ پروفیسر آر تھر لکھتا ہے
ایران کے عیسائیوں نے زرتشتیوں کی دیکھا دیکھی محرمات کے ساتھ شادی کرنے کی رسم اختیار کرلی تھی۔ حالانکہ یہ امر ان کی شریعت کے بالکل خلاف تھا۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۵۷۱)
ایرانیوں کے ہاں ازدواجی زندگی کے بارے میں چند عجیب و غریب معمولات تھے جنہیں کوئی باغیرت اور باحمیت انسان سننے کے لئے بھی شاید تیار نہ ہو۔ لیکن وہ ان معمولات پر کوئی خجالت و شرم محسوس کئے بغیر کھلم کھلا عمل کرتے تھے۔ پروفیسر آر تھر لکھتے ہیں
“شوہر مجاز تھا کہ اپنی بیوی یا بیویوں میں سے ایک کو خواہ وہ بیاہتا بیوی ہی کیوں نہ ہو کسی دوسرے شخص کو جو انقلاب روزگار سے محتاج ہوگیا ہو اس غرض کے لئے دے دے کہ وہ اس سے کسب معاش کے کام میں مدد لے اس میں عورت کی رضا مندی کا حاصل کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ اس عارضی ازدواج میں جو اولاد ہوتی تھی وہ پہلے شوہر کی سمجھی جاتی تھی یہ مفاهمت ایک باضابطہ قانونی اقرار نامے کے ذریعہ سے ہوتی تھی…… اس قسم کا معاہدہ انسانی ہمدردی کے ذیل میں شامل کیا جاتا تھا یعنی یہ کہ ایک شخص نے اپنے ایک محتاج ہم مذہب کی مدد کی ۔” (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۴۳۶۔۴۳۷)
البیرونی نے کتاب ہند میں ان کے ہاں مروج ازدواج بدل کے ایک قانون کا ذکر کیا ہے جس کو نامہ تنسر کے مصنف نے ذکر کیا ہے۔ پروفیسر آر تھر نے البیرونی کی کتاب ہند سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے۔
“جب ایک شخص مرجائے اور اس کی اولاد نرینہ نہ ہو تو اس کے معاملہ پر غور کیا جائے اور دیکھا جائے کہ اگر اس کی بیوی ہے تو اس کی شادی متوفی کے قریب ترین رشتہ دار کے ساتھ کردی جائے۔ اور اگر بیوی نہیں ہے تو اس کی لڑکی یا اور کوئی قریب کے رشتہ کی عورت کو اس کے قریب ترین رشتہ دار کے ساتھ بیاہ دیا جائے اگر رشتہ کی کوئی عورت نہ مل سکے تو پھر متوفی کے مال سے مہر ادا کرکے کسی غیر عورت کو اس کے رشتہ دار کے ساتھ بیاہ دیا جائے ایسی شادی سے جو لڑکا ہوگا وہ متوفی کا سمجھا جائے گا جو شخص اس فرض کو ادا کرنے سے غفلت کرے گا وہ بیشمار جانوں کے قتل کرنے کا ذمہ دار ہوگا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے متوفی کی نسل اور نام کو مٹائے گا۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۴۳۸)
ایران کے معاشی حالات
معاشی لحاظ سے ایرانی سوسائٹی دو طبقوں میں بٹی ہوئی تھی ایک طبقہ امراء، رؤساء، جاگیرداروں اور فوجی جرنیلوں کا مراعات یافتہ طبقہ تھا۔ ان کے پاس سارے ملک کی دولت سمٹ کر آگئی تھی۔ دوسرا طبقہ ایران کے عوام کا تھا جن میں کاشتکار۔ مزدور۔ دستکار اور دوسرے لوگ تھے ان کے مقدر میں مفلسی اور محرومی لکھ دی گئی تھی۔ وہ صدیوں سے اس چکی میں پس رہے تھے دور دور تک اس مصیبت سے رہائی پانے کی انہیں کوئی امید کی کرن نظر نہیں آرہی تھی۔
اگرچہ ایران کا سرکاری مذہب زرتشتی تھا، اور اس کی شریعت میں زراعت کو بڑی اہمیت حاصل تھی ان کی مذہبی کتابوں میں اس پیشہ کو عظیم اور مقدس پیشہ کہا گیا تھا۔ اس کے باوجود کسانوں کی حالت قابل رحم تھی۔ وہ اپنی زمین کے ساتھ بندھے رہتے تھے ان سے ہر طرح کی بیگار اور جبری خدمت لی جاتی تھی جب فوج کسی میدان جنگ کی طرف کوچ کرتی تو ان بے چارے کسانوں کے بڑے بڑے گروہ ان کے پیچھے گھسٹتے چلے جاتے تاکہ فوجیوں کی خدمت بجا لائیں اور ان کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے حاضر رہیں۔ اس پر مزید ستم یہ کہ ان غریبوں کی کسی قسم کی تنخواہ یا اجرت سے حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی تھی۔ قانون بھی اس غریب طبقہ کی زیادہ حمایت نہیں کرتا تھا امراء، اپنے زیر فرمان کسانوں۔ غلاموں اور رعایا کی زندگی اور موت کا اپنے آپ کو مالک و مختار سمجھتے تھے۔ کسانوں کا تعلق بڑے زمینداروں کے ساتھ تقریباً ویسا ہی تھا جیسے غلاموں کا تعلق اپنے آقاؤں کے ساتھ ۔ وہ اس بات کے بھی پابند تھے کہ بوقت ضرورت فوجی خدمات انجام دیں ۔
ٹیکسوں کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا تھا ۔ نت نئے ٹیکس کاشتکاروں پر لگائے جاتے تھے جنہوں نے ان کی کمر توڑ دی تھی ۔ اس لئے بہت سے کاشتکاروں نے زراعت کا پیشہ ترک کردیا ۔ اگرچہ فوج میں بھرتی ہونے سے ٹیکسوں کا بوجھ کم ہوجاتا تھا لیکن انہیں ان بے مقصد اور خونریز جنگوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی ۔ جن میں حکمران طبقہ نے اپنی رعایا کو ہر وقت الجھارکھا تھا ۔ چنانچہ انہوں نے عبادت گاہوں اور خانقاہوں میں پناہ لینا شروع کی اس سے بے روزگاری ، اور جرائم کی گرم بازاری میں روز بروز اضافہ ہوتا جاتا تھا ۔ لوگ ناجائز طریقوں سے روپیہ بٹورنے کی بیماری کا بری طرح شکار ہوگئے تھے ۔
خسرو نوشیرواں جو تاریخ میں نوشیرواں عادل کے نام سے مشہور ہے اس نے ایران کے لگان کے نظام میں اصلاحات کیں ۔ لیکن ان اصلاحات سے کسانوں کی مشکلات اور عوام کا بوجھ کہاں تک کم ہوا اس کے بارے میں پروفیسر آرتھر کی رائے ملاحظہ فرمائیے وہ لکھتے ہیں ۔
خسرو نوشیرواں کی مالی اصلاحات میں بے شک رعایا کی نسبت خزانے کے مفاد کو زیادہ ملحوظ رکھا گیا تھا ، عوام الناس اسی طرح جہالت اور عسرت میں زندگی بسر کر رہے تھے جیسا کہ زمانہ سابق میں ، بازنطینی فلسفی جو شہنشاہ کے ہاں آکر پناہ گزیں ہوئے تھے ایران سے جلد برداشتہ خاطر ہوگئے …….. ایرانیوں کی بعض رسموں مثلاً تزویج محرمات کی رسم یا لاشوں کو دخموں پر کھلا چھوڑ دینے کی مذہبی رسم نے ان کو برہم کیا لیکن محض یہ رسمیں نہیں تھیں جن کی وجہ سے ان کو ایران میں رہنا ناگوار ہوا ۔ بلکہ ذات پات کی تمیز اور سوسائٹی کے مختلف طبقوں کے درمیان ناقابل عبورفاصلہ اور خستہ حالی جس میں نچلے طبقوں کے لوگ زندگی بسر کررہے تھے ۔ یہ وہ چیزیں تھیں جن کو دیکھ کر وہ آزردہ خاطر ہوئے طاقتور لوگ کمزوروں کو دباتے تھے ۔ اور ان کے ساتھ بہت ظلم اور بے رحمی کا سلوک کرتے تھے ۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۵۹۰ ۔ ۵۸۹)
زرتشتی مذہب میں کتے کی بڑی تعظیم کی جاتی ہے اوستا کے ایک نسب (حصہ) میں ایک پورا باب ہے جس میں ریوڑ کے کتے کی حفاظت کے لئے قوانین بیان کر دیئے گئے ہیں لیکن ایک کسان جو انسان ہے اسکے حقوق کی پاسبانی کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا۔
ستم بالائے ستم یہ کہ محصول اور لگان ادا کرنے کا تقریباً سارا بوجھ اس طبقہ پر لاد دیا گیا تھا جو پہلے ہی غربت و افلاس محرومیوں اور مجبوریوں کے شکنجہ میں کسا ہوا تھا اور کراہ رہا تھا خسرو نوشیرواں جو تاریخ میں نوشیرواں عادل کے نام سے مشہور ہے اس نے لگان کے بارے میں جو اصلاحات کیں ان کے مطابق ایران کے عوام کو دو قسم کے محصول ادا کرنا پڑتے تھے ایک خراج جو زمین کی پیداوار سے لیا جاتا تھا دوسرا جزیہ لیکن ایران کے سات بڑے خاندان جن میں شاہی خاندان بھی شامل تھا ان محصولوں سے مستثنیٰ تھے اسی طرح امراء عظام جن کو العظماء کہا جاتا تھا انہیں بھی دونوں محصولوں سے بری کردیا گیا تھا بلکہ تمام فوجی سپاہی سرکاری عہدہ دار آتش کدوں کے نگران مذہب کے نمائندے اور وہ اشخاص جو شہنشاہ ایران کے شخصی ملازم تھے ان محصولوں کی ادائیگی پر مجبور نہ تھے۔ (نقوش (رسول نمبر) صفحہ ۱۱ جلد سوم)
آپ باآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جو لوگ وسیع و عریض جاگیروں کے مالک تھے جن کے پاس دولت کے انبار تھے جو باآسانی حکومت کے ٹیکسوں اور واجبات کو ادا کرسکتے تھے انہیں تو ان ٹیکسوں کی ادائیگی سے بری الذمہ قرار دے دیا گیا تھا اور سارا بوجھ نادار اور مفلوک الحال عوام پر ڈال دیا گیا تھا۔ اس وجہ سے امیر اور غریب میں جو خلیج پہلے بھی وسیع تھی وہ مزید وسیع ہوگئی اور عوام کو حکومت کے لگان ادا کرنے میں گوناگوں دقتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
آرتھر لکھتے ہیں۔
گورنمنٹ کی آمدنی کے بڑے بڑے ذرائع خراج اور شخصی ٹیکس تھے شخصی ٹیکس کی ایک خاص رقم سالانہ مقرر ہوجاتی تھی جس کو محکمہ مالیات مناسب طریقہ سے ادا کنندگان پر تقسیم کر دیتا تھا خراج کی وصولی اس طرح ہوتی تھی کہ زمین کی پیداوار کا حساب لگا کر ہر ضلع سے اس کی زرخیزی کے مطابق چھٹے حصہ سے ایک تہائی تک لے لیا جاتا تھا بایں ہمہ خراج اور ٹیکس کے لگانے اور وصول کرنے میں محصلین، خیانت اور استحصال بالجبر کے مرتکب ہوتے تھے اور چونکہ قاعدہ مذکورہ کے مطابق مالیات کی رقم سال بسال مختلف ہوتی رہتی تھی یہ ممکن نہ تھا کہ سال کے شروع میں آمدنی اور خرچ کا تخمینہ ہوسکے بسا اوقات نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ ادھر جنگ چھڑ گئی اور ادھر روپیہ ندار ایسی حالت میں پھر غیر معمولی ٹیکسوں کا لگانا ضروری ہوجاتا تھا اور تقریباً ہمیشہ اس کی زد مغرب کے مال دار صوبوں خصوصاً بابل پر پڑتی تھی۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۱۶۰۔۱۵۹)
مختلف قسم کے لگانوں ، ٹیکسوں ، خراجوں ، اور دیگر ذرائع سے سرکاری خزانہ میں جو دولت جمع ہوتی اس میں سے بہت کم حصہ عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کیا جاتا تھا جو سلاطین آئین جہاں بانی سے آگاہ تھے وہ تو ملک میں سڑکیں بنانے ۔ دریاؤں پر پل تعمیر کرنے ۔ زیر کاشت زمینوں کو آبپاش کرنے کے لئے دریاؤں سے نہریں نکالنے اور بند تعمیر کرنے کی طرف کافی توجہ دیتے تھے۔
نوشیرواں جب تخت نشین ہوا تو اس نے بژرجمہر کو جو اس کے لڑکے کا اتالیق تھا اپنا وزیر بنایا اس نے جاگیر داروں کی فراہم کردہ غیر منظم فوج پر اعتبار کرنے کے بجائے ایک باقاعدہ فوج منظم کی جس کو جنگ کے قواعد و ضوابط کی تعلیم دی گئی اور اس کو اس قابل بنا دیا گیا کہ وہ ہمہ وقت اپنے ملک کے دفاع کے لئے اور دشمن کے کسی ناگہانی حملہ کو پسا کرنے کے لئے تیار رہے۔ اس نے شہروں کو پانی فراہم کرنے کے لئے زرعی کھیتوں کی آبپاشی کے لئے ڈیم تعمیر کئے اور نہریں کھدوائیں اس نے بہت سی بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنایا اور ان زمینوں میں کھیتی باڑی کرنے والے کسانوں کو مویشی آلات کشاورزی اور بیج فراہم کئے ۔ اس نے پلوں اور سڑکوں کی مرمت کی اور ان کی حفاظت کا بندوبست کر کے تجارت کو بڑا فروغ دیا ۔ اس نے اپنی ساری طاقت اپنی رعایا اور حکومت کی خدمت کے لئے وقف کردی اس نے بچوں کو تعلیم دینے کے لئے سرکاری خزانہ سے فنڈز مہیا کئے یتیم اور غریب بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے اس نے حکومتی سطح پر اہتمام کیا اس نے اپنی فیاضی اور دریا دلی سے اپنے ارد گرد فلسفیوں ۔ طبیبوں اور علم دوست لوگوں کو ہند اور یونان کے دور دراز علاقوں سے اپنے پاس جمع کیا اور وہ ان کی محفل منعقد کرتا اور عام زندگی اور حکومت کے مسائل کے بارے میں ان سے تبادلہ خیال کرتا۔ اس کی ایک محفل میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ سب سے بڑی بدقسمتی کیا ہے؟
یونان کے ایک فلسفی نے اس کا یوں جواب دیا۔ مفلسی اور بڑھاپے کی کمزوری
ایک ہندو نے جواب دیا کہ ایک بیمار جسم میں پریشان دل
آخر میں خسرو کے وزیر بزرگمہر نے کہا میرے نقطہ نظر سے سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی زندگی کے انجام کو قریب آتے ہوئے دیکھے اس سے پیشتر کہ اس نے کوئی نیک کام کیا ہو۔ سب حاضرین اور خود نوشیرواں نے اس جواب کو بہت پسند کیا۔ (دی ایج آف فیتھ صفحہ ۱۴۵)
لیکن بہت کم ایسے سلاطین تھے جو ملکی آمدنی کو رفاہ عامہ پر خرچ کرتے۔ بادشاہ کا اپنا ذاتی خزانہ بھی ہوتا جس میں قیمتی اشیاء جمع کی جاتیں غنیمت کا سارامال بادشاہ کی ذاتی ملکیت شمار ہوتا۔
بعض وسیع و عریض جاگیریں بادشاہ کی ذاتی ملکیت ہوتیں جس سے اس کو بے پناہ آمدنی ہوتی۔
علاقہ آرمینیا کی سونے کی کانوں کی ساری آمدنی بادشاہ کی ذاتی آمدنی تھی۔ باقاعدہ ٹیکسوں کے علاوہ رعایا سے نذرانے لینے کا بھی دستور تھا جس کو آئین کہتے تھے اس آئین کے مطابق عید نوروز اور مهرگان کے موقعوں پر لوگوں سے جبراً تحائف وصول کئے جاتے تھے (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۱۶۱)
اس بے پناہ آمدنی کے باعث بادشاہوں کی زندگیاں عیش و عشرت میں گزرتی تھیں تکلفاتِ زندگی اور تعیشات اور سامانِ آرائش کی وہ بہات تھی اور اس میں ان باریکیوں اور نکتہ سنجیوں سے کام لیا جاتا تھا ، کہ عقل حیران رہ جاتی تھی۔ فارسی مؤرخ شاہین مکار یوس کے بیان کے مطابق کسریٰ پرویز کے پاس بارہ ہزار عورتیں تھیں پچاس ہزار اصیل گھوڑے، اس قدر سامانِ تعیش، محلات، نقد وجواہرات تھے کہ ان کا اندازہ لگانا مشکل تھا محفل اپنی شان وشکوہ، اور عظمت میں جواب نہیں رکھتا تھا۔ مکاریوس لکھتا ہے
” تاریخ میں مثال نہیں ملتی کہ کسی بادشاہ نے ان شاہانِ ایران کی طرح دادِ عیش دی ہو۔ مورخین نے فرشِ بہار کی (جس پر بیٹھ کر امراء ایران موسمِ خزاں میں شراب پیتے تھے) تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے
”یہ ساٹھ گز مربع تھا۔ تقریباً ایک ایکڑ زمین کو گھیر لیتا اس کی زمین سونے کی تھی جس میں جا بجا جواہرات اور موتیوں کی گلکاری تھی، چمن تھے، جن میں پھول دار اور پھل دار درخت قائم تھے درختوں کی لکڑی سونے کی، پتے حریر کے، کلیاں سونے چاندی اور پھل جواہرات کے بنائے گئے تھے ارد گرد ہیرے کی جدول تھی درمیان میں روشیں اور نہریں بنائی گئی تھیں اور یہ سب جواہرات کی تھیں۔ موسمِ خزاں میں تاجدارانِ آلِ ساسان اس گلشنِ بے خزاں میں بیٹھ کر شراب پیا کرتے۔ اور دولت کا ایک حیرت انگیز کرشمہ نظر آتا۔ جو زمانہ نے کبھی اور کہیں نہ دیکھا تھا۔ (دی ایج آف فیتھ صفحہ ۱۴۹)
بادشاہوں کے علاوہ ان کے امراء اور رؤساء بھی دادِ عیش دینے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں کوشاں رہتے تھے۔ ان کے لباس، از حد قیمتی ہوتے تھے اور اس سے ان کی جلالتِ شان کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔ اور اگر کوئی امیر کبیر آدمی اپنی شان کے مطابق لباس نہ پہنتا تو اس کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا اور اسے کنجوس و بخیل کہہ کر مطعون کیا جاتا ان کے امراء جو کلاہ سر پر پہنتے تھے اس کی قیمت ایک لاکھ ہوتی تھی جس میں جواہرات جڑے ہوئے ہوتے تھے۔
ایران کی اخلاقی حالت
ایران کے معاشرتی اور معاشی حالات کا جائزہ آپ پڑھ چکے ہیں۔ اخلاقی لحاظ سے بھی ایرانی معاشرہ زوال و انحطاط کی گہری پستیوں میں گرچکا تھا۔ جس معاشرہ میں بیٹی اور بہن کو اپنی منکوحہ بنانا گوارا کر لیا جاتا ہو، بلکہ اسے باعثِ رحمتِ آسمانی خیال کیا جاتا ہو۔ اور جس معاشرہ میں اپنی بیوی کو عاریتاً اپنے کسی دوست کے حوالے کر دینا ایک پسندیدہ اور قابلِ تعریف فعل ہو وہاں ضبطِ نفس کے بارے میں سوچنا، اور جنسی بے راہروی پر کوئی قدغن لگنا کیونکر ممکن ہوسکتا ہے اس لئے زنا، بدکاری کا عام رواج تھا۔ شراب کھلے بندوں پی جاتی تھی بلکہ مذہبی تقریبات میں اس کو بڑے اہتمام سے حاضرین کی تواضع کے لئے پیش کیا جاتا تھا۔ ان معاشی ناہمواریوں، اور معاشرتی بے راہرویوں کے باعث مزدک کو اپنا فلسفہ پیش کرنے کی جسارت بھی ہوئی اور اسے ناقابلِ تصور کامیابی بھی حاصل ہوئی۔
ماحول پہلے ہی متعفن تھا ذرا سی ہوشیاری اور عیاری کی ضرورت تھی جو اس معاشرے کو ہمیشہ کے لئے پیوند خاک کرنے کے لئے کافی تھی چنانچہ مزدک نے جو مورخ طبری کے قول کے مطابق نیشاپور کا رہنے والا تھا ۔ یہ اعلان کردیا کہ تمام انسان مساوی ہیں کسی کو کسی پر کوئی فوقیت اور امتیاز حاصل نہیں ۔ ہر وہ چیز جو ایک انسان کو دوسرے انسان سے بالاتر کردے وہ اس قابل ہے کہ اسے مٹا کر رکھ دیا جائے اس دعوت میں ایک تلخ حقیقت تھی اور وہاں کی مظلوم ، محروم اور بے بس آبادی بڑی بے تابی سے اس دعوت کو قبول کرنے کے لئے تیار تھی ۔ مزدک نے کہا صرف دو چیزیں ایسی ہیں جو انسانوں کو مختلف طبقات میں تقسیم کرتی ہیں ۔ اور ان کے درمیان ناجائز امتیازات کی دیواریں چن دیتی ہیں ۔ وہ ہیں جائیداد اور عورت ۔ کیونکہ سب انسان مساوی ہیں اس لئے کسی شخص کو کسی جائیداد پر خصوصی حقوق ملکیت حاصل نہیں ۔ اور کوئی عورت کسی ایک شخص کی منکوحہ بن کر نہیں رہ سکتی ۔ انسانی مساوات کا یہ بنیادی تقاضا ہے کہ نہ کوئی جائیداد کسی کی ملکیت ہو اور نہ کوئی عورت کسی ایک شخص کی مخصوص بیوی بنے بلکہ ہر قسم کی جائیداد بھی سب کے لئے مشترک ہے اور ہر ایک اس سے استفادہ کرسکتا ہے اور ہر عورت بھی سب کے لئے مشترک ہے ہر شخص اس سے تمتع اور لذت اندوزی کر سکتا ہے۔
یہ دونوں باتیں ایسی تھیں جنہیں اس عریان بے باکی کے ساتھ بیان کرنے کی آج تک کسی کو جرأت نہ ہوئی تھی لیکن مزدک زمانہ شناس تھا معاشرہ جن مصائب و آلام میں جکڑا ہوا تھا ۔ اور صدیوں سے کراہ رہا تھا ۔ اس نے ان کا صحیح اندازہ لگایا ۔ اور ان دو چیزوں کے تقدس کو پارہ پارہ کرکے ان سب کو ایک متاع مشترک بنا دیا ۔ ایران کے مفلس عوام جو امراء ، رؤساء اور شہزادگان کے فلک بوس اور شاندار محلات کو دیکھتے اور دل مسوس کر رہ جاتے ۔ ہر رات وہاں جو بزم عیش و طرب سجائی جاتی ان کے بارے میں وہ سنتے اور حسرت کی آہ بھر کر رہ جاتے ۔ زر و جواہر اور اشرفیوں کے ڈھیر دیکھ کر ان کی آنکھوں میں یاس کے آنسو بھر آتے ان مفلوک الحال لوگوں کے لئے اس دعوت میں بلا کی کشش تھی ۔ اور جب اس کے ساتھ جنسی زندگی کی ساری پابندیاں بالائے طاق رکھ دی گئی ہوں اور ہر شخص ہر عورت کو اپنی ہوس کا شکار بنانے کا قانوناً حق دار بنا دیا گیا ہو ان چیزوں نے اس دعوت کی کشش کو دو آتشہ بنا دیا ۔ اور لوگ جوق در جوق اس ننگ انسانیت تحریک میں شامل ہونے لگے ۔
اپنی اس تحریک کو کامیاب بنانے اور بڑی بڑی مقتدر ہستیوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسانے کے لئے مزدک نے ہر قسم کی فریب کاری کو روا رکھا ۔ چنانچہ اس نے اس مرکزی قربان گاہ کے نیچے جہاں مذہبی رسوم بڑی عقیدت سے ادا کی جاتی تھیں ۔ ایک غار بنائی اور اس غار میں اپنے ایک شریک کار کے تعاون سے یہ چکر چلایا کہ اس کو وہاں چھپا دیا اور ایک ٹیوب کے ذریعہ اس کا رابطہ حاضرین سے قائم کردیا اب وہ لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرتا کہ وہ اپنے معبود سے سوال کررہا ہے ۔ اور اس کا معبود اس کے سوالوں کا جواب دے رہا ہے۔ بڑے بڑے دانشور اور سربر آوردہ لوگ اس کے اس مکر میں گرفتار ہوجاتے۔ اور اس کے ان باطل نظریات کو صدق دل سے قبول کرلیتے ۔ یہاں تک کہ کیقباد کسریٰ ایران جب اس قربان گاہ پر رسوم عبادات انجام دینے کے لئے حاضر ہوا تو مزدک نے بڑی ہوشیاری اور مہارت کے ساتھ اس کے سامنے یہی ڈرامہ کیا۔ بادشاہ اتنا متاثر ہوا کہ اس کو خدا کا فرستادہ سمجھ کر اس کی بیعت کرلی ۔ اور اس کے معتقدین میں شامل ہو گیا ۔ (ہسٹری آف پرشیا صفحہ ۴۴۲)
کیقباد نے اپنی مملکت کے تمام وسائل مزدک کے مذہب کو فروغ دینے کے لئے وقف کردیئے مورخ شہیرعلامہ ابن اثیر نے اپنی کتاب الکامل میں مزدک کا حال ذرا تفصیل سے تحریر کیا ہے ان کی عربی عبارت کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔
”شاہ ایران قباذ بن فیروز کے عہد حکومت میں مزدک ظاہر ہوا اور اپنی بدعتوں کا پرچار شروع کیا۔ اس نے بعض امور میں زرتشت کی پیروی کی اور بعض امور کا اپنی طرف سے اضافہ کیا۔ اس کا دعوٰی یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شریعت کی طرف دعوت دے رہا ہے۔ جس طرح زرتشت نے اس کی طرف دعوت دی تھی ۔ اس نے محرمات اور بری چیزوں کو حلال کردیا۔ اموال واملاک عورتوں ، غلاموں اور کنیزوں میں تمام لوگوں کو مساوی حقوق دے دیئے تاکہ کسی کو کسی پر کسی چیز میں فضیلت و برتری نہ رہے۔ کیمنہ خصلت اور رذیل لوگوں کی ایک کثیر تعداد اس کی پیروی کرنے لگی ان کی تعداد ہزار ہا ہزار تک پہنچ گئی مزدک ایک آدمی کی بیوی کو لیتا اور دوسرے کے حوالے کردیتا۔ اس طرح لوگوں کے اموال۔ کنیزوں ۔ غلاموں اور زرعی زمینوں میں سے جس کو چاہتا ان میں سے کسی کا مالک بنا دیتا۔ چنانچہ اس کو بڑا غلبہ نصیب ہوا اس کی شان بلند ہوئی یہاں تک کہ بادشاہ کیقباد بھی اس کے پیروکاروں میں شامل ہوگیا۔ مزدک اس حد تک بے حیاء اور بے باک ہوگیا کہ اس نے ایک دن کیقباد کو کہا کہ آج تیری بیوی جو نوشیروان کی ماں تھی میرے پاس رات بسر کرے گی۔ کیقباد بھی اس کی صحبت کی نحوست سے بے غیرتی کی انتہائی منزل کو پہنچ چکا تھا اس نے اس کی حیاسوز تجویز پر نہ صرف یہ کہ غیظ و غضب یا کسی ناپسندیدگی کا اظہار نہ کیا بلکہ اس کی اس تجویز کو قبول کرلیا۔ نوشیرواں کو پتہ چلا تو وہ اپنی ماں کی اس بے عزتی پر بے چین ہوگیا اور انتہائی نیاز مندی کے ساتھ مزدک کی خدمت میں گیا اپنے ہاتھوں سے اس کے جوتے اتارے اس کے پاؤں کو بوسے دیئے اور بڑی للجاہت سے عرض کی کہ وہ اس کی ماں کی آبرو ریزی نہ کرے۔ اس کو اس مہربانی کے عوض جو کچھ اس کے پاس ہے وہ اس کے سپرد کر دے گا۔ تب جا کر مزدک اس حرکت سے باز آیا اور اس کی ماں، تمام اہل ایران کی مادر ملکہ کو چھوڑ دیا۔
مزدک نے اس کے علاوہ حیوان کے ذبیحہ کو حرام قرار دے دیا اور کہا کہ انسان کو اپنی خوراک کے لئے انہیں چیزوں پر اکتفا کرنا چاہئے جو زمین اگاتی ہے یا حیوانات سے حاصل کی جاتی ہیں۔ مثلاً انڈے، دودھ، گھی، پنیر وغیرہ اس کی پیدا کردہ اس مصیبت نے ملک گیر وبا کی صورت اختیار کر لی۔ اور لوگ اس کا شکار ہوگئے۔ کچھ عرصہ بعد حالت یہ ہو گئی کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کو اور کوئی باپ اپنے بیٹے کو نہیں پہچان سکتا تھا (الکامل فی التاریخ لابن اثیر صفحہ ۴۱۴۔ ۴۱۳ جلد اول)
قباد کی حکومت کو جب دس سال پورے ہو گئے تو موبدانِ موبد اور جتنے بڑے علماء اور اعیان مملکت تھے جمع ہوئے اور انہوں نے کیقباد کو تاج و تخت سے معزول کردیا اور اس کے بھائی جامسپ کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔ انہوں نے کیقباد کو کہا کہ تو نے مزدک کی پیروی اختیار کی مزدک اور اس کے حواریوں نے لوگوں پر جو ظلم و ستم توڑے اس میں تم ان کے معاون ثابت ہوئے۔ اب تمہاری نجات کی اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں کہ تم اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دو۔ ہم تمہیں ذبح کریں اور آگ کے سامنے تمہاری قربانی پیش کریں اس نے اپنے آپ کو ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا چنانچہ اسے قید کردیا گیا۔ اس کے مرنے کے بعد نوشیروان تخت نشین ہوا اس نے مزدک اور اس کے ماننے والوں کو تہ تیغ کر دیا اس طرح یہ فتنے فرو ہوا۔
ول ڈیوران اپنی کتاب دی ایج آف فیتھ(THE AGE OF FAITH) میں اس واقعہ کو یوں بیان کرتا ہے۔
” ۴۹۰ء کے قریب مزدک جو ابتداء میں زرتشتی مذہب کا پیشوا تھا اس نے دعویٰ کیا کہ وہ خدا کا فرستادہ ہے اور پرانے عقیدہ کی تبلیغ کے لئے بھیجا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام مرد مساوی حیثیت رکھتے ہیں اور کوئی آدمی دوسرے سے زیادہ کسی چیز کی ملکیت کا حق نہیں رکھتا۔ جائیداد اور شادی انسان کی ایجاد کردہ ہیں اور یہ بڑی خطرناک غلطیاں ہیں تمام چیزیں اور تمام عورتیں، تمام مردوں کی مشترکہ ملکیت ہونی چاہئیں اس نے چوری، زنا، محرمات سے بدفعلی کو جرائم کی فہرست سے نکال دیا اگرچہ ان کے ساتھ نکاح کرنے کی پہلے بھی اجازت تھی۔ اور کہا کہ در حقیقت یہ اعمال جائیداد اور شادی کے خلاف فطری احتجاجات ہیں غریبوں نے اور کئی دوسرے لوگوں نے اس کی دعوت کو بڑی خوشی سے سنا لیکن خود مزدک کو اس وقت بڑی حیرت ہوئی جب ایک بادشاہ اس کے پیروکاروں میں شامل ہو گیا۔ اس کے پیروکاروں نے جائیدادوں کو لوٹنا شروع کردیا وہ صرف لوگوں کے گھروں کو ہی نہیں لوٹتے تھے بلکہ امیر آدمیوں کی بیویاں بھی ان کی غارتگری کا نشانہ بنتیں، وہ ان کی خوبصورت کنیزوں کو اپنے استعمال کے لئے اٹھا کر لے جاتے۔ جو امراء بادشاہ کی اس حرکت سے غضبناک ہوئے انہوں نے اس کو قید کر دیا اور اس کے بھائی کو تخت پر بٹھا دیا۔ تین سال تک وہ ایک قلعہ میں محبوس رہا۔ وہاں سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا پھر ایک بادشاہ کی امداد سے ۴۹۹ء میں وہ کھویا ہوا تخت دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اپنی طاقت کو محفوظ کرنے کے بعد اس نے کمیونسٹوں پر اپنی توجہ مبذول کی اس نے مزدک اور اس کے ہزار ہا پیروکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا (دی ایچ آف ڈیتھ صفحہ ۱۴۴)
علامہ ابن اثیر الکامل میں مزدک کے انجام کے بارے میں لکھتے ہیں
قباذ نے اپنے عہد حکومت میں جب مزدک کی پیروی شروع کردی تو اپنی مملکت کے صوبوں کے گورنروں کو بھی اس کی پیروی کی دعوت دی اس وقت حیرہ کا گورنر منذر بن ماء السماء تھا اس کو بھی دعوت دی کہ وہ مزدک کی پیروی اختیار کرے لیکن اس نے انکار کردیا۔ چنانچہ بادشاہ نے منذر کو حیرہ کی گورنری سے معطل کردیا حارث بن عمرو الکندی کو بادشاہ نے جب یہ دعوت دی تو اس نے اس دعوت کو قبول کرلیا۔ چنانچہ قباذ نے اس کو اپنے منصب پر برقرار رکھا۔ جب قباذ مرگیا اور نوشیرواں تخت نشین ہوا منذر کو جب یہ اطلاع ملی تو وہ نوشیرواں کے دربار میں حاضری کے لئے پیش ہوا وہ جانتا تھا کہ نوشیرواں اپنے باپ کے عقیدہ کے سخت مخالف ہے چنانچہ نوشیرواں نے لوگوں کو دربارِ شاہی میں حاضری کا اذنِ عام دیا تو ان حاضر ہونے والوں میں دو ممتاز شخصیتیں بھی تھیں۔ پہلے مزدک داخل ہوا پھر منذر۔ نوشیرواں نے دونوں کو دیکھ کر کہا۔ میری زندگی کی دو آرزوئیں تھیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں آرزوؤں کو پورا فرمادیا ہے۔ مزدک نے پوچھا اے شہنشاہ! وہ کون سی دو آرزوئیں ہیں نوشیرواں نے کہا میری ایک آرزو تو یہ تھی کہ اس باغیرت اور باحمیت شخص کو یعنی المنذر کو اپنے عہدہ پر بحال کروں۔ دوسری آرزو یہ تھی کہ میں ان زندیقوں کو موت کے گھاٹ اتار دوں۔ مزدک نے کہا کیا تیرے بس میں ہے، کہ تو تمام انسانوں کو تہِ تیغ کر دے (کیونکہ اس کے زعم میں یہ تھا کہ تمام اہل ایران اس کے مذہب کو قبول کرچکے ہیں) نوشیرواں نے غصے سے بے قابو ہو کر کہا اے زانیہ کے بیٹے! تو ابھی تک یہاں موجود ہے خدا کی قسم! تیری جرابوں کی بدبو آج بھی میری ناک میں موجود ہے۔ جب میں نے اپنی ماں کی عصمت کو بچانے کے لئے تیرے بدبو دار پاؤں کو بوسہ دیا تھا۔ نوشیرواں نے حکم دیا کہ اس کا سر قلم کردیا جائے اور اس کی لاش کو صلیب پر چڑھا دیا جائے تاکہ لوگ اس سے عبرت حاصل کریں اور نوشیرواں کے حکم سے ایک لاکھ مزدکیوں کو ایک دن میں قتل کردیا گیا اور اس دن اس کو نوشیرواں کے لقب سے ملقب کیا گیا۔
مزدک کے پیروکاروں نے لوگوں کی جو جائیدادیں اور اموال اپنے غاصبانہ قبضے میں لئے ہوئے تھے وہ ان سے لے کر ان کے اصلی مالکوں کو واپس کردیئے گئے اس طرح یہ فتنہ جس نے اہل ایران کے اخلاق کو تہس نہس کر دیا تھا۔ نوشیرواں کی جرأت و بسالت سے فرو ہوا اور لوگوں کو آرام کا سانس لینا نصیب ہوا۔ (الکامل جلد اول خلاصہ صفحہ ۴۳۳ تا ۴۳۶)
علامہ ابن خلدون اور دیگر مؤرخین نے بھی مزدک کی تباہ کاریوں کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے ہم اس کا اعادہ ضروری نہیں سمجھتے۔
اہلِ ایران کا اولاد کی تربیت کا طریقہ کار
بچہ پانچ سال تک ماں کی حفاظت میں رہتا۔ پھر باپ اسے اپنے آغوشِ تربیت میں لے لیتا سات سال کی عمر میں اسے مدرسہ میں داخل کیا جاتا۔ اور تعلیم صرف اہلِ ثروت کے بیٹوں تک محدود تھی اور کاہن عام طور پر معلم کا فریضہ انجام دیتے تھے سارے طالب علم عبادت گاہ یا کاہن کے گھر میں جمع ہوتے ان کے مسلمہ قواعد سے ایک قاعدہ یہ تھا کہ کوئی مدرسہ شہر کے قریب قائم نہ کیا جائے تاکہ بازاری لوگوں کی بری عادتیں۔ کذب بیانی۔ گالی گلوچ دھوکا دہی وغیرہ ان معصوم بچوں کے اخلاق کو متاثر نہ کریں۔
نصاب تعلیم، ژند اور اس کی شروح تھیں ژند وہ کتاب ہے جو ان کے خیال کے مطابق زرتشت پر آسمان سے نازل ہوئی اس کے علاوہ مندرجہ ذیل علوم پڑھائے جاتے۔
دین۔ طب اور قانون
پڑھانے کا طریقہ یہ تھا کہ جو پڑھایا جاتا اسے وہ زبانی یاد کرتے۔ اور عام رعایا کو یہ تین چیزیں سکھائی جاتیں
۱۔ شہ سواری
۲۔ تیر افگنی
۳۔ سچی بات کہنے کا سلیقہ
ابتدائی تعلیم کے بعد اہل ثروت کے بیٹوں کو بیس یا چوبیس سال کی عمر تک مزید تعلیم دی جاتی۔ بعض کو خاص اعلیٰ عہدوں کے لئے تیار کیا جاتا اور بعض کو مختلف صوبوں میں گورنر کے فرائض انجام دینے کی تربیت دی جاتی اور ان سب کو فنونِ حرب کی تعلیم دی جاتی ان اعلیٰ مدارس میں طلبہ کی زندگی بڑی شاق اور کٹھن ہوتی بہت سویرے ان کو جگایا جاتا پھر لمبی مسافت تک انہیں دوڑایا جاتا۔ سرکش گھوڑوں پر سواری کرنے۔ تیراکی اور شکار اور چوروں کے تعاقب کی انہیں تربیت دی جاتی۔ کاشتکاری باغبانی کا انہیں فن سکھایا جاتا اور چلچلاتی دھوپ اور شدید سردی میں دور تک انہیں پیدل چلنے کی مشق کرائی جاتی تاکہ وہ سخت موسم کی تبدیلیوں کو بآسانی برداشت کرسکیں۔ انہیں خشک اور سادہ غذا کھلائی جاتی اور انہیں اس طرح دریا عبور کرنے کا ڈھنگ سکھایا جاتا کہ ان کی زرہیں اور کپڑے پانی سے ترنہ ہوں۔ (قصۃ الحضارۃ صفحہ ۴۴۳۔ ۴۴۴ جلد اول جز دوم)
ایران کا نظام عدل و انصاف
ایران کی وسیع اور عظیم الشان مملکت نیز وہاں کے باشندوں کی معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں آپ نے مندرجہ بالا مختصر جائزہ کا مطالعہ فرمالیا۔ آخر میں ہم وہاں کے نظام عدل و انصاف کے بارے میں کچھ عرض کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔
پروفیسر آر تھر نے اس موضوع پر بڑی شرح وبسط سے لکھا ہے اس کا خلاصہ پیش خدمت ہے:-
”اوستا اور اس کی تفسیریں اور اجماع نیکاں یعنی فقہاء کے فتاوے۔ قانون کے ماخذ تھے مجموعہ قوانین کی کوئی خاص کتاب موجود نہ تھی ۔۔۔۔۔۔ علم فقہ کی تمام تفصیلات بیشتر مفسرین کے اقوال پر مبنی تھیں۔ اور عہد ساسانی کے ضابطہ عدالت کا پتہ دیتی تھیں قانون کی کتاب ”مادیگان ہزار دادسُتان“ جس کو فرخ مردنامی نے تالیف کیا اس کے چند اجزا کا واحد قلمی نسخہ جس میں پچپن ورق ہیں کتب خانہ مانک جی لم جی ہوشنگ ”ہاتریا“ میں محفوظ ہے اس کے متن کو جیون جی جمشید مودی نے مع مقدمہ بمبئی سے ۱۹۰۱ء میں شائع کیا۔ اور ابھی انیس ورق اور ہیں جو طبع نہیں ہوئے۔ ”مادیگان“ میں عہد ساسانی کے چند ایسے قانون دانوں کے نام محفوظ رہ گئے ہیں جن کے فتوے اس میں درج کئے گئے ہیں اس کتاب میں مصنف نے ایک موقع پر ایک کتاب ”دستوراں“ کا نام لیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی قانون کی کوئی کتاب تھی۔ (ایران بعہد ساسانیاں خلاصہ از صفحہ ۶۷۔۶۶ اور صفحہ ۳۹۸)
اس کتاب کے مصنف نے بیان کیا ہے۔
قانونی امور میں موبدان موبد کی رائے کو فوقیت دی جاتی تھی۔ موبدان موبد کا فیصلہ سوگند سے بھی زیادہ موثر ہوتا۔ اور اس کو بے خطا سمجھا جاتا تھا اس میں ایسی عدالتوں کا بھی ذکر ہے جن میں مختلف درجوں کے جج مل کر بیٹھتے تھے قانون کی طرف سے ججوں کو گواہوں کو بلانے کے لئے مہلت ملتی تھی مقدمہ کی ساری کارروائی کے لئے ایک خاص مدت معین تھی ضابطہ میں ایسے قانون بھی موجود تھے جن کی رو سے جھگڑالو دعویداروں کی لاطائل تقریروں کو روک دیا جاتا تھا کیونکہ ایسی تقریروں سے معاملہ خواہ مخواہ لمبا اور پیچیدہ ہو جاتا تھا۔ ایسے ججوں پر مقدمہ چلانا ممکن ہوتا تھا جو کسی غرض کے تحت ایک مشکوک امر کو یقینی اور یقینی کو مشکوک بنا دیں۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۳۹۹)
شک کی صورت میں ملزم کے گناہ یا بے گناہی کو بطریق امتحان ثابت کیا جاتا تھا۔ وہ امتحان دو طرح کا ہوتا ایک کو گرم امتحان اور دوسرے کو سرد امتحان کہتے۔ گرم امتحان کی صورت میں ملزم کو آگ میں سے گزرنے کے لئے کہا جاتا تھا۔ اس طریقہ امتحان میں جو لکڑی جلائی جاتی تھی اس کے انتخاب کے لئے خاص قواعد مقرر تھے اور دورانِ امتحان بعض مذہبی رسمیں ادا کی جاتی تھیں اس کی ایک اور مثال جس کی روایت یہ ہے کہ شاہ پور دوم کے زمانہ میں آذربُد پُسر مہر سپند نے اپنے مذہبی عقیدہ کی سچائی کو ثابت کرنے کے لئے اپنے آپ کو اس بات کے لئے پیش کیا کہ پگھلی ہوئی دھات اس کے سینہ پر انڈیل دی جائے امتحان کا ایک طریقہ اور بھی تھا۔ جو بہت قدیم زمانہ سے چلا آتا تھا۔ کہ جب ایک شخص حلف اٹھاتا تھا تو اسے گندھک ملا پانی پینے کو دیا جاتا تھا۔
قانون میں تین قسم کے افعال کو جرم قرار دیا گیا تھا۔
۱۔ وہ جرم جو خدا کے خلاف ہوں یعنی جب کہ ایک شخص مذہب سے برگشتہ ہوجائے یا عقائد میں بدعت پیدا کرے۔
۲۔ وہ جرم جو بادشاہ کے خلاف ہوں۔ جب کہ ایک شخص بغاوت یا غداری کرے یا لڑائی میں میدانِ جنگ سے بھاگ نکلے۔
۳۔ وہ جرم جو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہوں۔
پہلی اور دوسری قسم کے جرائم یعنی الحاد۔ بغاوت۔ غداری اور میدانِ جنگ سے فرار کی سزا فوری موت تھی اور تیسری قسم کے جرائم مثلاً چوری۔ راہزنی۔ اور ہتکِ ناموس کی سزا بعض صورتوں میں جسمانی عقوبت اور بعض میں موت ہوتی تھی۔
امیاں مارسیلنوس لکھتا ہے کہ بعض سزائیں بہت ظالمانہ اور نہایت قابلِ نفرت تھیں۔ مثلاً یہ کہ ایک شخص کے جرم کے بدلے میں اس کے تمام رشتہ داروں کو قتل کردیا جاتا۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۴۰۱۔ ۴۰۰)
“نکازم نسک” کی رو سے مجرموں کو خاص طور پر ناخوشگوار جگہوں میں بند کیا جاتا تھا اور حسب جرم اس جگہ میں موذی جانور چھوڑ دیئے جاتے تھے تھیوڈورت جو شہر صور، کا بشپ تھا۔ وہ لکھتا ہے عیسائی قیدیوں کو بعض اوقات تاریک کنوؤں میں بند کردیا جاتا تھا اور ان میں چوہے چھوڑ دیئے جاتے تھے قیدیوں کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے جاتے تھے تاکہ وہ ان سے اپنے آپ کو بچا نہ سکیں اور یہ جانور بھوک کے مارے ایک طویل اور ظالمانہ عذاب کے ساتھ ان کو کاٹ کاٹ کر کھاتے رہتے تھے اس کے علاوہ جیل کو بطور ایک ایسی جگہ کے بھی استعمال کیا جاتا تھا جہاں ذی رتبہ اشخاص کو جن کا وجود سلطنت اور بادشاہ کے لئے خطرہ کا باعث ہوتا تھا، چپکے سے غائب کردیا جاتا تھا۔ خوزستان میں ایک مضبوط قلعہ تھا۔ جس کا نام ”گیل گرد“ یا اندیشن تھا جہاں اس قسم کے سیاسی قیدیوں کو محبوس رکھا جاتا تھا۔ اس کو ”انوش برد“ بھی کہتے تھے جس کے معنی قلعہ فراموش کے ہیں اس لئے کہ جو لوگ وہاں قید ہوتے تھے ان کا نام لینا بلکہ خود قلعہ کا نام لینا بھی ممنوع تھا۔ (ایران بعہد ساسانیاں صفحہ ۴۰۴)
ایک نہایت عام سزا جو خصوصاً باغی شہزادوں کو دی جاتی تھی۔ یہ تھی کہ آنکھوں میں گرم سلائی پھراوا کر یا کھولتا ہوا تیل ڈلوا کر اندھا کر دیتے تھے زندہ آدمیوں کی ساری یا آدھی کھال کھچوا دینے کا دستور تھا۔ (ایران بعہد ساسانیاں صفحہ ۴۰۶)
عیسائیوں پر جور و تعدی کے زمانہ میں شہداء کو کبھی کبھی سنگسار بھی کیا جاتا تھا۔ یزدگرد دوم کے زمانہ میں دو عیسائی راہبہ عورتوں کو سولی پر چڑھا کر سنگسار کیا گیا۔ اور چند شہداء کو زندہ دیوار میں چنوایا گیا۔ ہاتھیوں کے پاؤں تلے روند ڈالنے کی سزا ساسانیوں کے عہد میں عام طور پر رائج تھی۔ (ایران بعہد ساسانیاں صفحہ ۴۰۷)
جو لوگ عیسائی مذہب قبول کرتے ان پر ظلم و ستم کی انتہا کردی جاتی۔ اور انہیں ایسی سنگین نوعیت کی سزائیں دی جاتیں جن کے ذکر سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کبھی کانوں اور آنکھوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا جاتا تھا۔ اور کبھی زبان کھینچ کر نکال لی جاتی تھی۔ زخموں پر لیموں اور سرکہ، نمک چھڑک جاتے تھے۔ ان بدنصیبوں کے جسم کے اعضا ایک ایک کرکے کاٹے اور مروڑے جاتے تھے بعض وقت پیشانی سے ٹھوڑی تک چہرے کی کھال اتار لی جاتی تھی— ان کی آنکھوں اور باقی تمام جسم میں سلاخیں چبھوئی جاتی تھیں اور جب تک وہ مر نہ جائیں ان کے منہ آنکھوں اور نتھنوں میں سرکہ، رائی برابر ڈالتے رہتے تھے۔
ایک آلہ تعذیب، جو اکثر استعمال کیا جاتا تھا وہ لوہے کی ایک کنگی تھی جس سے مجرم کی کھال ادھیڑی جاتی تھی۔ اور درد کی شدت میں اضافہ کرنے کے لئے ہڈیوں پر جو نظر آنے لگتی تھیں نفت ڈال کر آگ لگا دی جاتی تھی۔
سب سے زیادہ دہشت ناک عذاب وہ تھا جس کا نام ”نو موتیں“ تھا جس کی صورت یہ تھی کہ جلاد سب سے پہلے ہاتھوں کی انگلیاں کاٹتا تھا اس کے بعد پاؤں کی پھر کلائیوں تک ہاتھ کاٹ ڈالتا تھا اور ٹخنوں تک پاؤں۔ اس کے بعد پھر کہنیوں تک بانہیں کاٹتا تھا۔ اور گھٹنوں تک پنڈلیاں۔ پھر ناک اور کان کاٹتا تھا۔ اور سب سے آخر میں سر۔ (ایران بعد ساسانیاں صفحہ ۴۰۸)
اپنے سیاسی اور مذہبی مخالفین کو اس قسم کی لرزہ خیز سزائیں دینا وہاں آئے دن کا معمول تھا جس پر کسی قسم کا تعجب اور حیرت کا اظہار نہ کیا جاتا۔ اور نہ ان ظالمانہ اذیت رسانیوں کے خلاف عوام میں کوئی رد عمل پیدا ہوتا۔
ول ڈیوران اپنی مشہور کتاب دی ایج آف فیتھ (THE AGE OF FAITH) میں اس موضوع پر اپنی تحقیق کا یوں اظہار کرتا ہے۔
”بادشاہ اس کے مشیر اور مذہبی علماء قانون مرتب کرتے اور ان کی بنیاد قدیم اوستا پر ہوتی۔ ان کی تشریح اور ان کی تنفیذ مذہبی پروہتوں کے سپرد تھی۔ جرائم کا سراغ لگانے کے لئے جسمانی اذیت سے کام لیا جاتا مشکوک لوگوں کو کہا جاتا کہ وہ آگ میں گرم کئے ہوئے سرخ لوہے پر چلیں۔ یا بھڑکتی ہوئی آگ میں سے چل کر گزریں یا زہریلی خوراک کھائیں۔ اگر اس آزمائش میں وہ سلامت بچ جاتے تو انہیں بے گناہ قرار دے دیا جاتا اور اگر وہ اس آزمائش میں پورے نہ اترتے تو انہیں مجرم یقین کرلیا جاتا۔ اور انہیں سزا دی جاتی (دی ایج آف فیتھ صفحہ ۱۴۱)
ایران میں عدل و انصاف کی جو حالت تھی اس کو آشکار کرنے کے لئے ہم قارئین کی توجہ ایک بار پھر اس واقعہ کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔
”خسرو نے زرعی پیداوار پر لگانوں کی جب نئی شرح مقرر کی تو اس نے ایک مجلس مشاورت طلب کی جس میں ایران کے سر بر آوردہ امراء، علماء فضلاء فوجی سپہ سالار شریک ہوئے۔ لگان کی نئی شرحوں کا اعلان کرنے کے بعد جب خسرو نے حاضرین سے پوچھا کہ ان شرحوں پر کسی کو کوئی اعتراض ہے تو محفل میں سناٹا چھایا رہا۔ اس نے پھر یہ سوال دہرایا پھر بھی سکوت طاری رہا۔ تیسری مرتبہ پھر اس نے یہی سوال حاضرین سے پوچھا تو ایک دبیر نے بڑے ادب واحترام کے ساتھ اس پر اعتراض کیا اور جب بادشاہ کو معلوم ہوا کہ اس معترض کا تعلق دبیروں کے حلقہ سے ہے تو حکم دیا کہ ہر دبیر، اپنے قلمدان سے اس کو زدوکوب کرے۔ چنانچہ فرمان شاہی کی تعمیل کرتے ہوئے ہر دبیر نے اپنے بدقسمت ساتھی پر قلمدانوں سے ضربات کی بارش شروع کردی یہاں تک کہ اس نے وہیں دم توڑ دیا اور تمام حاضرین نے باآواز بلند یہ کہا؛ ہمیں بادشاہ کے نئے لگانوں کی شرحوں پر قطعا کوئی اعتراض نہیں۔
نوشیرواں جس کا عدل وانصاف ضرب المثل ہے، جس نے اپنے محل کے صحن کو ٹیڑھا رکھنا تو گوارا کرلیا لیکن غریب عورت کی جھونپڑی کو اس کی مرضی کے خلاف وہاں سے اٹھانا گوارا نہ کیا۔ عدل وانصاف کے اس پیکر نوشیرواں نے اپنے تمام سگے بھائیوں کو اس لئے تہ تیغ کردیا، کہ مبادا ان میں سے کوئی اس کے خلاف علم بغاوت بلند کردے۔