Site icon اردو محفل

تکفیر مسلم میں ننانوے وجوہ کفر ایک وجہ اسلام کا اصول

حیرت کی بات یہ ہے کہ آج کل تحقیق کا معیار یہ بن کر رہ گیا ہے کہ کسی وائرل ایشو پر شاملہ یا تراث لائبریری سے کوئی اصول، اس سے متعلق کوئی روایت اور دو چار فقہی جزئیات تلاش کر لی جائیں اور ان کی بنیاد پر ایک تحریر یا ویڈیو تیار کر دی جائے۔ اس پر مستزاد یہ کہ چند حوالے بھی پیش کر دیے جائیں یا عربی عبارات پڑھ کر سنا دی جائیں تو گویا سونے پر سہاگہ! عوامی پذیرائی تو اپنی جگہ، ہمارے ذہین اسکالرز، پی ایچ ڈی ڈاکٹرز اور علماء کی ایک تعداد بھی داد و تحسین سے نواز دے گی۔ مگر اس پورے عمل میں کسی کی توجہ اس جانب نہیں جائے گی کہ پیش کردہ اصول کا محلِ اطلاق کیا ہے؟ اس کی حدود و قیود کیا ہیں؟ اور اس سے متعلق فقہی جزئیات کی صحیح تنقیح و تفہیم کیا ہے؟ اور توجہ جائے بھی تو کیسے؟ اب عموماً فقہ و تفقہ کا وہ ذوق اور استعداد کہاں رہی! ناچیز نے چند ماہ قبل اوجھڑی کی حلت کے حوالے سے ایک ڈاکٹر صاحب کی پیش کردہ ضعیف و منقطع روایات اور غیر متعلقہ فقہی جزئیات کا محاسبہ بھی اسی تناظر میں کیا تھا۔ وہ تحریر میری وال پر موجود ہے، احباب اس کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

 

اب میں جس اہم نکتے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں، اس کا تعلق ایک ایسے فقہی اصول سے ہے جسے فقہاء نے تکفیرِ مسلم کے باب میں بیان کیا ہے۔ میرے نزدیک اس اصول کے حوالے سے ایک غلط تاثر عام پایا جاتا ہے اور اسے اکثر ادھورا بیان کیا جاتا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ بعض اہلِ علم، حتیٰ کہ اسکالرز بھی اس حوالے سے کسی حد تک التباس اور کنفیوژن کا شکار ہیں۔ یہاں کسی کی تحقیر، دل آزاری یا کسی پر فتوٰی عائد کرنا مقصود نہیں، نہ ہی میں خود کو اس کا اہل سمجھتا ہوں۔ میری گزارش محض یہ ہے کہ اس اصول کے محلِ اطلاق، حدود و قیود اور فقہی تناظر کو واضح کیا جائے، تاکہ اس کے فہم میں کوئی غلطی یا غلط فہمی پیدا نہ ہو۔

 

فقہائے احناف کا مذہب یہ ہے کہ اگر کسی مسئلے میں ننانوے وجوہ ایسی ہوں جن سے کفر لازم آتا ہو، اور ایک وجہ ایسی ہو جس سے کفر لازم نہ آتا ہو، تو مفتی پر لازم ہے کہ اسلام کو غالب رکھتے ہوئے اسی ایک وجہ کی طرف میلان کرے اور کفر کا فتوٰی نہ دے۔

 

اب اس اصول کا صحیح مفہوم اور محلِ اطلاق کیا ہے؟ چند نکات کی صورت میں سمجھ لیجیے:

 

(1) سب سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ یہاں کسی شخص کی مجموعی شخصیت یا اس کے اعمال کا موازنہ نہیں کیا جا رہا کہ اس میں ننانوے وجوہِ کفر ہوں اور ایک وجہِ اسلام تو اسے کافر قرار نہیں دیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے ایک ہی ایسا صریح قول یا فعل ثابت ہو جائے جو شرائطِ تکفیر کے ساتھ موجبِ کفر ہو، تو اعمالِ صالحہ کی کثرت اسے حکمِ کفر سے نہیں بچا سکتی۔ یہ قرآن و حدیث کا قطعی اور اصولی مسئلہ ہے، اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔

 

(2) دراصل فقہاء یہاں کسی محتمل کلمے یا کلام کی بات کر رہے ہیں۔ یعنی اگر کسی کلمے یا عبارت کے متعدد احتمالات ہوں، جن میں سے ننانوے احتمالات موجبِ کفر ہوں اور ایک احتمال ایسا ہو جس سے کفر لازم نہ آتا ہو، تو مفتی پر لازم ہے کہ حسنِ ظن اور احتیاط کے پیشِ نظر اسی ایک احتمال کی طرف میلان کرے اور کفر کا فتوٰی نہ دے۔ اسی طرح اگر کسی کلمے یا کلام کے کفریہ ہونے ہی میں فقہاء کا اختلاف ہو، اگرچہ عدمِ تکفیر کی روایت ضعیف ہو یا کسی دوسرے مذہب کی ہو، تب بھی جب تک اس کلمے کے موجبِ کفر ہونے پر اتفاق نہ ہو، محض ایک قول کی بنیاد پر تکفیر کا حکم عائد کرنے سے احتراز کیا جائے گا۔

 

(3) عین اسی محتمل کلمے یا کلام کی کوئی قابلِ قبول تاویل اور معتبر محمل بیان کرنا بھی ضروری ہے۔ کسی دوسرے کلمے یا کلام کو دلیل کے طور پر پیش کر دینا زیرِ بحث کلام کی تاویل نہیں، بلکہ خلطِ مبحث ہوگا۔ یہاں یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ شریعت میں ہر تاویل قابلِ قبول نہیں ہوتی، بلکہ تاویل کی بھی اپنی حدود و قیود ہیں۔ اس سلسلے میں کلام کے سیاق و سباق، موقع و محل اور دیگر قرائن کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اگر خود قائل نے اپنے کلام سے معنیِ کفر مراد لینے کی صراحت کر دی ہو تو محض مفتی کی طرف سے کسی غیر کفریہ معنی پر محمول کر دینا اسے فائدہ نہیں دے گا۔

 

(4) اگر کلمہ یا کلام صریح ہو تو مذکورہ اصول لاگو نہیں ہوگا، بلکہ اس صورت میں ایک دوسرا فقہی اصول پیشِ نظر رہے گا: التَّأْوِيلُ فِي لَفْظٍ صُرَاحٍ لَا يُقْبَلُ یعنی صریح کلام میں تاویل قابلِ قبول نہیں ہوتی۔ چنانچہ جب کسی شخص سے شرائطِ تکفیر کے مطابق کوئی صریح موجبِ کفر کلمہ ثابت ہو جائے تو محض کسی احتمالی تاویل یا باطنی نیت کے دعوے کی بنیاد پر اس کے حکم کو تبدیل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ صریح کلام کو کسی غیر مراد معنی پر محمول کرکے اس کے ظاہر حکم سے گریز نہیں کیا جا سکتا۔

 

(5) اس اصول کا تعلق تکفیرِ مسلم میں انتہائی احتیاط سے ہے۔ اس سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اب وہ محتمل کلمہ یا کلام، جس کے ننانوے احتمالات موجبِ کفر ہیں، درست اور قابلِ قبول بھی ہو گیا ہے۔ ہرگز نہیں! وہ کلام اپنی قباحت اور غلطی کے اعتبار سے بدستور قابلِ گرفت ہے۔ ایسے شخص سے یہی کہا جائے گا کہ وہ اپنے اس کلام سے توبہ کرے، اس سے رجوع کرے اور آئندہ اس سے اجتناب کرے۔ بلکہ یہ بھی ملحوظ رہے کہ اگرچہ احتیاط اور حسنِ ظن کی بنا پر اس کی تکفیر سے گریز کیا گیا، لیکن اگر وہ اپنے اس قبیح کلام پر اصرار کرتا ہے اور اس سے رجوع نہیں کرتا تو اس کے قول و موقف کی نوعیت اور دیگر شرائط کے پیشِ نظر تضلیل یا تفسیق کا حکم بھی عائد ہو سکتا ہے۔

Mufti-Muhammad Ata Ul Mustafa

06/11/2026

Exit mobile version