Site icon اردو محفل

تهانوى كے پردادا مرنے كے بعد مٹهائياں لاتے رهے

تهانوى كے پردادا مرنے كے بعد مٹهائياں لاتے رهے

پردادا صاحب توكيرانه اور شاملى كے درميان جهاں پخته سڑك هے شهيد هوئے اور وهيں پر پير سماءالدين صاحب كے مزار كے پاس دفن كئے گئے– اور شروع ميں بهت عرصه تك انكا عرس بهى هوتا رها– كسى بارات ميں تشريف ليجا رهے تهے كه ڈاكوؤں نے آكر بارات پر حمله كيا ان كے پاس كمان تهى اور تير تهے– انهوں نے أن ڈاكوؤں پر دليرانه تير برسانا شروع كئے– چونكه ڈاكوؤں كى تعداد كثير تهى اور ادهر سے بے سرو سامانى تهى يه مقابله ميں شهيد هو گئے اور اس حديث شريف كے مصداق هو گئے

شهادت كے بعد ايك عجيب واقعه هوا– شب كے وقت اپنے گهر مثل زنده كےتشريف لائے اور اپنے گهر والوں كو مٹهائى لا كر دى اور فرمايا كه اگر تم كسى سے ظاهر نه كروگى تو اسى طرح روز آيا كريں گے ليكن ان كے گهر كے لوگوں كو يه انديشه هوا كه گهر والے جب بچوں كو مٹهائى كهاتے ديكھيں گے تو معلوم نهيں كيا شبه كريں اس لئے ظاهر كر ديا اور پهر آپ تشريف نهيں لائے– يه واقعه خاندان ميں مشهور هے.

اشرف السوانح جلد اول .ص12 )

Exit mobile version