Site icon اردو محفل

اصولی طور پر کل احادیث کی تعداد

اصولی طور پر کل احادیث کی تعداد

اس مقام پر کوئی کہہ سکتاہے کہ اس تعداد میں مکررروایات بھی ہیں تو یہ تعدادگھٹ کر اس سے کافی کم ہوجائیگی ،ہم کہتے ہیں یہ بات مسلم ہے لیکن اسکے ساتھ اس بات کوبھی ملحوظ نظر رکھیں کہ احادیث کی کل تعداد مختلف سندوں کے اعتبار سے اگرچہ لاکھوں تک پہونچتی ہے جیسا کہ آپ پڑھ چکے کہ ایک ایک محدث کو سات اور آٹھ لاکھ احادیث بھی یاد تھیں لیکن اصل صحیح احادیث کی تعدادکتنی ہے ۔امام حاکم کی تصریح یوں ہے ۔

الحدیث التی فی الدرجۃ الاولی لاتبلغ عشرۃ آلاف۔( توجیہ النظر، ۹۳)

اعلی درجہ کی احادیث کی کل تعداد دس ہزار تک نہیں پہونچ پاتی ۔

بلکہ بعض کے نزدیک تواصل تعدادچارہزار سے کچھ متجاوز ہے جیسا کہ علامہ امیریمانی لکھتے ہیں :۔

من جملۃ لاحادیث المسندۃ عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یعنی الصحیحۃ بلاتکرار اربعۃ آلاف واربع مأۃ۔( تذکرۃ المحدثین مصنفہ علامہ غلام رسول سعیدی، بحوالہ توضیح الافکار، ۶۳)

جملہ احادیث مسندہ صحیحہ غیر مکررہ کی تعداد چار ہزار چارسوہے ۔

Exit mobile version