روایت ہے عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد پرگزرے جب وہ وضو کررہے تھے تو فرمایا اے سعد یہ اسراف کیسا(فضول خرچی)عرض کیا کیا وضو میں بھی اسراف ہے؟فرمایا ہاں۔اگرچہ تم بہتی نہر پر ہو ۱؎ (احمدوابن ماجہ)
شرح
۱؎ حضرت سعدیاتو ضرورت سے زیادہ پانی بہارہے تھے،یابجائے تین کے چارپانچ باراعضاء دھورہے تھے،یا اعضاءکی حدود میں زیادتی کررہے تھے ان سب سے منع فرمادیا گیا۔اس سے معلوم ہوا کہ وضو میں یہ تمام باتیں منع ہیں اوران کاکرنا جرم۔