Site icon اردو محفل

حضرت اسید بن حضیر اور ناموس رسالت

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی قریظہ کے یہودیوں سے معاہدہ فرما رہے تھے کہ صحابی حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے آپ کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا آپ نہیں جانتے تھے کہ کس موضوع پر گفتگو ہورہی ہے جب آپ آئے تو عینیہ حضور علیہ السلام کے سامنے ٹانگیں پھیلائے بیٹھا تھا جب آپکو معاہدے کا علم ہوا تو آپ نے اُسے کہا کہ “اے بندر کی آنکھ والے اپنی ٹانگیں سمیٹ لو ، تو حضور علیہ السلام کے سامنے ٹانگیں پھیلائے ہوئے ہے بخدا ! اگر حضور یہاں تشریف فرما نہ ہوتے تو میں یہ نیزہ تیرے خصیوں میں سے نکال دیتا ۔

(انظر: سبل الھدی والرشاد، مترجم ،813/4 زاویہ پبلی شرز لاہور)

وہ پوچھنا یہ تھا کہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے اُس بے ادب یہودی سے ناموس رسالت کی خاطر کوئی سخت بات تو نہیں کی؟

✍ارسلان احمد اصمعی قادری

Exit mobile version