طاہرالقادری اپنے تضادات کے آئینے میں
صحابہ کے لئے بے خطا و بے گناہ سے پہلے کا ایک نعرہ
نبی ﷺ کے صحابہ ۔۔۔۔ محفوظ عن الخطاء ( طاہرالقادری)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کیلئے بے خطا و بے گناہ کے نعرہ لگنے سے منہاجی روافض نے اپنا سینا پیٹنا شروع کر دیا تھا ۔ ان کے ماتم سے چھلنی سینے دیکھ کر جناب طاہر القادری کو بھی ان پرپیار آگیا اور انکی حوصلہ افزائی کی خاطر وہ بھی اس ماتم کدے میں اتر کر ان کا ساتھ دینے لگ پڑے اور اپنی تقریر میں ایسی ایسی بے سروپاہ گفتگو کی کہ شاید ہی اس سے قبل انہوں اتنی بے بنیاد گفتگو کی ہو ۔ گفتگو میں علم کی بجائے غم و غصہ کا پہلو نمایا ں تھا ۔ چودہ سو صدیوں پر مشتمل علماءو محدثین کا فضائل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کئے گئے کام سے صرف نظر کر لیا اور فضائل امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرنا خارجی نظریہ قرار دے دیا ۔ طاہرالقادری صاحب نے یہ بھی نہ سوچا کہ ماضی میں وہ خود صحابہ کیلئے اس سے بڑا نعرہ لگا چکے ہیں۔
نعرہ بے خطا و بے گناہ قابل تاویل نعرہ ہے کیونکہ اس کی بنیاد خطائے اجتہادی ہے اور خطائے اجتہادی قابل مواخذہ نہیں ہوتی بلکہ اس پر ایک درجہ ثواب ملتا ہے اور ثواب قابل مواخذہ عمل پر نہیں ہوا کرتا ۔ اس میں صرف حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہی شامل نہیں بلکہ صحابہ رضی اللہ عنہ کا ایک جم غفیر شامل ہے۔ خطائے اجتہادی جس کو خود جناب طاہر القادری بھی تسلیم کرتے آئے ہیں پھر اچانک اتنا شور شرابا کیوں ؟ طاہرالقادری صاحب کا پرانا پینترا ہے کہ ہمیشہ ماحول میں ڈھل جاتے ہیں اور بالکل بھول جاتے ہیں کہ اس سے قبل ان کا کسی مسئلے میں کیا موقف رہا ہے ۔۔۔ !( اب یہ بھولنا دانستہ ہے یا غیر دانستہ اس کی وضاحت وہی کر سکتے ہیں ) یہاں تک کہ ناموس رسالت ﷺ جیسے حساس مسئلے پر بھی ان کا اردو اور انگلش موقف بالکل متضاد ہے جسے کی علیحدہ قسط پیش کی جائے گی ہے ۔
آئیے ہم طاہر القادری صاحب کو ان کی پرانی تحاریر کی طرف لئے چلتے ہیں شاید کہ انکی یاداشت واپس لوٹ آئے اور وہ راہ اعتدال اپنا سکیں ۔ ان کے متعصب پیرو کار جو آجکل ان کی تحاریر و تقاریر کی بجائے اوروں کی تعلیمات کو عام کر رہے ہیں ، اور یہ اوروں کی تعلیمات ایسی ہیں جوکہ خود طاہرالقادری کے حالیہ نظریات سے بھی شدت سے ٹکراتی ہیں لیکن منہاجی روافض اپنی منشاء و سہولت کی خاطر ہر کسی کا استعمال کرتے ہیں، جس کی ایک مثال یوں سمجھئے کہ طاہرالقادری نے کہا کہ جس شخص نے بھی میرے سامنے میری زندگی میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام صرف معاویہ لیا میں نے اسے سختی سے ڈانٹا اور مجھے اس کے اس عمل پر افسوس بھی ہوا ، لیکن قارئین آپ سوشل میڈیا پر منہاجی روافض کی اپنے شیخ الاسلام کے قول سے سر عام بغاوت کا حال ملاحظہ کر سکتے ہیں ۔
————————————————————
طاہر القادری صاحب ایک کتاب ” عقیدہ ختم نبوت اور فتنہ قادنیت ” میں قادیانیوں کو شان صحابہ رضی اللہ عنہم سمجھاتے ہوئے لکھتے ہیں ( کاش ایسے ہی یہ اپنے حواریوں کو بھی سمجھا دیتے )
” صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین : اہل جنت کو جونعمت جنت میں ایک طویل عرصے کے بعد نصیب ہوگی وہ اللہ کی رضا کا اعلان ہوگا ۔ مگر صحابہ کرام وہ نفوس قدسیہ کہ جنہیں اللہ تعالٰی نے رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ کی بشارت عظمیٰ دنیا میں ہی نصیب فرما دی تھی ۔ انہیں اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کی معیت کیلئے بطور خاص چنا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ اگرچہ معصوم نہیں تھے لیکن محفوظ عن الخطا ضرورتھے۔۔۔۔۔۔ کیونکہ صحبت نبویﷺ نے ان میں وہ ملکوتی صفحات پیدا فرمادی تھیں جو کسی اور کے حصے میں نہیں آئیں ۔ قرآن وحدیث خود ان کی عظمت اور فضائل کے شاھد ہیں ۔ حضور ﷺ نے ان کی محبت کو اپنی محبت اور ان سے دشمنی کو اپنے سے دشمنی قرار دیا اور ان کے خلاف زبان دراز کرنے والوں کو لعنت کی وعید سنائی اور مرزا قادیانی لعنتوں کا یہ حصہ وصول کرنے میں بھی کسی بدبخت سے پیچھے نہیں رہا “
