روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس نماز کو دیرسے پڑھاکروکیونکہ تم کو اس کی وجہ سے ساری امتوں پر بزرگی دی گئی کہ تم سے پہلے یہ نماز کسی امت نے نہ پڑھی ۱؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی چونکہ نمازعشاءتم ہی کو ملی ہے اس لئے اسے دیر میں پڑھاکرو تاکہ تمہیں انتظارِ نماز کا ثواب ملے اور اس کے بعد زیادہ باتوں کا وقت نہ رہے فورًا سوجایاکرو۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور کی امت ساری امتوں سے افضل ہے۔اس فضیلت کی بہت سی وجوہ ہیں:جن میں سے ایک عشاء کا ملنا بھی ہے۔خیال رہے کہ نمازعشاء ہم سے پہلے کسی امت پر فرض نہ تھی،ہاں بعض نبی بطور نفل اسے پڑھتے رہے ہیں،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں جس میں جبریل نے عرض کیا تھاکہ یہ اوقات آپ کے اور آپ سے پہلے انبیاء کی نمازوں کے وقت ہیں اور نہ اس روایت کے خلاف ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے وادی سینا سے آکر اپنی بیوی”صفوراء”کو بخیریت پاکرنمازعشاءپڑھی۔