Site icon اردو محفل

انجينئر مرزا کی باطل نوازی اور ملمع سازی

ڈاکٹر نعیم الدین الازہری کے قلم سے

انجينئر مرزا کی باطل نوازی اور ملمع سازی

براہ کرم پوری تحریر کا مطالعہ کریں

معزز قارئین ! یہ ایک مسلمہ قاعدہ اور اصول ہے کہ جب بھی کسی قوم یا قبیلے پر کوئی دشمن مختلف ہتھیاروں سے لیس ہو کر حملہ آور ہوتا ہے اور طرح طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے گزند پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے ردعمل میں اس قوم کے افراد کچھ وقت لیے ہی سہی اپنے داخلی اختلافات اور تنازعات کو بھلا کر دشمن کے مقابلے میں صف آراء ہو جاتے ہیں اور اپنی رنجشوں کو پس پشت ڈال کر دشمن سے نبرد آزما ہوا کرتے ہیں .

لیکن اگر ایک طرف دشمن پوری قوت سے حملہ آور ہو اور دوسری طرف قوم کا کوئی فرد اپنی ہی قوم کی صفوں میں بیٹھ کر دشمن کی ہمنوائی شروع کر دے اور طرح طرح کی دلیلیں گھڑ کے دشمن کا کام آسان کرنا شروع کردے تو ایسے شخص کو منافق , غدار اور خبیث الفطرت کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے .

یہ طویل تمھید اس لیے عرض کی کہ موجودہ حالات میں جبکہ قادیانی مختلف طریقوں سے پاکستان میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں اور اب اقلیتی کمیشن میں گھس کر پاکستان میں اپنا دعوتی عمل تیز کرنا چاہتے ہیں

ان مخدوش حالات میں انجینیر مرزا اور اس جیسے چند نفرت آمیز لوگ قادیانیوں کا ردِّ بلیغ کرنے کے بجائے ان کی ہمنوائی میں مصروف ہیں .

آج مورخہ یکم مئی 2020 انجینیر مرزا نے اپنے فیس بک پیج پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں کہتا ہے کہ ” مرزا قادیانی کو برا بھلا کہنے کے بجائے اپنے ان بابوں کو پکڑو جنہوں نے فلاں فلاں عبارات کہی ہیں . مزید کہتا ہے کہ مرزا قادیانی میں اور تمہارے بابوں میں صرف اتنا فرق ہے کہ مرزا قادیانی شراب کو شراب سمجھ پی گیا اور انہوں نے انگور کا شربت کہہ کر پی لی “(العیاذ باللہ )

یاد رکھیں ان مخدوش حالات میں ایسے جملے ایک دشمنِ دین , بد باطن اور نفاق سے بھری سوچ والا فرد ہی کہہ سکتا ہے .

میں انجینیر مرزا سے مخاطب ہو کر درج ذیل باتیں علی الاعلان کہنا چاہتا ہوں !!!

1- انجینیر مرزا صاحب ! بزرگانِ دین اور اولیائے کرام کو مرزا غلام قادیانی ملعون کے ساتھ کھڑا کرنے کی جو مذموم کوشش تم نے کی ہے یہ تمہارا اپنا بیانیہ نہیں بلکہ یہ تمہارے مہا گرو غامدی صاحب کا بیانیہ ہے جسکا اظہار وہ کئی بار کر چکے ہیں .

کاش آپ کو پتہ ہوتا کہ قیاس کی شرائط کیا ہیں . قیاس مع الفارق کسے کہتے ہیں اور مسلمان و کافر میں تمییز کیسے کی جاتی ہے .

حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان عالی شان ہے کہ جس نے کسی مسلمان کو کافر کہا تو وہ کفر خود اسکے اپنے اوپر لوٹ آتا ہے . آپ نے حضرت بایزید بسطامی , شیخ فرید الدین عطار , حضرت علی بن عثمان ہجویری اور دیگر کئی اولیاء کو بین السطور “کافر” کہا اس حدیث کے مطابق یہ فتوی آپ کے اپنے اوپر لگ سکتا ہے .

2- بعض اولیائے کرام کے متعلق چند کتابوں میں جو قابل اعتراض عبارات موجود ہیں ان کو عربی میں ” شطحات” کہتے ہیں اور انکے متعلق عربی زبان میں علمائے کرام کی مفصل تصنیفات موجود ہیں جن میں تفصیل سے ایسی باتوں کا حکم بیان کیا گیا ہے کاش آپ زحمت کر کے کوئی ایک کتاب پڑھ لیتے تو یہ بد گمانی پیدا نہ ہوتی .

ڈاکٹر عبد الرحمن بدوی کی کتاب ” شطحات الصوفیہ” اس سلسلے میں قابل مطالعہ ہے . چند حاصل مطالعہ باتیں درج ذیل ہیں .

»جس نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا پھر ساری زندگی اس جھوٹے دعوے کی آبیاری میں بسر کی .

» جس نے لفظ “خاتم النبیین” کی من مانی تشریح کی .

»جس نے نئے مذھب اور عقیدے کی بنیاد رکھی اور سارے مسلمانوں کو کافر گردانا .

» جس نے کہا کہ میرے اوپر وحی انگلش زبان میں آتی ہے.

»جس نے اپنے چیلوں کے نام خلفائے راشدین کے نام پر رکھے

» جس نے روحانی خزائن اور اس جیسی ڈھیروں کتابوں کے ذریعے حضور کی نبوت پر صریح حملہ کیا اور جس کی عبرت ناک موت بھی اسی حالت کفر میں ہوئی .

مرزا انجینیر جی ! ذرا سوچیں! کہ مرزا قادیانی کو کچھ کہنے سے آپکے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھتے ہیں . اپنی برادری سے تعلق ہونے کی وجہ سے خون جوش مارتا ہے یا کوئی اور سبب ہے !!!

لکن افسوس صد افسوس ! انجینئر مرزا جیسے نفرت سے معمور لوگوں کو کتاب فطرت پر رقم یہ گواہیاں نظر نہیں آتیں , اور پھر بڑی رعونت سے کہتا ہے کہ میں کلمہ حق کہہ رہا ہوں . اگر یہ کلمہ حق ہے تو میں عرض کروں گا کہ

کلمۃ حق ارید بھا الباطل

یہ ایسا کلمہ حق ہےجس کے ذریعے باطل کا ارادہ کیا گیا ہے .

اللہ ریم اپنی جناب سے ہدایت اور رحمت عطا فرمائے.

کاتب السطور

محمد نعیم الدین الازھری

Exit mobile version