أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ يَوۡمَئِذٍ مُّقَرَّنِيۡنَ فِى الۡاَصۡفَادِۚ ۞
ترجمہ:
اور آپ اس دن مجرموں کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھیں گے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ اس دن مجرموں کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھیں گے۔ (ابراھیم : 49)
مجرموں کے اخروی احوال :
الاصفاد : اس کا معنی طوق زنجیر اور بیڑیاں ہے۔
اس کا معنی یہ ہے کہ کافر اپنے شیطان کے ساتھ زنجیر یا طوق میں جکڑا ہوا ہوگا۔ حدیث میں ہے :
اذاکان اول لیلتہ من شھر رمضان صفدت اشیاطین و مردہ الجن جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو سرکش جنون اور شیاطین کو زنجروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ ( سنن الترمذی رقم الحدیث : 682، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1642)
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 14 ابراهيم آیت نمبر 49
