روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو مؤذن کی اذان سنے اور اس کی اطاعت سے کوئی عذر منع نہ کرے لوگوں نے کہا عذر کیا ہے فرمایا ڈر یا بیماری تو اس کی وہ نماز قبول نہ ہوگی جو گھر میں پڑھے ۱؎(ابوداؤد)اور دارقطنی۔
شرح
۱؎ ڈر سے مراد دشمن یا موذی جانور کا خوف ہے جو گھر یا مسجد کے درمیان حائل ہو۔مرض سے مراد وہ بیماری ہے جو مسجد میں آنے سے روکے،ان دونوں حالتوں میں گھر میں نماز پڑھ لینے کی اجازت ہے لیکن اگر کوئی ان صورتوں میں بھی بتکلف مسجد میں پہنچ جائے تو ثواب پائے گا جیسا کہ اگلی روایتوں میں آرہا ہے کہ صحابہ کبار سخت بیماری میں بھی دوسروں کے کندھوں پر مسجد میں آتے تھے،یہ عزیمت پر عمل تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تارک جماعت کی نماز شرعًا جائز ہوگی اگرچہ عنداﷲ قبول نہ ہو،نماز جمعہ وعیدین اکیلے جائز ہی نہیں ان کے لیے جماعت شرطِ جوازہے۔