روایت ہے حضرت قیس ابن حازم سے فرماتے ہیں کہ مجھے ابو مسعود نے خبر دی کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ خدا کی قسم میں فلاں کی وجہ سے نماز فجر سے پیچھے رہتا ہوں کیونکہ وہ دراز بہت کرتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن سے زیادہ کسی وعظ میں غضب ناک نہ دیکھا پھر فرمایا کہ تم میں سے بعض نفرت والے ہیں جو کوئی بھی لوگوں کو نماز پڑھائے وہ مختصر کرے کیونکہ ان میں کمزور بوڑھے اور کام کاج والے ہیں ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ امام کے قصور کی بنا پر اگر کوئی شخص جماعت چھوڑ دے تو گنہگار وہ نہیں ہے بلکہ امام،نیز حاکم یا بزرگ کے سامنے امام کی شکایت کردینا جائز ہے،نہ یہ غیبت ہے اور نہ امام کی سرتابی،نیز حاکم مقتدیوں کے سامنے امام پر سختی بھی کرسکتا ہے اور ملامت بھی،اس میں اس کی اصلاح ہے نہ کہ ذلیل کرنا۔درازی ٔ نماز اگرچہ عبادت ہے مگر جب کہ اس سے کوئی خرابی نہ پیدا ہو۔