روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاروں کے بعد دو رکعتیں ہیں فجر سے پہلے اور سجدوں کے بعد دو رکعتیں مغرب کے بعد ۱؎(ترمذی)
شرح
۱؎ اس میں سورۂ طور اور سورۂ قٓ کی دو آیتوں کی طرف اشارہ ہے”وَ مِنَ الَّیۡلِ فَسَبِّحْہُ وَ اِدْبٰرَ النُّجُوۡمِ” اور دوسری آیت”فَسَبِّحْہُ وَ اَدْبٰرَ السُّجُوۡدِ”حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شرح یہ فرمائی کہ پہلی آیت میں فجر کی دو سنتیں مراد ہیں کیونکہ وہ تارے ڈوبنے کے بعد ہی پڑھی جاتی ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ فجر اجالے میں پڑھنی چاہیے نہ کہ اندھیرے میں کیونکہ اس وقت تارے ظاہر ہوتے ہیں چھپے نہیں ہوتے ۔”وَ اَدْبٰرَ السُّجُوۡدِ” سے مراد مغرب کے فرض ہیں ان آیتوں کی اور بہت تفسیریں کی گئی ہیں مگر یہ تفسیر قوی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔