روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت اس قدر تھی کہ اسے صحن والے سن لیتے جب کہ آپ کوٹھڑی میں ہوتے ۱؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ مرقاۃ ولمعات وغیرہ نے فرمایا کہ یہاں حجرے سے مراد گھر کا صحن ہے اور بیت سے مراد کوٹھڑی یعنی آپ کی تلاوت درمیانی تھی یہ عمومی حالات کا ذکر ہے ورنہ کبھی اس سے زیادہ آواز بھی ہوتی تھی اور کبھی کم بھی۔