روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے پانچ رکعت وتر پڑھتے جن میں آخر کے سوا کہیں نہ بیٹھتے ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم شب میں آٹھ رکعت تہجد اور پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، اس طرح کہ ان پانچ رکعتوں میں درمیان میں سلام کے لیئے نہ بیٹھتے بلکہ سلام آخر میں ایک بار پھیرتے تھے،یہاں بیٹھنے سے مراد سلام کے لیئے بیٹھنا ہے نہ کہ التحیات کے لیئے بیٹھنا کیونکہ ہر وقت نماز میں ہر دو رکعت پر بیٹھنا التحیات پڑھنا تمام آئمہ کے ہاں واجب ہے۔خیال رہے کہ پانچ رکعت وتر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا فعل شریف تھا جو بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا۔چنانچہ ان ہی عائشہ صدیقہ کی روایات اسی باب میں تین رکعت وتر کی آرہی ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل ہے جو اس عمل کا ناسخ ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔