روایت ہے انہی سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا صبح سے پہلے وتر پڑھ لو ۱؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یہ حکم وجوبی ہے کیونکہ وتر کا وقت عشاء کے بعد صبح تک ہے۔ بعض علماء نے اس حدیث کی بناء پر فرمایا کہ وتر کی قضا نہیں مگر صحیح یہ ہے کہ قضا ہے حتی کہ اگر صاحب ترتیب کے وتر رہ گئے ہوں اور وہ عمدا ً وتر بغیر قضاء کیئے فجر پڑھے تو اس کی فجر نہ ہوگی یہی امام اعظم کا قول ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ جو وتر سے سو جائے وہ صبح کے بعد پڑھ لے اس لیئے امام شافعی بھی قضاء وتر کے قائل ہیں۔