روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ وتر آخری رات میں ایک رکعت ہے ۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہاں وتر لغوی معنے میں ہے یعنی ساری تہجد کو وتر(طاق)بنانے والی وہ ایک رکعت ہے جو دو کے ساتھ ملادی جائے یہ مطلب نہیں کہ وتر کی ایک ہی رکعت ہوتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بُتَیْرَا یعنی ناقص نماز سے منع فرمایا، ایک رکعت ناقص ہی ہے،نیز کوئی فرض نماز ایک رکعت نہیں یا دو رکعت ہیں یا چار یا تین،و تر دو یاچار رکعت تو ہو نہیں سکتی لہذا صرف تین ہی ہوگی،آخری رات فرما کر یہ بتایا کہ وتر کا وقت مستحب آخر شب ہے۔