أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فِى النَّارِؕ هَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اور جو لوگ برائی لے کر آئیں گے تو ان کو منہ کے بل دوزخ میں گرا دیا جائے گا “ اور تم کو ان ہی کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے
اس کے بعد فرمایا : اور جو لوگ برائی لے کر آئیں گے تو ان کو ان کے منہ کے بل دوزخ میں گرا دیا جائے گا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ النمل : ۸۹میں الحسنہ ( نیکی) سے مراد لا الہٰ الا اللہ ہے اور النمل : ۹۰ میں السیہ سے مراد شرک ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد ‘ عطا ‘ قتادہ اور حسن بصری وغیرہم سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ (جامع اللنیان جز ٢٠ ص ٣٠۔ ٨٢‘ مطبوعہ دا الفکر بیروت ‘ ٥١٤١ )
القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 90
