روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا کہ وتر لازم ہیں تو جو وتر نہ پڑھے وہ ہم سے نہیں وتر لازم ہیں جو وتر نہ پڑھے وہ ہم سے نہیں وتر لازم ہیں تو جو وتر نہ پڑھے وہ ہم سے نہیں ۱؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی وتر فرض عملی اور واجب اعتقادی ہیں۔(مرقاۃ)لہذا جو اس کے وجوب کا عنادًا انکار کرے وہ ہمارے طریقہ سے خارج یعنی گمراہ ہے اور جو اسے واجب جانتے ہوئے نہ پڑھے وہ جماعت صالحین سے خارج ہے اور سخت گنہگار ہے،یہ امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ وتر واجب ہیں۔خیال رہے کہ جو مجتہد تاویل سے اس کے وجوب کا انکار کرے ان کا یہ حکم نہیں جیساکہ تمام فرائض عملی اور واجبات کا حال ہے ۔ہم امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے کو سخت منع کرتے ہیں،امام شافعی واجب فرماتے ہیں مگر کوئی کسی کو گمراہ نہیں کہہ سکتا۔