روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے تو بیٹھے ہوئے پڑھتے رہتے جب آپ کی قرأت سے تیس چالیس آیتوں کی بقدر رہ جاتی تو کھڑے ہو کر قرأت کرتے پھر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں اسی طرح کرتے ۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آخر حیات شریف کا ذکر ہے جب آپ پر ضعف غالب ہوگیا تھا تہجد میں دراز قرأت کرنا چاہتے تھے مگر دراز قیام پر قوت نہ تھی اس لیئے یہ عمل فرماتے۔خیال رہے کہ نفل بیٹھ کر شروع کرنا اور کھڑے ہو کر رکوع سجود کرنا تمام کے نزدیک بلا کراہت جائز ہے اسی حدیث کی وجہ سے مگر اس کے برعکس یعنی کھڑے ہو کر شروع کرنا پھر بلا عذر بیٹھ جانا یہ امام اعظم کے نزدیک بلاکراہت جائز ہے ،صاحبین کے ہاں مکروہ۔(کتب فقہ و مرقاۃ)